فوزیہ بٹ

 

 

 

 

 

 

 

 

 ہاں میں درد عشق دا چکھیا اے

کسےدی گل تے کن نہ تریا
پیار دے اگے دل میں ہریا
آپ ای اودا ہتھ نہ پھڑیا
دنیا کولوں دل سی ڈریا
پنڈاُعشق دی اگ وچ سڑیا
ابراہیم تے میں نہیں فیر وی
کیوں اپنے آپ نوں اگ وچ سٹیا اے
میں درد عشق دا چکھیا اے

کج نہیں چیتا پل بیٹھےآں
ککھاں دے وچ رل بیٹھے آں
اوناں ٹھنڈیاں مٹھیاں باتاں دی
ہر اک نشانی مٹا بیٹھے آں
پر اے وی سچ اے کج یاداں نوں
بڑا سنبھال کے رکھیا اے
میں درد عشق دا چکھیا اے

ہن کسے نہیں آنا جانا
کسے نہیں بوے تے بھیرا پانا
آس امید نہیں ٹٹ دی مر جانی
اینج لگدا جیویںُ مکی نہیں کہانی
پتہ نہیں کیوں سمجھ نہیں آندی
اسی کیوں ادھا بوا کھول کے رکھیا اے
میں درد عشق دا چکھیا اے

ہسدے وسدے دن پئے لنگدے
اسی کسےتوںُ کج نہیں منگدے
اینج لگداجیویں اسی اپنے آپ نو
اساں رولے وچ ای رکھیا اے
میں درد عشق دا چکھیا اے

جاندیاں واری جیڑیاں ہوکے ہاواں
اودا مل کدے نہ پاواں
اوناں کیتیاں سوکھیاں راہواں
آکھیا سی اونے کوئی گل
دل تے نہ لاواں
جاندیاں جاندیاں اودی اکھ دا اک اتھرو
اساں اکھ اپنی چو رکھیا اے
میں درد عشق دا چکھیا اے

سارے داغ مٹا دتے نے
سارے دیوے بجھادتے نے
سارے خط جلا دتے نے
سکے پھل اڑا دتے نے
پتہ نہیں کیوں تے کس دے لئی
اساں اک خط لکا کے رکھیا اے
میں درد عشق دا چکھیا اے

 

فوزیہ بٹ


 

 

 

محبت تو نبھانی تمُ کو سکھانے سے نہیں آئی
میری ادنی خواہش ہے اب تعلق توڑنا سیکھو
سب سے پہلے سمیٹو اپنی دی ہوئی چیزیں
ہونٹوں کی ہنسی! دل سے خوشی!
اورجو دی تھیں وہ امیدیں
لےجاو اےصاحب حوصلہ۔عہدوفا۔
اور پلٹ آنے کی سب راہیں
نظر انداز کردو۔آنسو۔آہیں اور پھیلی ہوی بانہیں
پھر امنگوں آرزوں اقرار محبت کو کفن اوڑھا دینا
جو لکھے تھے محبت میں ہمُ نے وہ سب خط جلا دینا
اور ہاں جو یہ دل پاگل دیوانہ تمہارے نام پہ دھڑکے
جو لی تھیں سب خطائیں اپنے سر دنیا سے یوں لڑ کے
پھر اسی دل کو یادوں کے بندھن سے پوری طرح آزاد کرتے ہیں
یا یوں کہُ لو اس دل کو پوری طرح بر باد کرتے ہیں
اور ہاں آنکھوں میں اپنا عکس ہونٹوں پہ اپنا نام چھوڑ کر نہ جانا
اور یوں بہانے سے کچھ رہ گیا کہ کر بار بار نہ آنا
یہ مشکل نہیں تم اپنی اک اک چیز کو گن لو
اور سادہ سی زباں میں ہماری
آخری بات سن لو
کہ تعلق توڑنا ہو تو مکمل توڑ دیتے ہیں
جس کو چھوڑنا ہو تو اک دم چھوڑ دیتے ہیں
چلاو اپنی زباں کے تیر جو جگر کے پار جاتے ہیں
جس کو چھوڑنا ہو تو بس اس کو مار جاتے ہیں

فوزیہ صدیق بٹ


سمجھےتھےآسان بہت ہے ترکِ تعلق کر لینا

کتنا مشکل کام تھا لیکن بعد میں یہ معلوم ہوا

دل کو ہم سمجائیں کیسےدل تو اس کا دیوانہ
دل سے اس کا رشتہ کیا ہے بعد میں یہ معلوم ہوا

بیٹھے بیٹھے ! بیٹھےرہنا کچھ نہ کہنایا کہتے رہنا

اپنے ساتھ یہ قصہ کیا ہے بعد میں یہ معلوم ہوا

جلتی آنکھیں! جلتی آہیں!انگارےہیں راہوں میں
یہ آتش بھی خود ہی لگائی بعد میں یہ معلوم ہوا

پاس رہے تو جاں کو جلائےجب جائے تو جان بھی جائے

کرتے تھے ہمُ اس سے محبت بعد میں یہ معلوم ہوا

بند آنکھوں میں منظر سارے آنکھ کھلے تو ویرانے

ویرانے بھی خود ہی بنائے بعد میں یہ معلوم ہوا

اتنے عرصے بعد بھی دل کے اندر بھی وہ باہر بھی وہ

اس کو محبت کہتے ہیں سب بعد میں یہ معلوم ہوا

 

فوزیہ بٹ

 

 

 


 

دل کے کبھی کسی کو بھی احوال نہ کہے
ہم خود ہی اپنے آپ سے گھبرا کے رو پڑے

جب بھی ہوا سوال کہ کیوں فاصلے رہے
سوچا بہت مگر جواب نہ پا کر رو پڑے

پھر سلسلے کسی شبِ ویران کے رہے
پھر یوں ہوا کہ خواب میں گھبرا کے رو پڑے

کچھ حوصلوں میں میرے کمی تو نہ تھی مگر
پھر کیوں جبارِ عصر سے ٹکرا کے رو پڑے

 

 


 

 

                   ماضی

 

 

جب بیٹھے بیٹھےسب کے درمیاں
کوئی الگ ہی محفل جمی ہو
اور آنکھوں میں نمی ہو
چہرے پہ غمی ہو
یہی ھے ماضی۔ یہی ہےماضی
کھبی چونک جانا
کھبی کھو ہی جانا
وہ دل کادھک ہو کے رہ جانا
یہی ہے ماضی یہی ہے ماضی
کھبی کھبی دبا دبا سا ہنسہنا
کہ جیسےکوئی گد گدا رہا ہو
پھرسر کو جھٹک کے انکار کرنا
کہ جیسے کوئی بلا رہا ہو
یہی ہے ماضی یہی ہے ماضی
لبوں میں کوئی گیت گانا
پھر خود ہی روٹھنا اور منانا
وہ آنکھوں آنکھوں میں ہاں بھی کرنا
اور نہ بھی کرنا
یہی ہے ماضی یہی ہے ماضی
کھبی خیالو ں کا آئینہ بن کر
یوں سامنے آنا کہ
کھلی نظر میں کسی کو پانا
پھر یوں ہی ہولےسے “ہوں” بھی کہنا
یہی ہے ماضی یہی ہے ماضی
پھر سرد آہوں میں سرد ہونا
وہ بار بار سر میں درد ہونا
پھر تھک کے تکیےپہ سر جھکانا
تھرکتے پھڑکتے آنسئوں کو
زور سےآنکھ بند کر کے گرانا
یہی ہے ماضی یہی ہے ماضی
وہ ایک آنسو جو ایک پل میں
ماہ و سال کا سفر کر کے پلٹا
پلٹ کے ہے ٹپکا
اور اب انگلیوں کے پوروں پہ چمک رہا ہے
یہی ہے ماضی یہی ہے ماضی

 

فوزیہ صدیق بٹ

 


 

 

اسے کہنا

اسے کہنا میں بس اک بات یونہی بتانا چاہتی ہوں
کچھ تمہارے علم میں لانا چاہتی ہوں
اسے کہنا جو تمُ نےجاتےجاتے
مجھ کو اک دعا دی تھی
ہاں
تم نے کہا تھا
میں بن مانگےدنیاکی ہرخوشی پاوں
اتنی محبت ملے کہ میں اسے سنبھال نہ پاوں
میں ہمیشہ ہنستی رہوں کھلکھلا تی
رہوں
ہنسوں اور ہنساتی رہوں
میراآنچل ستاروں سے بھرے
مجھ کو کوئی تم سےزیادہ پیار کرے
اتنی شدت سے چاہے
کہ میری یاد بھی نہ آئے
میری دعا ہو قبول
تمُ مجھے جاو بھول
اسے کہنااس کی سب دعائیں رنگ لائی ھیں
میری قسمت میں ستارے رنگ خوشیاں آئی ہیں
مجھے بن مانگےدنیا کی ہر خوشی کا ہوا ہے حصول
ہاں مگر
اسے کہنااس کی اک دعا نہیں ہوئی قبول میں چاہ کر بھی تم کو نہیں پائی بھول
تمہاری بس یہی دعا نہیں ہوئی قبول
اسے کہنا

 

 

فوزیہ بٹ

 

 


 

 

                    ماں

 

 

 

رب نے اپنے بندیاں اُتےکیتے کرم نے بوتے سارے
دھرتی اُتے پھل نے لائےتے اسمانی چن تارے

ایڈی سوہنی فنکاری ہےہر شے لگی تھاوں تھاں
جس رب نےاےسب کج دتااس رب دے میں صدقےجاں

سب توں اچی تے سچی نعمت جگ تے پیاری سوہنی ماں

اودا دل سمندروں ڈونگا
اودا پیارجہانوں دوجا
اودے ہتھ شفا اے ساری
ماں پیاری تیرے کی کینے
ساریاں کھٹیاں مٹھیاں گلاں
سارے طعنے معنے
اودے دل وچ سب دی تھاں
سب توں اچی تے سچی نعمت جگ تے پیاری سوہنی ماں

جنت نوں ارماں بڑاسی
اپنے تے گماں بڑا سی
او آکھی میری ہستی وڈی
میں اں سب چیزاں توں بگی
فیر اونوں جیویں سکتہ ہویا
ماں دے قدماں وچ آ ڈگی
اودی گل نہ منے اے گل
میں ماں دے قدماں وچ ہاں
سب توں اچی تے سچی نعمت جگ تےپیاری سوہنی ماں

رب رحمن دیاں صفتاں والا
کوئی نہیں اودی شان ونڈاون والا
ماں دے دل وچ رحمت پائی
اودے نالُ ونڈی خدائی
ماں بچیاں نوں رب دی تھاں
سب توں اچی تے سچی نعمت جگ تے پیاری سوہنی ماں

پیارے نبی نے فرمایا
کر لو خدمت ماں دی
جس نےُکعبہ تکنا ہووے
تک لئے صورت ماں دی
ماں نوں راضی کرکے بندیا
کرلے رب نوں راضی
ماں ورگی کوئی شے نہ جگ تے
اودے رتبے نوں ہن میں کی کواں
سب توں اچی تے سچی نعمت جگ تے پیاری سوہنی ماں
ماواںُ باجوں کیڑا اے سکھیو
جیڑادل دے درد ونڈاوے
جے بچیاں نوں کنڈا وی چبے
دل ماں دا ڈولے کھاوے
اے ربا اے در کھلا رکھیں
سدا آندیاں ریں دعاواں
ایہو دعا اے میری ربا
نہ مرن کدی وی ماواں
سارے رل مل ہم آمین بولو
کیوں پے گئ اے چپ شاں
سب توں اچی تے سچی نعمت جگ تے پیاری سوہنی ماں

 

 

فوزیہ بٹ

 

 


 

 زیر لب اس نے بھی کہا ہے کچھ
دل کے کانوں نے سن لیا ہے کچھ

وقت رخصت تھے اشک آنکھوں میں
وہ بھی ان میں نہ پڑھ سکا ہے کچھ

دل جو قابو میں تھا نہیں میرے
آج پھر بے قرار سا ہے کچھ

ارے او ۔۔ عشق جا بھلا تیرا
چھوڑ دے جان گر حیاء ہے کچھ

حال دل کا سنا تو یوں بولے
آپ نے مجھ سے پھر کہا ہے کچھ

عشق اپنا ہی معتبر نہ ہوا
مجھ سے شاید ہوئی خطا ہے کچھ

اس زمانے میں کھلکھلاتے ہو
یہ دعاؤں کا معجزہ ہے کچھ

دیر تک رتجگا رہا کل شب
آنکھ میں بھی خمار سا ہے کچھ

روز محشر کہوں گی میں رب سے
آج میں نے بھی پوچھنا ہے کچھ

یونہی آنسو بہائے جاتے ہو
کہ بھی ڈالو جو بولنا ہے کچھ

ان کو دیکھا تو دل میں ہلچل ہے
مجھ کو لگتا ہے پیار سا ہے کچھ

جب سے رب سے تجھے ہے مانگ لیا
اور مانگی نہیں دعا ہے کچھ

ہیں دعائیں ہی بے اثر فوزی
میں نے مانگا تھا کیا ، ملا ہے کچھ

 

 

فوزی بٹ

 

 

 


 

 

مجنوں کہیں جسے یا بیچارا کہیں جسے
مجھ سا کوئی کہ عشق کا مارا کہیں جسے

تم کیا گئے کہ آنکھ کی پتلی چلی گئی
اب کون ہے کہ آنکھ کا تارا کہیں جسے

جس جس کو تم نے چاہا تھا سارے چلے گئے
اک رہ گیا ہوں میں کہ تمہارا کہیں جسے

تم تھے تو سارے پیار کے القاب یاد تھے
اب کون ہے کہ جان سے پیارا کہیں جسے

اک دل تھا میرے پاس کہ وہ بھی نہیں رہا
اب کچھ نہیں ہے ایسا ہمارا جسے کہیں

یوں تو ملے ہزاروں مگر وہ نہیں ملا
دنیا کے اس ہجوم میں اپنا کہیں جسے

دل کی شکستہ ناؤ تو اب ڈوبنے کو ہے
ملتی نہیں جگہ کہ کنارہ کہیں جسے

اس جائے پر عذاب کا میں نام کیا رکھوں
یہ وہ جگہ نہیں ہے کہ دنیا کہیں جسے

الفت کمائی فوزی منافع وہیں ہوا
سارے جہاں کے لوگ خسارہ کہیں جسے

 

 

فوزی بٹ

 

 


 

 

 

جنون وعشق میں حاصل کمال بھی ہے مجھے
عروج ، حق سہی میرا ، زوال بھی ہے مجھے

وہ مانگتا رہا خیرات اس خزانے سے
دیا نہ کچھ اسے اس کا ملال بھی ہے مجھے

مرے غرور سے وہ شخص چکنا چور ہوا
خوشی کے ساتھ عجب سا ملال بھی ہے مجھے

صحیفے اس لئیے پڑھنا پڑے مجھے سارے
کہ کیا کناہ کہیں کچھ حلال بھی ہے مجھے

جو پر نہیں تھے تو کیوں چاند کی تمنا کی
پرند جان سے کرنا سوال بھی ہے مجھے

میں کیسے روند چلوں اپنے ہی گلستاں کو
میں باغبان بھی ہوں یہ خیال بھی ہے مجھے

سخن کے دشت کی ہرنی ہوں ان دنوں ۔۔۔۔۔
وہ شیر ‘ عشق میں پڑ کر غزال بھی ہے مجھے

 

فوزیہ بٹ


 

 

دل کے بازار میں تخمینئہ ناکام کے بعد
اصل قیمت کھلی میری ، میرے نیلام کے بعد

مفلسی ڈال چکی ہوتی ہے تصویر پہ دھول
وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد

ہم بھی قائل ہوئے مطلب کی محبت کے چلو
مطلبی ہو کے رہیں گے تیرے الزام کے بعد

میں وہ سیتا ہوں کہ دی اگنی پرکشا جس نے
پھر بسا دل میں نہ آنکھوں میں کوئی رام کے بعد

دن تو کٹ جاتا ہے ہنستے ہنساتے اپنا
اشک آنکھوں سے چھلک جاتے ہیں کیوں شام کے بعد

اب نہیں ڈر کہ شناسا نہ نکل آئے کوئی
راہ الفت میں تماشائے سرِعام کے بعد

یوں تو ناکام رہی اپنی محبت فوزی
چار سو دھوم مچائی مگر انجام کے بعد

 

فوزی بٹ

 


 

 

فسانہ دل کا نشر نہ ہو جائے
برا اپنا حشر نہ ہو جائے

وصل کی شب یہ فکر لاحق تھی
ہائے جلدی سحر نہ ہو جائے

وہ ہمیں مسکرا کے دیکھ ہی لیں
میرا غم معتبر نہ ہو جائے

ہم نہ ہاریں گے حوصلہ جب تک
دل تیرا میرا گھر نہ ہو جائے

ہم زمانے سے بے خبر ہی رہے
ہمیں اپنی خبر نہ ہو جائے

دیکھ کر تیرے حسن کا جلوہ
چاند محو سفر نہ ہو جائے

چلتے جائیں گے چال ہم جب تک
بازی الفت کی سر نہ ہو جائے

چھوڑ دے سستیاں ارے نادان
بند توبہ کا در نہ ہو جائے

نام جس میں تیرا نہ شامل ہو
وہ دعا بے اثر نہ ہو جائے

اس کی چوکھٹ پہ سر جھکا فوزی
جب تلک خاک ، زر نہ ہو جائے

 

 

فوزیہ بٹ

 

 

 


 

فسانہ دل کا نشر نہ ہو جائے
اس جہاں کو خبر نہ ہو جائے

وصل کی شب یہ فکر لاحق تھی
ہائے جلدی سحر نہ ہو جائے

وہ ہمیں مسکرا کے دیکھ ہی لیں
میرا غم معتبر نہ ہو جائے

ہم نہ ہاریں گے حوصلہ جب تک
دل تیرا میرا گھر نہ ہو جائے

ہم زمانے سے بے خبر ہی رہے
ہمیں اپنی خبر نہ ہو جائے

دیکھ کر تیرے حسن کا جلوہ
چاند محو سفر نہ ہو جائے

چلتے جائیں گے چال ہم جب تک
بازی الفت کی سر نہ ہو جائے

چھوڑ دے سستیاں ارے نادان
بند توبہ کا در نہ ہو جائے

نام جس میں تیرا نہ شامل ہو
وہ دعا بے اثر نہ ہو جائے

اس کی چوکھٹ پہ سر جھکا فوزی
جب تلک خاک ، زر نہ ہو جائے

 

فوزی بٹ

 

 

 

 

 

 

 

 

کوئی وی گل اخیر نہیں ہندی
غور دوبارہ ہو سگدا اے

آجا رل فیر کٹھیاں بئیے
درد دا چارا ہو سگدا اے

اپنی میں نوں مار لے بندیا
فیر گزارہ ہوسکدا اے

دل دا بوا ٹو نہ سجنا
ہجے نتارا ہو سکدا

ڈبدے نوں کوئی پچھ کے ویکھے
ککھ سہارا ہو سکدا اے

جے کِتے ہون مقدر چنگے
میل دوبارہ ہوسکدا اے

پردیسی مڑ وطناں نوں آون
کوئی دیھاڑا ہو سکدا اے

اپنے جے کدی دشمن ہو جان
فیر کباڑہ ہو سکدا اے

یاراں نال حساب جے کیتے
فیر خسارہ ہو سکدا اے

 

فوزی بٹ

 

 


 

 

جہاں میں جو سب کے کام آئے لوگ
فلک پہ تارے سے جگمگائے لوگ

زندگی میں جہاں نے بھلائے ہیں لوگ
مرگئے تو وہی ہیں یاد آئے لوگ

ایسی نظروں سے دیکھتے کیوں ہو
کیا کہیں گے ہمیں یہ ہائے لوگ

جب بھی اپنوں نے ہم کو چھوڑا ہے
ہم کو اپنائے ہیں پرائے لوگ

سوچتی ہوں میں فوزیہ اکثر
چپ کیوں ہیں دنیا کے ستائے لوگ

 

فوزی بٹ

 

 


 

ایسا لمحہ کوئی بھی گزارا نہیں
جس میں تم کو تڑپ کے پکارا نہیں

میری تحویل میں میرا دل نہ رہا
یہ تمہارا ہوا اب ہمارا نہیں

ساتھ دینا ہے تو عمر بھر دیجیئے
چار دن کا سہارا ، سہارا نہیں

اس کو امید تھی کہ بلا لیں گے ہم
ہم نے اپنی انا میں پکارا نہیں

ہم تو جگنو کے پیچھے ہی چلتے گئیے
دور جا کے لگا یہ ستارہ نہیں

اب میرے کام کا ہی نہیں یہ جہاں
اپنی مرضی کا کوئی نظارہ نہیں

میری کشتی رواں اپنی ہی موج میں
اپنی منزل کا کوئی کنارا نہیں

اب دھواں ہی دھواں رہ گیا آگ میں
اب نکلتا کوئی بھی شرارہ نہیں

عشق کے دشت میں خار ہی خار تھے
اپنے دامن کو ہم نے بھی جھاڑا نہیں

کتنے سفاک لہجے میں تم نے کہا
بھول جاؤ مجھے میں تمہارا نہیں

کتنے افسوس کی بات سچ ہے مگر
اپنا اپنا ہے غم ، اب ہمارا نہیں

اپنے دامن پہ فوزی کئی داغ ہیں
ہم نے دھو، کے کبھی بھی نکھارا نہیں

 

فوزی بٹ

 

 


 

جا رہے ہو تو سنو اتنا بتاتے جاؤ
بن تیرے کیسے جیئں یہ بھی سکھاتے جاؤ

کھائیں تھیں قسمیں بنائے تھے جو خوابوں کے محل
چھوڑ کے جاتے ہوئےان کو گراتے جاؤ

جان لے کے بھی میری تم کو تسلی نہ ہوئی
کیا ہے اونچائی محبت کی بتاتے جاؤ

دل میں گر دکھ نہیں دنیا کو دکھانے کے لئیے
میری تربت پہ بھی دو اشک بہاتے جاؤ

تن پہ جو زخم ہوئے ان کو تو میں سی لوں گی
روح گھائل نہیں اک تیر چلاتے جاؤ

حسرتیں جل کے ہوئیں خاک چتا کی صورت
استھیاں گنگا میں اب خود ہی بہاتے جاؤ

اک دیا آس کا جلتا ہے بجھائے نہ بجھے
اپنے ہاتھوں سے ذرا اس کو بجھاتے جاؤ

زندگی میں تو سدا اپنا یہ دستور رہا فوزی
آنکھ نم ہو بھی تو اوروں کو ہنساتے جاؤ

 

فوزی بٹ

 

 


 

 

وہ کہتے ہیں تم تو میری زندگی ہو
میں کہتی ہوں سچی کبھی سوجھتی ہے ؟

میرا دل تو میرے ہی قابو نہیں ہے
شرارت اسے ہر گھڑی سوجھتی ہے

محبت تو اب ہم کبھی نہ کریں گے
ہمیں اب نہیں عاشقی سوجھتی ہے

میں کہتی ہوں خود کو سنبھالو ذرا سا
انھیں ہر گھڑی بے خودی سوجھتی ہے

ذرا سا زمانے سے ڈرتے نہیں ہیں
ہمیں تو صرف بزدلی سوجھتی ہے

نہ گھبرانا فوزی تو باتوں پہ ان کی
انھیں تو بے پر کی ہی سوجھتی ہے

 

فوزیہ بٹ


 

 

 ایک غزل مزاج سے ہٹ کے احباب کی نظر

کچھ پھول ، خط تھے رکھے ہم نے چھپا چھپا کے
اب رو رہے ہیں تنہا ان کو جلا جلا کے

ایسا صنم ہے ظالم کچھ مانتا نہیں ہے
تھک ہار ہم گئیے ہیں اس کو منا منا کے

ان کے ہر اک ستم کو تقدیر اپنی جانا
کرتے ہیں ہم سے باتیں آنکھیں دکھا دکھا کے

ہم کہہ نہ پائے ان سے کرتے ہیں ہم محبت
خط بھیجتے ہیں ان کو ہم دل بنا بنا کے

بے درد ہیں بہت وہ ان سے تو کہہ نہ پائے
اپنے ہی ہونٹ کاٹے ہم نے دبا دبا کے

فوزی کا دل بھی توڑا الزام بھی لگائے
ایسے دیے ہیں طعنے بازو ہلا ہلا کے

 

فوزی بٹ

 

 


 

 

دین میں آئی ہے شدت دیکھنا

کیسی مذہب سے عقیدت دیکھنا

اپنے پیروں پہ کلہاڑی مارتے
ان کی تو خود سے عداوت دیکھنا

روز محشر دینے ہوں گے سب حساب
رب کی ہے اعلی عدالت دیکھنا

دین و دنیا میں نہ عزت پائیں گے
ہے مقدر میں ذلالت دیکھنا

خون کر کے یہ نہ جنت پائیں گے
ڈھونڈنے والوں کی غفلت دیکھنا

دعوی ہے جن کو نبی سے عشق کا
چہروں پہ ان کے تو وحشت دیکھنا

آن پہنچے گا خدا کا قہر جب
ظالموں پہ طاری دہشت دیکھنا

فوزی بجھ پائے دیا نہ آس کا
دور ہو جائے گی ظلمت دیکھنا

 

فوزی بٹ

 

 


 

روگ ہے دل کا یہ چاہت دیکھنا
جان لیوا ہے محبت دیکھنا

کر رہے ہو تم خطاؤں کو قبول
مار ڈالے گی ندامت دیکھنا

جا رہے ہو اب نہیں روکیں گے ہم
تم خدارا مڑ کے اب مت دیکھنا

ہے رگ جاں سے زیادہ پاس وہ
ڈھونڈنے والوں کی غفلت دیکھنا

جس کو چاہا ہے وہی توڑے گا دل
یاد آئے گی میری محبت دیکھنا

سنگ بھی گائیں گے نغمے پیار کے
رنگ لائے گی محبت دیکھنا

فوزیہ سجدے میں گر کےکر دعا
پھر ذرا رب کی سخاوت دیکھنا

 

فوزی بٹ

 

 


 

بعد مدت کے ملے اور کہا کچھ بھی نہیں
اپنے مابین تو کہنے کو رہا کچھ بھی نہیں

دیکھ کر ہاتھ نجومی نے یہ حیرت سے کہا
تیرے ہاتھوں کی لکیروں سے ملا کچھ بھی نہیں

میری الفت کا تقاضا ہے کہ خاموش رہوں
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں

بھول بیٹھا ہے بشر رب نے ہے کیوں پیدا کیا
کام اس کا تو عبادت کے سوا کچھ بھی نہیں

صرف اک بار وہ مجھ سے یہ کہے کہ فوزی
چھوڑ کر تم کو تو جیون میں بچا کچھ بھی نہیں

 

فوزی بٹ

 

 


 

 

 

اپنے وطن کو آگ میں جلتا ہوا بھی دیکھ
وحشت گری کی لہر کی تو انتہا بھی دیکھ

خنجر تھما دیے ہیں جو خلقت کے ہاتھ میں
اب ہر طرف تو خون کو بکھرا ہوا بھی دیکھ

اندھے ہیں لوگ اور یہ نگری اندھیر ہے
مشعل کی روشنی کو بجھتا ہوا بھی دیکھ

جنت میں جا رہے ہیں سب عاشق رسول
کیسا چنا ہےراستہ ، وہ راستہ بھی دیکھ

کٹ کے گرے ہیں جو بھی محمد کے نام پہ
شکوہ نہیں ہے لب پہ ، ذرا حوصلہ بھی دیکھ

بھڑکا رہے ہو آگ جو کر دے گی خاک سب
ناصر نے جو کہا تھا ، پورا ہوا بھی دیکھ

اشعار لکھ دیے ہیں خون جگر سے آج
فوزی کو آنسؤ ں میں ہوتے فنا بھی دیکھ

 

فوزی بٹ

 

 


 

 

تجھ کو پا کے تو میں کچھ اور بھی پانے سے رہی
اب لبوں پر سے یہ مسکان تو جانے سے رہی

میری آنکھوں میں تجھے دیکھ لیا ہے سب نے
میں تیرا نام تو دنیا کو بتانے سے رہی

دل کو نظروں سے چرانے کا ہنر سیکھ لیا
دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی

لب تو خاموش رہے دل نے بھی پکارا نہ انھیں
آنکھ بے باک تھی ان کو نہ بلانے سے رہی

تو نہیں تو میں یہ سنگھار دکھاؤں کس کو
مانگ میں اپنی تو سندور سجانے سے رہی

تیرے آنے کی خوشی ، رک سی گئی ہے دھڑکن
پگلی پائل، نہ کبھی شور مچانے سے رہی

نام لکھا ہے تیرا فوزی نے اپنے دل پر
اب تو تقدیر بھی اس کو مٹانے سے رہی

 

فوزی بٹ


 

 

عظیم شاعر اسد اللہ خان غالب کی زمین پر جسارت مشق سخن کے بعد مکمل اشعار

اپنی فنکاری کو سمجھا ہے نہ سمجھے گا کوئی
دکھ بھری تھی زندگی ہنس کر گزاری ، ہائے ، ہائے

وائے حسرت دل کا غنچہ کِھل کے مسکاتا نہیں
کی نہ جاناں آپ نے بھی آبیاری ۔ ہائے ، ہائے

ہائے اس ماہ لقاء کے حسن کی کیا بات ہے
اک تو آنکھیں نیلگوں ان میں خماری ہائے ، ہائے

چار سو ہےدہشت و ، وحشت ہمارے ملک میں
ہو رہا ہے اک عجب سا خوف طاری ہائے ، ہائے

شہر کے قاضی کو کہہ آئی ہوں ابن الوقت میں
اب تو زنداں میں تڑپنے کی ہے باری ہائے ہائے

بعد مدت ہے میسر کنج خلوت جان جاں
کیوں ہمارے درمیاں ہے پردہ داری ہائے ہائے

تیغ کے زخموں سے جانبر ہو تو سکتے ہیں مگر
قتل کر دیتی ہے لفظوں کی کٹاری ہائے ہائے

میرا دل ٹوٹا تو بولے ہے یہ غفلت آپ کی
ان کا دل ٹوٹا تو میری ذمہ داری ہائے ہائے

جھولیوں میں دوست لے کے سنگریزے تھے کھڑے
کیا کبھی دیکھی ہے ایسی سنگ باری ہائے ہائے

بھولنا چاہوں تو آتے ہیں تصور میں میرے
جان نہ لے لے تمہاری ہوشیاری ہائے ہائے
بے ثمر یوں بھی رہی الفت ہماری ہائے ، ہائے
اور مقدر نے بھی ماری ضرب کاری ہائے ، ہائے

کھوٹا سکہ کہہ کے میرے دل کو توڑا اور کہا
اب یہاں چلتی نہیں یہ ریزگاری ، ہائے ہائے

ہم نے مانا کر ہی بیٹھے ہیں خطائے عشق گر
وہ نہیں سنتے ہماری گریہ زاری ، ہائے ہائے

تو جو ننگے پاؤں آیا سن کے میرا حال زار
درد سے میرے ہے تجھ کو بےقراری ، ہائے ، ہائے

میں شھادت دے کے اس کی خود ہی مجرم بن گئی
پڑ گئی ہے مہنگی مجھ کو غمگساری ، ہائے ، ہائے

جب سنا کہ روز محشر لے گا مالک خود حساب
ہے بلا کی کپکپی فوزی پہ طاری ، ہائے ، ہائے

 

فوزی بٹ

 

 


 

چاند جب بالائے بام آ جائے گا
اس کی کرنوں میں نہایا جائے گا

دیکھ لے جو جلوہ محبوب کو
دیکھنا مہتاب شرما جائے گا

جب کوئی بھی کچھ نہیں کر پائے گا
رفتہ رفتہ غم مجھے کھا جائے گا

میری ہمت توڑ نہ پائے گا جب
میرا دشمن آپ گھبرا جائے گا

چھوڑ کےگھر جارہا ہے پہلی بار
شام ہوگی تو وہ گھر آجائے گا

دل پہ وہ قابو نہیں رکھ پائیں گے
گیت میرا جب سنایا جائے گا

کوچئہ الفت میں رکھا ہےقدم
جو بھی ہو انجام دیکھاجائے گا

دل جلوں کی داستان ہوگی رقم
نام میرا بھی پکارا جائے گا

اب کوئی شکوہ نہ لب پہ آئے گا
آنکھ کا آنسو ہی تڑپا جائے گا

فوزیہ بٹ نے لکھا ہے شعر جو
وہ یقیناً گنگنایا جائے گا

 

فوزی بٹ

 

 


 

 

 

پنجابی اشعار

 

ہجر کمینہ لنگدا کیوں نہیں
اک اک پل اے ۔۔۔۔۔ سال برابر

عشق سمندرے میں کلی ڈبی
ماری سی میں ۔۔۔۔چھال برابر

اکو ہٹی تے وکدا اج کل
چنگا مندا ۔۔۔۔ مال برابر

سونے دے پنجرے وچ بے کے
اساں گنے نے۔۔۔۔ سال برابر

بے وطنی دی قید سنائی
ہجر دی چکی ۔۔۔۔۔ نال برابر

ویکھو میریاں گڈیاں آ کے
ہویاں وڈیاں ۔۔۔ نال برابر

یاد دا بوٹا سکیا تاں نہیں
ہنجو لائے ۔۔۔۔ نال برابر

 

فوزی بٹ