ریشہ تھریڈز

           خواہش

یہ درو دیوار, یہ باغ و بہار, یہ کاروبار
جی چاہے,چھوڑ چلیں, جائیں اُس دیار

جہاں رشتے, محبتیں, اپنے,سپنے ہوں
نہ ہوفکر ِمعاش, نہ ذمہ داریوں کے فتنے ہوں

اےکاش, ترکِ ضد ہو, محبتِ اَتَم ہو
کوئی چھوڑنے کی ضد نہ کرے, رحمتِ خاتَم ہو

وِردِ لب و جاں ہے, نصیب سب کو خدا ہو
جاہلیت کا کُل ہو, سُنت کی اتباع ہو

ملے نوعِ بشر کو, بندہ و نفسِ مومن

مقدر ہو جس کا قُربِ الہی , راہیں نہ ہوں کٹھن

وہ گھر ہو, وہ در ہو,نبوت کی ہوں جس پر برکتیں
طائر جس کے نغمہ زن ہوں, پاکے خلافت کی نعمتیں

نہ جلن ہو, نہ گھٹن ہو, نہ فساد ہو جہاں
لالہ و گل و رعنا کھلیں,ابرِ کرم برسے جہاں

ہاں ہے, اک در,جہاں پوری ہوں سب حاجتیں
جہا ں خلافت کی ردا ہو, ہوں خدا کی کرامتیں

ودود


 

          بیٹی   

 

ماں کی لاڈلی, باپ کی رانی
نازونعم سے پالی,  دکھ سے انجانی

لب کھولے, تو پھول کِھل اُٹھیں 
ہنسے, مسکرائے تو دل جی اُٹھیں

علمِ قرآن کے موتی, گھونگھےسمیٹے
عشقِ خدا کی لَو میں خود کو لپیٹے

ماں کی گود میں,  صبرووفاوہنرولطافت 
باپ کی اُنگلی تھامے, حوصلہ,ہمت وجراٰت

دنیا کی کڑی دھوپ, قابلیت کے امتحان میں
شرم وحیا کی ردامیں, معرفتِ ایماں میں 

مشعلِ علم  دے کر,محبتوں سے سینچ کر 
اخلاق وپیار کا سمندر,ہیرے,کندن سے برتر

ڈولی سجے, مہندی لگے, پیا دیس چلے
نئے راستوں, ارمانوں میں سب چھوڑ چلے

ماں کا دل ڈوبا, باپ چھپ کر روئے 
دے چُکے دل,راحتِ جاں, ِ تابع وفرمان ہوئے

یہ بیٹی ہے, یہی بیٹی ہے,یہ تو بیٹی ہے
سب سے غم چھپائے, چُپ بیٹھی ہے

آباد رہے,شاد رہے,صبرووفاساتھ رہے
عشق و محبت کی وادی میں خدا ساتھ رہے              
                                       

                        

    ودود 

    


                       

               اپنے

 

کبھی کبھی خیال آتا ہے،کیا صفائی دیں ،کتنی دیں

کہ ہم وہ لوگ نہیں, جو تم سمجھتےہو ,گردانتے ہو

کبھی کبھی خیال آتا ہے, کس کے سامنے اظہار کریں

کہ  کس قدر رنج دیتے ہو,کیوں دامن           داغدار کرتے ہو

  کبھی کبھی خیال آتا ہے، کس کو اپنا جانیں، کس کا اعتبار ہو

  کہ تم ہتھیا چار کرتے ہو، دل تار تار کرتے ہو

        کبھی کبھی خیال آتا ہے، کب تک کہیں ، کن رشتوں کو کہیں

        ،کہ اتنے تیر برساتے ہو، کیا سوچتے کیوں  بدظن رہتے ہو

   کبھی کبھی خیال آتا ہے، کیا قصور، کیا گناہ ہے

کہ کیوں اتنی سزا، اتنا عتاب، اتنی جلن برساتے ہو

کبھی کبھی خیال آتا ہے، کاش وہ وقت ہو، وہ لمحہ ہو

، تم ساتھ ہو، چشمِ فلک دن رات ہو   کھیلتے جاتےہو، ہنساتے ہو،

 دعا ہے کہ تم آباد رہو، جہاں رہو، شاد رہو، آزاد رہو

 خوشیاں تمہارا مقدر ہوں، رشتے اپنے تم پہچانتے اپناتے ہو

  

ودود

 


 

 

        سلامِ مسرور

 

سلام آیا,  سلام آیا,  محبت کا پیغام آیا

تڑپتےدل سے نامہ بر,  بھرا ہوا جام لایا

آنکھ پُرنَم, دل میں کسک,  روح گُداز

عشق و وفا سے پُر,  کسی اپنے کی یاد لایا

علمِ اسلام تھامے,  اعلائے کلمہِ حق کئے

اُس پیارے کا اظہار ِقلب وروح ساتھ لایا

اپنے دیس سے دُور,  تبلیغ ِدین کا بیڑا اٹھائے

صبرواستقامت,  امن و امان کا درس لایا

اِک طائرِعلم وعمل نغمہ زن ہوا, فضا کِھل اُٹھی

حمد وثنا کے گیت,  عشقِ محمدی کے ترانے لایا

اِک بادِ صبا آئی, قراروسکون اُڑا لائی

دِل معطر,  قلبِ مضطر کے لئے خدا لایا

انی معک یا مسرور,  یا سیدی,  یا حضور

لبیک یا مرشدی,  تیری وفا میں لیل و نہار لایا

  

ودود


 

 

 پتھر دل

 

عشق خداسے لَو لگا لے اے دلِ مضطر
عشقِ مجازی میں کیا ہے، پتھر ہی پتھر

پھول تو پھول ہے، رنگ ہیں جس کے خوب تر
مُعطر ہو جس کی بُو سے فضا،گل و لالہ و عنبر

عشق و محبت کی وادی میں ، گم ہوں دوبشر
طوافِ شمع میں جل کر خاک سے خاکستر

من مارے, تن مارے، دل ہارے جگ سارے
نہ ہارےپھر بھی ،وہ بے حِس و بے جاں حَجَر

قطرہ قطرہ شبنم برسے، چمکے جیسے موتی
برس برس بادل تھکا، سیراب نہ ہوا کم نظر

ٹَپ ٹَپ کرتا پانی ،چومے پتہ ، ڈالی ،پتھر
پتھر میں بھی شگاف آجائے، پانی ہے پُر اثر

کم پڑ گیا آنسو کا پانی، وہ روح کا نچوڑ
گُداز نہ ہوا وُجود اُس کا، عرقِ بدن بے اثر

یہی دمِ چشم کا اک قطرہ، خدا پاس لائے
نہ سُلگا بدن، نہ بحرو بر، بس عشق سمندر

بشر چاہے، بشریت سے اوپر ، نہ بندہ پرور
خالق کے لئے، عبودیتِ خلقِ خدا، اک چشمِ تر

جگ جانے، سب مانیں، رب پہچانےاور گردانے
نہ مانے ، ایک ہی نہ مانے، وہ عجب خود سر

اے دل ، نہ بن جوگی، نہ عاشق، نہ پروانہ
روح فنا کردے، ہو جا عاشقِ بزدگ و برتر

  

ودود


 

  

  زادراہ

 

بن کے عبد اللہ، تھامے حبلُ اللہ، تقوی ہے زادِراہ

لب پے لئےدعا، مل جائےوہ، تھی جس کی چاہ

برسوں پرانی تڑپ ہے، اک آس ہے، اک پیاس ہے
دل کی کسک ہے، ملنے کی قلق ہے، تمنا سر راہ

دید کی ترسی نگاہیں لئے، عشق و وفا کے پیکر
چل پڑے اللہ کے مسافر، طیور نغمہ سرا

نہ ڈر ہے، نہ خوف ہے، عشقِ محمدی میں مدہوش ہے
پابندِ قفسِ اتباع کئے، ہو نہ جائے نفس گمراہ

مخمور مہدی کی اطاعت میں، اوڑھے ردائے خلافت
بانہیں پھیلائےخلیفۃ اللہ، ہے پر شوکت وجاہ

آئے ہیں طیورِ خلافت، لے کرشمعِ مسیحِ وقت
مسافرِبحر وبر، کاٹے ہیں سب دشت و صحرا

لو آن ملے متوالے، علم و عمل کے رکھوالے
اھلاًو سھلاًو مرحبا، خلافت ہے تیغِ براء

سایہ فگن ہیں فرشتے، مطیعِ مہدی آخر الزماں
بچھ گئی صفِ ماتم، دشمن ہے بے تیغ و بے سہارا

نغمہ بلبل، ترانہ محمدی، محفلِ روح و سرور
اعلائے کلمہ حق برملا، پھیلے ہیں ہر سو حمد سرا

مل جائیں ہم کو وہ پل، وہ رحمتیں ازل سے ابد
نصیب ہم کو ہوں وہ برکتیں،وہ روح پرور نظارہ

ودود


 

         اکھ دے تار

 

میرے باپ دے جگر دے ٹوٹے, ماں دے اکھ دے تارے
کیںویں دسیے کیہو جۓ بھاگ تے آپے ہی ہارے

جناں بہناں نو ویا کے ہوے ویلےتھکےہارے
بوا بند کردیاں کردیاں فر دین لگے سہارے

بیٹھی سوچی پے گے, کی ماں پیو ویر سارے
کی کراں گے, کیںویں حیاتی گزرے گی,ہمتاں ہارے

کیںویں اپنی خوشیاں جیںواں گے,  پورے ہون گے خواب سارے

ویریا میرے بھراوا میرے باپ دی اکھ دا نور
میری ماں دیا لاڈلیا, اودے دل دا مٹھا سرور

کیںویں دسیے آسی تے آپ ڈاڈی چوٹ کھادی
بہتے خواب ویکھےآسی پھلاں ورگی حیاتی آبادی

تے جگ داسکھ,  ماں پیودے ارماناں دا مکھ
مڑ پیڑ ہوئ,  ڈاڈی چوٹ لگی,  ویر نیںویں نیںویں منگن سہارےسارے

ویر , تسی تے ماں پیو دا فخر ,تے ساڈھا غرور, تے دلارے
ساڈھی طاقت,  اسی جند جان کراں وارے

بہناں منگدیاں اےہو دعاواں,  رب سوہنے دیاں ہونون اناں  تے رحمتاں
اے ساڈھیاں ٹھنڈیاں چھانواں, اے ساڈھیاں ٹھنڈیاں چھانواں،ربا ویراں دی خیر ہووے

 

                                     ودود


 

       فقط دو شعر

امید لگائے ، آس نبھائے

بیتے ہیں دن رات، ساتھ نبھائے

بے صبر، بےخبر انجام سے اپنے

بیٹھے ہیں اے رب، انتظار نبھائے


 

 

 

    مسیح آخر الزماں

 

سونے سے لکھوں، چاندی سے لکھوں، یا خون جگرسے
لوح وقلم لاؤں کہاں سے، کس پہ تیرا نام لکھوں

تو عجب ہستی ہے، اے غلام نبی آخر الزماں
ختم الرسل، شمس وقمر، کتنے نشاں لکھوں

مسیح وقت، کسر صلیب، احیائے دین کامل
شان افضل الکتب، کیا کیا تیرے کام لکھوں

طلوع ہوا اک آفتاب ، اتر آیا فلک سے روح اللہ
دم عیسی، نشان موسی، کون سے خطابات لکھوں

مخمور عشق محمدی سے، علم اسلام لہرایا
کافر و دجال کہلایا، راہ عشق میں کم ہیں، جو الزام لکھوں

امن کا پنچھی، محبت کا پیکر، عاشق خالق کل
نہ تیر و تفنگ، سلطان القلم، کیسے کیسے خصائل لکھوں

علم وعرفاں کا پیکر، عشق قرآں کا اک سمندر
عالم معجزات کا بین ثبوت، کہاں تک فضائل لکھوں

نبوت کا دروازہ کھلا، اسلام کا ہوا بول بالا
خلافت کی ڈھال میں کتنی حسیں برکات لکھوں

اے مسیح آخر الزماں، اے عاشق سید الکونین
ہو جائے کُل عالم عاشقِ دین محمد ، تیری خواہشات لکھوں

 

     ودود


 

            غزل

بعد از رفاقت، ہجر نے اتنا روگ لگایا کے رو پڑے
کہ آگے بڑھے بھی تو یادیں چھپا کے رو پڑے

وصل کی آس میں ہجر کی راکھ دل سے لگائے
پاتے ہی اس کو کھو کے، دل بہلا کے رو پڑے

بیتے دن، شبنم بھری راتیں، وہ جگنوؤں کے دیپ
سحر زدہ لمحوں کی سوچ میں تکیہ دبا کے روپڑے

ہاں اب بھی یاد ہے وہ بارش کا پہلا قطرہ
اب کے بار دمِ چشم کی بارش میں خود کو پھسلا کے روپڑے

ہائے، دے دے کر دہائیاں، یہ دل کی تنہائیاں
اب تو عادت ہےاِن کی، اِن کو لپٹا کے رو پڑے

خوشیوں میں آگ لگائی، ہنس ہنس کر سارے غم دیے
باہر کہیں ہنسے بھی تو گھر آکے روپڑے

کہیں آہٹ ہے، دل کوملنے کی چاہت ہے
اس چاہت کے زعم میں خود کو پلٹا کے روپڑے

سوچا تھا دل میں کہ صحرا میں سراب مل جائے گا
پر پیاس کی اس تڑپ کو دل میں ہی بجھا کے روپڑے

سیلاب اشک کا سلسلہ جو چل نکلا ، تو ہم بھی کود پڑے
ڈوبتے ہی بچاتے ہوئے غوطہ لگا کے روپڑے

آنکھوں میں وہ منظر ہے، چشم نم سے نم تر ہے
جب ظلم کی آندھی میں زخم سہلا کے
روپڑے

اس بے ثبات دنیا میں رکھا ہی کیا ہے دل مضطر
پھولوں کی سیج پر کانٹوں کو گہنا کے رو پڑے

کیسا ہے دردوالم کا سلسلہ، عشق ومحبت کے کھیل میں
ہار کے بھی جیت کا کانٹا چبھا کے روپڑے

ابھی کچھ دم ہےباقی اس پر رونق محفل میں
شمع کی لَو میں خود کو بٹھا کے رو پڑے

یہ گھبراہٹ کا عالم، یہ رونے رلانے کا کالم

کچھ ایسے ہی ہنستے رلاتے من گُھما کے رو پڑے

رسموں کے طوق میں، نفرتوں کی زنجیر میں
مضبوط عزم وہمت اور صبر کا زیور پہنا کے رو پڑے

ودود آخر یہ دل نے جانا، خدا کو سب نے مانا
دل اس سے لَو لگالے، سجدے میں من پگھلا کے روپڑے

 

 

ودود


 

   میں ایک عورت ہوں

میں ایک عورت ہوں

رحمت ہوں، نعمت ہوں
شرم و حیا اورمحبت ہوں

صنفِ نازک، اور شرافت ہوں
دولت ہوں، حرمت ہوں

میں ایک عورت ہوں

میں بحرِ عطا، صدق و صفا
میں محبوبِ خدا، مہر و وفا

میں جود و سخا، صبر و رِضا
، میں جفاوبقا، علم و ردا

میں ایک عورت ہوں

میں جلتا پروانہ، مست مے خانہ
میں ِ لطف وکرم، شرابِ مستانہ

میں ادائے دلبرانہ، حسن باغبانہ
میں رگِ عاشقانہ، ممتا یگانہ

میں ایک عورت ہوں

میں پابند صلوۃ، با پردہ بحکم خدا
میں تابع روح خلافت، نغمہ سرا

                رسم و قیود سے بر تر ، بے پروا
طاعت میں یکتا، با کردار پُروا

میں ایک عورت ہوں

 

 

 

ودود


 

 

تیرے در پہ لگا قفل

 

 

کیوں رلانے کی قسم کھائی ہے
کیوں دل پر چابی لگائی ہے
کیوں آس کی لَو بجھائی ہے
کیوں تپتی تیز ہوا چلائی ہے
ہائے یہ تیرے دل کی اونچی فصیل، تیرے در پہ لگا قفل

کیوں آنکھوں میں دیپ جلائےتھے
کیوں گیت عشق و پیار کے گائے تھے
کیوں چمن کے گل ولالہ چرائے تھے
کیوں پروانہ بن کے شمع کے پاس آئے تھے
ہائے تیرے دل کی اونچی فصیل، تیرے در پہ لگا قفل

کیوں میری راتوں کی نیندیں چرائیں
کیوں محبت و وفا کی پینگیں چڑھائیں
کیوں خط لکھے، کیوں بتیاں جلائیں
کیوں پازیب،انگوٹھی اور بالیاں پہنائیں
ہائے تیرے دل کی اونچی فصیل، تیرے در پہ لگا قفل

ہاں ہار گئے ہم دل تیری محبت میں ہار گئے
ہاں وار گئے ، تجھ پہ سب، اے صنم ، وارگئے
ہاں مار گئے، تم سب قربتیں، محبتیں مار گئے
ہاں جلا گئے، تم سب خط، وہ وعدے جلا گئے
ہائے تیرے دل کی اونچی فصیل، تیرے در پہ لگا قفل

اب کی بار جب آؤ گے، کفن تم پہناؤ گے
ہم وہاں نہیں ہوں گے، تالا لگا پاؤ گے
مٹی کی دھول میں، اب دل اپنا جلاؤگے
رو رو کے یاد کر کے وہ لمحے،تم ہمیں بلاؤ گے
ہائے تیرے دل کی اونچی فصیل، تیرے در پہ لگا قفل

اب یادیں ہم نے بھلا دیں، ساری کشتیاں جلا دیں
دئیے سارے بجھا دئیے ، دل کی بتیاں بجھا دیں
امیدیں ساری دھو دیں، آنسوؤں میں بھگو دیں
عمر بھر کی خوشی پالی، دل پہ چابیاں لگا دیں
ہائے تیرے دل کی اونچی فصیل، تیرے در پہ لگا قفل

  

ودود


 

 

فتووں کے کیلینڈر پر  اک طلاطم سا برپا ہے

 

آسمان کے اشک پر ہر آنکھ اک غم کا ساغر ہے
تڑپتا ہے لہو کہ ، دھرتی نہ لپٹ جائے

آسماں کے سینہ پر اک مہدی اُبھر آیا ہے
پگھلتی ہے روحِ نبی کہ، امت نہ بگڑ جائے

تعلیمِ محمد میں برسوں پہلے لکھا ہے
کانپتی ہے ہر سطرِ قرآن کہ، قیامت نہ آجائے

چشمِ فلک گواہ ہے، فرقوں کا سماں ہے
ارض ابراہیم گداز ہے، بھونچال نہ آجائے

زمیں سے فلک تک رسی میں اک ظلم کا لشکر لپٹا ہے
خدشہ ہے عاشق محمد کو، چھید نہ ہو جائے

فتووں کے کیلنڈر پر اک طلاطم سا برپا ہے
لرزاں ہے زمیں کہ، سونامی نہ آجائے

لہر سی اُٹھ گئی ہے خونِ عاشقانِ محمد میں
ابل رہا ہے یہ خون کہ، چھلک نہ جائے

در در پہ دیتے ہیں سلامی یہ جھوٹے عاشق
اس ابر کرم کی سلامی ہے کہ، خدا نہ اتر آئے

 

 

ودود

 


 

 

بہت غصّہ آتا ہے

 

بہت غصہ آتا ہے

جب کوئی اپنا بنا کے چھوڑ دیتا ہے
بہت غصہ آتا ہے
جب کوئی اپنی بیٹی یتیم کر دیتا ہے
بہت غصہ آتا ہے
جب دادا ہی بیٹے کی بیٹی جدا کردیتا ہے
بہت غصہ آتا ہے
جب اچھے گروپس میں بھی بد اخلاق ملتا ہے
بہت غصہ آتا ہے
جب زخموں پہ کوئی نمک چھڑکتا ہے
بہت غصہ آتا ہے
جب کسی کی بیٹی کو کوئی گھر سے نکالتا ہے

ودود


 

 

 

   بچپن سہانا

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

آنکھوں میں دیپ ، چوڑیوں کی کھنک
سپنوں میں سیپ، موتیوں کی دمک
فلک کو چھونے کی حسرت دبائے
تاروں کو گننا، پانے کی کسک

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

گڑیوں سے کھیلنا، سجنا اور سجانا
پینگیں چڑھانا، ڈالیاں جھکانا
تتلیاں پکڑنا، پکڑ کے اڑانا
پھولوں کی مالا، زیور اور گہنا

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

امی کا جگانا، سورج کا گد گدانا
آنکھیں ملنا، پلٹ کے سو جانا
اٹھنا اور کھانا، جھٹ سےاسکول جانا
کام کا بھول جانا، کرنا اک بہانہ

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

بارشوں کا موسم، کالی گھٹائیں
بجلیوں کی کڑک، تیز ہوائیں
کھڑکیوں کو کھٹکا کر ہمیں ڈرائیں
کہانیاں سنا سنا کر ، امی ابو ہمیں بہلائیں

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

کاغذ کی کشتی، ہوائی جہاز بناکر
مٹی کا گھر ، اور برتن بنا کر
سکھیوں کی دعوت میں پاپڑ لاکر
بڑا خوش ہوتے تھے مہماں بلا کر

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

پتہ پتہ ڈالی ڈالی چڑیا گیت گاتی تھی
سنا کر پریوں کی کہانی امی ہمیں سلاتی تھی
جب ابو کے ساتھ جا جا کر گڑیا ساتھ لاتی تھی
لالی، مہندی، بندیا ، کاجل اسکو لگاتی تھی

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

دیکھو آئی ہے رُت بہار کی، سپنے سات لائی ہے
اپنی سکھیوں کی سہانی یادیں ساتھ لائی ہے
بارش کی پہلی بوند نے من میں آگ لگائی ہے
اب کی بار ساون میں اداسی سی چھائی ہے

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

خودی کا سکہ جما کر، گر کر ، گرا کر
شاہین بن کر پلٹ کر ، جھپٹ کر، اٹھا کر
پھسل کر ، اچھل کر ، لپک کر، جتا کر
یاد کرائےاب بیٹی، گلے میں بانہیں لپٹا کر

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

عِلم قرآں سجا کر، شرم وحیا پہنا کر
عَلمِ اسلام لہرا کر، عِلم و عمل دکھلا کر
آسماں کو منزل بنا کر، پھل لانا ہے جھکا کر
اماں ابا کے دل چھو کر، پیا دیس سدھار کر

وہ بچپن سہانا، گزرا زمانہ
کھیلنا کھلانا، یاد آئے روزانہ

  

ودود


  

تاروں بھری رات

 

برکھا رت، مینہ برسے، پھولوں کی اک لڑی
کومل کومل، نازک نازک پلکوں میں، اشکوں کی جھڑی

تاروں سے بھری رات اور بھی ہے، اے طفلِ مکتب
رت جگوں میں عشق کی مات اور بھی ہے

پنکھ پکیھڑو، اڑتے جائیں، یوں جی اپنا جلائیں
شام ڈھلے، دیس پیا کے جائیں، پر وہ نہ آئیں

اک آس کا سورج ڈوبے ہے، یاں دل ڈوبتا جائے
جوگی بن بن پھرے ہے، بِن اس کے چین نہ پائے

جانے والے کو کس نے روکا، نہ آیا کوئی اب تک
نگاہ مومن جا ٹکتی ہے اک خالقِ فلک تک

کیوں ہیر بنی ، جوگن بنی، کیوں زلف لہرائی
سوچوں میں گم، بیچ سمندر، اک لہرکھینچ لائی

چلتے چلتے مسافت ختم نہ ہو، مسافر بھی اک منزل پائے
پیروں سے یہ چھالے پوچھیں، تیری منزل کب آئے؟

دانہ پانی اکٹھا کیا، سب گھروں کو چل دئے
بتی بجھا کے سوگئے، سپنے آنسوؤں میں مَل دئیے

  

ودود


 

                غزل

 

 

اپنی الفت کو آزمانا تھا
ساقی جو بھی تھا سب زمانہ تھا

میں راہگزر یا اک مسافر خانہ
دل لگی تو فقط دل بہلانا تھا

میں عشق پیامبر قفس لئے جاتا
وہ سراپا تبسم یا زہر قاتلانہ تھا

اک دلفریب نے آج پھر سے مچلادیا
دل نے پھر چٹکی لی سب ویرانہ تھا

انداز تکلم یا ادب کا قرینہ
اس کا ہر اک لفظ ہرجانہ تھا

ہست سے نیست لمحہ بھر میں ہو گئے
اک اس نے بھلایا پر عاشق زمانہ تھا

ہم ٹھہرے سخن ور وہ تھے کم ظرف
ان کا تو پیشہ ہی چھوڑ جانا تھا

وہ شکاری تھا اسیروں کا
اس کا فن تو دانہ ڈالنا تھا

مکتب عشق کے رموز سکھلاتے سکھلاتے
خود اس کا انداز طفلانہ تھا

اس نے پردیس ہی نشیمن بنانا تھا
پھر یہاں کیوں آنا جانا تھا

پاؤں پھسلا نہ دل ہی کچھ دھڑکا
اسکا مقصد تو بس رلا نا تھا

تپتی ریت صحرا میں ہوا کا جھو نکا
ایسے کہ اشکوں نے مینہ برسانا تھا

مٹ گئےتھے آخر ریت کے محل
بس اب اسکو ہی بھلانا تھا

اپنا انداز تو قاتلانہ ہی تھا
ان کا مزاج بھی عاشقانہ تھا

برگ و بار نے روٹھنا ہی تھا
اب کے بار گلشن تڑپانا تھا

اس رات نے پھر جگانا تھا
اب شاعری کازمانہ تھا

یوں تو محفل آباد تھی انکی ودود

ہم سے چھٹکارا تو اک بہانہ تھا

 

ودود

20.10.16


 

 

غزل

 

بارش کے بعد آسمان سہانا تھا
قوس وقزح نے رنگ جمانا تھا

یہ ملا، یہ فتوے ، کہاں گئے
خلیفہ نے علم لہرانا تھا

جا کے بے رخی سے دم توڑ گئے
اسی طرح خدا نے آنا تھا

اک مسکراہٹ سے جگ ہوا روشن
اب تو ملا نے سر کھجلانا تھا

اک نعرہ فلک بوس کی گونج نے
وقت کے ایوانوں کو زلزلانا تھا

کہہ اٹھے کہنے والے اب دیوانوں میں
آچکا وہ ، جس کو آنا تھا

کر کے شرمسار وہ ان شریروں کو
سجدہ شکر بجا لانا تھا

ان مکتبوں کی دھجیاں اڑا کر
اک مکتب خدا کا بنانا تھا

کہتے تھے کہ نہ وہ ہے، نہ رہے گا
وقت نے پارلیمنٹ دکھلانا تھا

ودود ہو چکیں بہت باتیں ، بہت کلام
علم وعمل سے خود کو نہلانا تھا

ودود

20.10.16


 

 شجر طیبہ

نہ سمجھو اسے کہ وہ اکیلا تنہا یوں بیٹھا ہے
وہ نبی اللہ ہے، اس کا تو خدا ہی اپنا نرالا ہے

وہ کلمۃ اللہ ہے یا روح اللہ یاپھر عاشق محمد
ملائکۃ اللہ نے ورد کرتے عالَمِ صوّاف باندھا ہے

جو اس سے ناطہ جوڑے بن جائے مثلِ برگ وبار
یہ رازِ شجر طیبہ مصحفِ خدا نے بتلایا ہے

جو اس سے الگ ہے، بے بہرہ و شجر خار دار
فروعِ مقطوعہ، بے ثمر شجر خبیثہ کہلایا ہے

یوں آزاد بنے پھرتے ہیں یہ کبر وغرور کے قلندر
منکرنبوت نمرود، فرعون اورابلیس میں سمایا ہے

آج مرد حق غوطہ زن یے توکل و تبتل کے عالم میں
چشم تر ہے لئے زیر لب دعاجیسے من پگھلایا یے

خلوت و جلوت میں یہ امت کی بدحالی کہ پت جھڑ
نبوت و خلافت کے متوالوں پہ ابر کرم چھایا ہے

اے اس عارضی دنیا کے مکینو، امت محمدیہ کے علبردارو
مان لو اس وقت کے خلیفہ کو اس میں سب بقایا ہے

یہ کفر ومنکر کے فتوے اور علمِ بغاوت کب رنگ لائے ہیں
یہ فتنہ فساد ، جنگ و جدل، سب تم نے ہتھیایا ہے

علم وعرفاں کی طاقت، یہ زور قلم دکھلاکر
بیت خلافت کے مکینوں نے یہ چمن مہکایا ہے

پھیل جاؤ آج اس دنیا میں اے عشق محمدی کے پروانو
خدا شاہد ہے کہ آج پھر سے تم نے علم لہرایا ہے

اے خدائے محمد، اب جلوہ دکھلا دے اپنی قدرت کا
نہ زر نہ زمیں نہ عشق ووفا کے کھیل، سب مایا ہے

ودود

13.10.16


  

             غزل

 

ہنساتے رہتے ہیں یہ مصائب زمانے کے
“کہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کے”

تڑپاتے رہتے ہیں یہ فاصلے قربتوں کے
بتائے ہوئے وہ چند لمحے اس فسانے کے

کاش کے لوٹ آئیں وہ دن وصل یار کے
کہ مثل تماشا ہیں اس کے ہر ترانے کے

کہتی ہے دنیا آج پگلا اس دیوانے کے
دے سکے نہ وہ اور کچھ فقط رلانے کے

گواہ بنے پھرتے ہیں یہ شجر زمانے کے
کہ ہم کنکر پتھر تھے تیرے آستانے کے

جلادو خط وہ محبت نامے پلکوں کے
کہ جن پر ثبت ہیں وہ پل مسکرانے کے

ودود اب مٹا دو دل سے، نام و نشان ان کے

کہ یہ تو فقط بہانے ہیں دل بہلانے کے

ودود

14.10.16


 

نہ میں ملنگ رانجھا ، نہ سسی ہیر
نہ میں کملی جوگی، نہ پیر فقیر

میں چُمدی راہواں ، تے لَبدی پھراں
مُڑ مُڑ ڈِگن اتھرو، تے ہسدی پھراں

گْھٹ گُھٹ کے پھڑیاں بانواں
کیویں چھڈ گئےتسی او راہواں

ونگاں ٹْٹِّیاں، دل ٹوٹے ٹوٹے
نہ ٹُٹِّیا او بھرم، دل دےکھوٹے

کانوں مینہ برسدا اے، ہر گھڑی
ہنجوؤاں دی قسم لگدی جھڑی

  

ودود

18.10.16


 

 

 غزل

 

سوچنا بھی تو انہیں حور سا سوچا کرنا
شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا

تھاما ہی ابھی تھا عشق کی ڈور سے خود کو
رموز ادب نہیں صنم سے شکوہ کرنا

اے آنکھ مؤدب و معتبر ہو چوکھٹ ہے اسکی
زیبا نہیں تجھے راہ کا چرچا کرنا

یہ آتش صنم ہے تڑپ کی حد سے گزر جا
پروانہ شمع بن کر طواف جیسا کرنا

کیا کہیں جاناں کہنے کو زبان بھی نہیں ہے
تیری آنکھوں کی تاب میں ایسا کرنا

آتے آتے اس مقتل میں جاں کی بازی لگی
اب تو دل کہے تیرا ہی پرچار کرنا

      معذرت ہے اے شہسوار عاشقان حسن
عاجز ہیں خود بس دیکھا کرنا

مترنم ہیں نگاہیں اس کے جانےکی خبر سے
اشکوں سے خود کا پرسا کرنا

مسجد عشق کا سجدہ تو کنگال ہی کرگیا
ودود تیرا کام خالق پر بھروسا کرنا

 

 

ودود

21.10.16


 

کیا ہوا اے گردش زمانہ کہ ہم رہ گئے
ہم ہی ہیں جو وقت پیچھے چھوڑ گئے

رہتے ہیں خدا کے مکاں و سائبان تلے
نہ گلہ ، نہ شکوہ، نہ غم لبوں پہ میرے

آنکھوں میں جنوں لئے، دل میں خون لئے
اچھلتے ہیں سنگلاخ چٹانوں میں عزم لئے

یہ درو دیوار توڑ دیں گے اپنے ہی زور سے
گیندیں اچھالتے ہیں ہم اینٹوں کے زور سے

ہم سے نہ الجھیو ، لوہے کی چٹان ہیں ہم
ہمت و حوصلہ کے خدا کے پہلوان ہیں ہم

کتابوں سے جو سیکھا ہے تم نے اسکول میں
ہم وہ سیکھ چکے یونہی دنیا کے اسکول میں

نہ وعدہ و وفا کے کچے ، نہ دل کے کھوٹے
قول وقرار کے پکے ، دل کے کھرے اور سچے

دیکھ لینا اک دن یہ وقت کی ڈور لیں گے
خون جگر سے ہم دنیا سنبھال لیں گے

اک خدا کے پالنے سے ممتا کی گود تک
سیکھا ہے ہم نے زمیں سے عرش ودود* تک

ڈر نہیں لگتا ہمیں بجلیوں کے چمکنے سے
ہم خود بجلی ہیں ، چمکتے ہیں گرجنے سے

 

ودود

 

*ودود خدا کا نام ہے


 

 

  غزل

 

علم کو چھپائے بیٹھے ہیں
“ہم وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیں”

میراگھراس نے جلایا تھا
ہم راکھ اڑائے بیٹھے ہیں

کیسے کہیں راہ محبت ہے
وہی آگ لگائے بیٹھے ہیں

چمن جسنے خود ہی سجایا
وہ غبار اڑائے بیٹھے ہیں

وطن لیا اسلام کی خاطر
آج خود بھلائے بیٹھے ہیں

اے کم نظر، دیکھ ہم سب کچھ
وطن پر لٹائے بیٹھے ہیں

دھرتی میں خونی کھیل سے
وہ ہاتھ رنگائے بیٹھے ہیں

ستم، بچوں کو یتیم بنا کر
اپنی انا بچا ئے بیٹھے ہیں

سر پہ سے دوپٹہ اچھال کر
سب کفن دلائے بیٹھے ہیں

حفاظت وطن کی خاطر آج
سرحد دہکائے بیٹھے ہیں

ستم ہے ، رقص کرتی زندگی
ہم تیر رقصائے بیٹھے ہیں

قید و پابند سلاسل ہیں
اب سر کٹوائے بیٹھےہیں

اے ارض وطن تیری رہ میں
پلکیں جھکائے بیٹھے ہیں

قسم اسوقت کی جب پکارے
نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں

مٹی جبین ودل سے لگا کر
سجدہ گاہ بنائے بیٹھے ہیں

بجھا کے شمع زندگی وہ چلے
شمع رجا جلائے بیٹھے ہیں

یا رب تیری آس لئے دن رات
اب من سلگائے بیٹھے ہیں

ودود تڑپالے تن من دھن
مَلَک پر بچھائے یٹھے ہیں

ودود

28.10.16


 

 

بہت ہی درد دیتی ہے
الم وغم سب دیتی ہے
عجب سا قلق دیتی ہے
روح کو تڑپ دیتی ہے

کیا کریں سائیں یہ کیسا!!!
یاد تمہاری درد دیتی ہے

گرمئ رقص دیتی ہے
عجب سا عکس دیتی ہے
طائروقفس دیتی ہے
نفس بے نفس دیتی ہے

کیاکریں سائیں یہ کیسا !!!
یاد تمہاری درد دیتی ہے

کیوں غرور دیتی ہے
روح و سرور دیتی ہے
دل اک غیور دیتی ہے
بس پھرحضور دیتی ہے

کیا کریں سائیں یہ کیسا!!!
یاد تمہاری درد دیتی ہے

آنکھ کو چمک دیتی ہے
موسم دھنک دیتی ہے
اڑنے کو فلک دیتی ہے
ہر جہت جھلک دیتی ہے

کیا کریں سائیں یہ کیسا!!!
یاد تمہاری درد دیتی ہے

ودود

31.10.16


 

 

                   غزل

آنگنا، گلیاں، تارے وہ مہکتے چمن صنما
“وہ ستم گرجو نہ بھولےسے بھلایا جائے”

جادوگر، عاشق دیوانہ، اس جادو نگری کا
ہجر کی یلغار ایسی کہ طفلایاجائے

کس قدر وحشت طاری ہےاب درو دیوار میں
کم یے حسن و مے وسنگھار کہ سجایا جائے

آتش شمع ایسی کہ خوشی میں من اڑتا گیا
اب بن اس بے وفا کے نفس بہلایا جائے

دھواں دھواں سا چھا رہایے شش جہت کیوں
کیسے اندھے دل کو چشمہ لگایا جائے

نظروں یالفظوں کے نشتر سے جیون سلگا
دل کرے، اب انکو آئینہ دکھلایا جائے

ودود غم کہ اندوہ بحر میں یوں غرقاکے
اس بار تِیر جنوں اس پار لگایا جائے

 

ودود

4.11.16


  

 خواب

گڑیاسے کھیل رہی تھی
بال سنوار رہی تھی
روتی، مسکرارہی تھی
کھاتی کھلا رہی تھی

آہ!!!!! اک دن عذاب ٹوٹا

وہ گینداچھال رہا تھا
گاڑی سنبھال رہا تھا
ابا امی کو بھگا رہا تھا
دوست کو ہنسا رہا تھا

آہ!!!! اک دن عذاب ٹوٹا

بجلی گری ، جوتی اڑی
بھاگنے لگی، پیچھے مڑی
لپکی، اوپر نیچے لڑی
اب ماں کی سُچی جھڑی

آہ!!!! اک دن عذاب ٹوٹا

خون ہر سو چھایا تھا
خوف سا دل پرآیا تھا
اب پانی چھڑکایا تھا
ابر کرم برسایاتھا

شکر ہے ، یہ خواب ٹوٹا

ودود

7.11.16


 

             زخم

          نہ دل وچ پیڑ، نہ پیراں اچ چھالے
وس پیندا گیا جیڑا جگ وچ اچھالے
ہسی میری ہستی تے مکھ تے جیالے
زخمی کر گئےحیاتی، لفظاں دے بھالے

دکھ نہ چھڈن اے دل دا ویڑا
سامب کے رکھاں ایدا بسیرا
دل دے بوئے آہٹ تے اندھیرا
رْس گئے سارے، پے گیا بکھیڑا

کینویں دساں او سجناں دی برساتاں
او نین چھبیلے تے اودیاں سوغاتاں
بُھل گئے سارےبھرم تے او ملا قاتاں
پًھل بوٹا چبھن جیویں سوت کاتاں

 

 

ودود


  

 قطعہ

یہ دیس ہے یا غموں کا بسیرا
ہو گیا زخمی سارا تن من میرا
کاش وقت وہ دیکھوں، ہو سویرا
مٹ جائے سب رات اور اندھیرا

 

 

 

ودود


 

 باپ

 

 

خوش قسمت ہیں جن کو یہ جہاں ملا
خدا کے بعد فرش پہ یہ سائباں ملا

پہلی آذان نے کانوں میں رس گھولا
ملتے ہی جیسےقلب کو اطمیناں ملا

اس نے پہلے ہی دو ہاتھوں سے تھاما
جیسے زندگی میں اب امتحاں ملا

ماں کی تڑپ، گرمئ جذبات کے ساتھ
باپ کی بانہوں کا انوکھا نشاں ملا

پہلے قدم پہ گرنا، گرتے ہی پھر چلنا
باپ کا ہر قدم پہ عزم عالیشاں ملا

باپ جو خود ماں کی گود کو ترسا
اس سے محبتوں کا انوکھا سماں ملا

زمانے کی سختیوں سے روز کھیل کر
شکر ہے روز وشب اس کا فرماں ملا

جاہلیت اور پسماندگی کے اندھیروں سے
آج بیش قیمت گوہر ولعل بدخشاں ملا

خدا، نبی، خلافت، سینے میں لئے قرآن
اسی کے طفیل ،ہمیں خدا کا عرفاں ملا

دنیا کے جھمیلوں اور اپنوں کے تیروں میں
محبتوں کا سمندر، کوہ غم کا فرساں ملا

لطافت، وجاہت، چاہت اور محبت کا پیکر
تنہائی میں، خالق کے اگے آہ و فغاں ملا

جہاں دیکھوں ، جدھر جاؤں، جو تھاموں
ٹوٹی امید میں، سجدوں کا نشاں ملا

بندہ پرور، وقت کو غلام بنایا ہر لمحہ
باندھے اپنے رب سے عہد و پیماں ملا

توکل سے لبریز، دیکھوں میں ایسا کہاں
شکر و احساں ،ہمیں ہمارا دل و جاں ملا

 

ودود

 


 

               غزل

 

 

 

منتظر تھی جس کی نگاہ
وہ نگاہ عشق اور تھی

آہٹ ، پیغام یار لاتی
اس بار کہیں دور تھی

مہکتی ہوا جس بو سے
وہ اپنے دل کا چور تھی

.محبت جو تریاق عشق تھی
وہ تڑپ کہیں اور تھی

ودود کہاں چلی نغمگی
جو آنکھوں کا غرور تھی

 

 

ودود

27.11.16


 

نہ بچھڑ کے جا، وحشت زدہ تنہائی میں
خاک سے خاکستر کو بھلانا نہیں اچھا
دور ہوئی جاتی ہے نگاہ وہ مستانہ
اے آنکھ ٹھہر، کہ اب جھکانا نہیں اچھا
زندگانی کے جنگل کے خار دار رستے
شک سے اشکوں کو بہانا نہیں اچھا

 

 

ودود

13.11.16


 

 

 

 

تجھ کو خبر نہیں!! مرتا ہے انسان
“انس “سے بن کر ، کٹتا ہے انسان
تخم “رحم “سے بے رحم بنتا ہے انسان
کیوں شب وروز” جن” سے لپٹتا ہے انسان

 

ودود

21.11.16


 

 

 

دن بھر دنیا کو پوجتے خدا یاد نہ رہا
مشکل میں شب تنہائی بھی آباد ہوئی

 

 

ودود

 

 


 

غزل

آج کا لفظ تو کافی مشکل ہے صاحب
ہمیں صاحبہ بننے سے ڈر لگتا ہے

دنیا کے روزوشب عجب ہیں اے خدا
کہ رشتے سبھی نبھنے سے ڈر لگتا یے

یہ ماٹی، چلمن ، یہ لاشہ بے بسی کا
صنم! اب گلبدن سمجھنے سے ڈر لگتا ہے

بہت درد ہے اس بے وفائی کا صاحب
دیوان عشق پڑھنے سے ڈر لگتا ہے

اب آنکھیں ترانہ یار ہیں دمبدم
شوخیوں کے کھنکنے سے ڈر لگتا ہے

اس بے ثباتی سے اجڑا ہے من صاحب
وفاؤں پہ سر رکھنے سے ڈر لگتا ہے

سرد گرم ہواؤں کے تیور سےصاحب
ودود خداسے ڈرنے سے ڈر لگتا ہے

 ودود


 

 

دوست دوست سے عہد وفا لے گیا
دیکتھے دیکتھے وہ دوست ہی لے گیا
کس کا اعتبار ہو اے قاتل زندگی
دوست ہی زندگی میں دغا دے گیا

  

ودود


 

تم ظلم کی انتہا کرو
نفرتوں کا پرچار کرو
عزت و ناموس تار تار کرو
محبت کو داغدار کرو
دشمنی کی یلغار کرو
پھر اس کو بار بار کرو

ہم محبت کے علمبردار ہیں
دعا سے تقدیر بدل دیں گے

ودود

17.11.16


 

حوداث زمانہ نے پلٹ دی میری قسمت
صنف نازک سے کوہ عزم و ایمان کردیا
لگام وقت تھامے دستار زمانہ پہنے
باہمت سے چاق و چوبند توانا کردیا

ودود

9.12.16


 

عورت خودی ہے ، خودی کی ترجمان یے
کمزور نہیں یہ، کمزور تو شیطان ہے

عورت پہاڑ کی دہلیز پہ رکھا پہلا قدم
دیکھو تو عزم اس سے بھی عالیشان ہے

عورت ہی نبوت و خلافت کی پہلی مدرس
عورت اپنی مقصدیت کا اونچا نشان ہے

عورت کو خدا نے چن لیا باعث تخلیق
پیدا کیا وہ اشرف المخلوق، نام انسان ہے

عورت صبر و ہمت کی طاقت لئے یوں چلے
امن سے بدل دے جس کو، وہ رخ طوفان ہے

عورت تو خودکو نہ اتنا بے بس و مجبور کر
زور دعا ایسا کہ اوپر نیچے لرزتاآسمان ہے

عورت پیار کی پھیلی دور تلک انوکھی وادی
خدائے رحمن کا رحم صرف تجھ میں پنہاں ہے

عورت تو علم وعمل کی عجب قرطاس اعظم

کہ زندگی کی ہر سطر صرف دستور قرآں ہے

عورت بدل لے چال اپنی کہ نبی کی پکار ہے
ودود خود میں لپٹی یہ ناداں و نسیاں ہے

ودود

3.12.16


 

سن ! امید اجل نہ رکھ کہ دل دہل جائے
” اب اسقدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے”

باندھ لو راہی، اس من چلے دل کی گرہ
ایسا نہ ہو کہ وقتِ وصل وہی بدل جائے

رشتہ الفت کی تلخی اتنی نہ بڑھانا
سمیٹ لو خود میں کہ اب سنبھل جائے

وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَہ شیوہ محمد نہیں
فرقے ترک کر کہ ایمان نہ پھسل جائے

نفرتوں کی اونچی چٹان عرش کو چھوئے
کہیں یہ نہ ہو کہ اب آسمان پگھل جائے

فطرت نمرودیت نے توڑا کبر فرعون
ظلم کی انتہا ہے کہ زمین دہل جائے

پیغام محبت کا شش جہت پرچار کردو
ودود آستانہ” الودود” پر اچھل جائے

* الودود خدا کا نام ہے

 

ودود

3.12.16


 

جان لو کہ تم نے ستم ڈھائے ہیں کیا کیا
” شب فراق میں ہم تلملائے ہیں کیا کیا”

چمن کے سب رنگوں سے بنا پیراہن میرا
خشت و خار سے بھی لپٹائے ہیں کیا کیا

بے خودی میں تمہارے پیچھے چل پڑے
ستم گر نے ہی آئینے دکھائے ہیں کیا کیا

زندگی بے رونق کر کے چل دئیے پردیس
اس رہ عشق میں صدمے اٹھائے ہیں کیا کیا

لاکھ زمانے کی گردشوں میں گم ہیں ہم
برسات نے بھی آنسو بہائے ہیں کیا کیا

جائیے جائیے اب شعر کہنے کی سکت نہیں
محفل ادب میں اغلاط لائے ہیں کیا کیا

ودود مرمریں سی چمکتی محفل میں
بتلائیں کیسے؟ عذاب آئے ہیں کیا کیا

ودود

9.12.16


زندگی کی چاہت کرنے والے اےنسیان، انسان
جان کر، پہچان کر ، کہ زندہ ہے اب بھی خدا

ماٹی، خورشید، چرند پرند سب ہیں نشان
نوری ہو یا ناری ہو صورت، سب کا ہے خدا

بے خبر ، بے ہنر، بے علم ومعرفت کے چٹان
تو بندہ بشر ہے، سب بندہ پروروں کا ہے خدا

خلیفہ خدا آدم سے لیکر ابلیس کفراں
سفر جنت سے لقمہ اجل تک تُو پابندِ خدا

کن فیکون سے تخلیق ہو گئے دونوں جہاں
جلوہ و کلام واذن لئے بولتا ہے اب بھی خدا

ودود

14.12.16


 

بہاروں کو تخیل سے فرصت نہیں ہوتی
خزاں خود شب فراق کا حساب رکھتی ہے
جس دم چمن میں بچوں پر خزاں آتی ہے
انکی بو ہی اس چمن کو مہکا رکھتی ہے

ودود

16.12.16


     اسیران رہ مولی

 

فرعون ونمرود کے لشکر کے علمبردار
اس دور کے ملا نے اسلام جبر کردیا

اے ملا! کب تک کلمہ و ذکر مٹاؤ گے
ہم نے سینہ میں بسا کر امر کردیا

اسم محمد سے تم مسجدیں گرادو
ہم نے مسجدیں بنانا مکرر کر دیا

خون شہداء سے اپنے ہاتھ رنگتے رہو
اس خون نے شجر اسلام باثمر کردیا

کفر کے فتووں نے اسلام کو نہتا کردیا
عشق محمد کی قسم پھر قمر کردیا

اے اسلام کے اصل کاغذی ٹھیکیدارو
دیکھو تو سہی کیسے جاری نہر کردیا

تم نے کلمہ و قرآں کو ہم سے روک لیا
ہم نے اس کو بحر و بر میں نشر کردیا

اے جھوٹے عشق ومحبت کے دعویدارو
ہم نے مقتل میں بھی تمہارا حشر کردیا

ہم راہ عشق و محبت میں پابند زنجیر
للّہ !! ہم نے عشق محمد کو امر کردیا

ودود

16.12.16


 

عشق گر کر بیٹھے تو کیوں حساب لیتے ہیں
“جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں”

بارشوں کے موسم میں کھنکتی ہیں صدائیں
شب تنہائی میں اب گھنگروصدا دیتے ہیں

وہ جو تھکتے نہیں مرنے کی دوا بن بن کر
لب انہی کو شب ہجراں میں دعا دیتے ہیں

صفحہ عشق کی ہر سطر پیغام محبت تھی
جانے کیوں وہ سب ہر بار مٹا دیتے ہیں

ودود جن کی محبت میں ذرا بھی دم نہیں
آج انکی یاد کو سمندرمیں بہا دیتے ہیں

ودود

6.1.17


 

نہ شکوہ، نہ شکایت نہ ہی گلہ ہے
تیرے دم سے یہ پیارا گروپ چلاہے

17.1.17


زلف بکھیرے کوچہ جاناں میں پھرتے ہیں
شاید کہ پھر ویرانے میں لیل و نہار آجائے

بے خبری اتنی کہ دل میں گرد چھپا بیٹھے ہیں
ہوش صنم گر بیدار ہو تو برگ وبار آجائے

ودود

19.1.17


 

اے وجہ تخلیق کون ومکاں، سید العا لم
اے رُخِ آفتاب ونجوم، اے ماہِ تمام
اے والئ ارض وسماء، اے عادل قوام
اے رحمت اتم وارفع، ہر خاص و عام
علیک الصلوۃ علیک السلام

اے شاہ شرق و غرب ، عرب وعجم
اے شہہ کون ومکاں تو رحم و کرم
پھیلا تھا ہر شش جہت ظلم وستم
اک طلوع ماہتاب سے سب ہوا ختم
علیک الصلوۃ علیک السلام

دم عیسی ، طور موسی، حسن یوسف، خلیل اللہ
ہے عظیم سدرۃالمنتہی خواب محمد
کس طرح زیر وزبر ہوئے سب لشکر اعظم
ید اللہ، روح اللہ یا اک للکار محمد
علیک الصلوۃ علیک السلام

چہرہ تھا اسکا یا خود خدا کی پذیرائی
نور محمد سے ماند پڑگیا نجم السحر
رخ محمد کی تاب سے چاند شرماگیا
یکلخت جھلک دیکھتے ہی ہوا شق القر
علیک الصلوۃ علیک السلام

درد امت کی شفاعت لئے وجہ محمد پرنور
حق انسانیت بخشا تو خلقت ہوئی مسرور
دل چیرتی ظلمات کی اندوہ بستیوں میں
پھیلا کر ابر کرم کیا سب مغلوب و منصور
علیک الصلوۃ علیک السلام

ودود

19.1.17

 


 

 

رقص و سرور سے محفل تماشا بنے
گارہی ہےزندگی کوئی افسانہ بنے
عشق آتش میں قصہ پرانابنے
شمع جلتی رہے جاں لٹانابنے

ودود

23.1.17

 


راحت کا اک نصاب لکھ دو
چاہت کا اک حساب لکھ دو

اس بیتے پل کا کیا لکھو گے
عادت کو تم سباب لکھ دو

رات کی کالی وادیوں میں
آہٹ کا اک عتاب لکھ دو

چائے سے چاہ تک کا عالم
ساعت کوتم عذاب لکھ دو

کتنا جاں بلب ہے ودود
صحرا کو اک سراب لکھ دو

ودود

27.1.17

 


پنچھی اپنا بن بن اڑے
زندگی اپنی بن بن رکے

شام وسحر بلکتا بدن
گتھی گتھی تن تن سڑے

9.2.17

 


 

اتنی چالوں سے زمانے نہ گراتے جاؤ
کیا ہے اونچائی محبت کی بتاتے جاؤ

درد کیا جانے درد دل کی لذت و سرور
قید کے سارے تقاضے ہی اڑاتے جاؤ

یہ محبت تو فرش والوں کا حسن ہے
تم پرانے ا فسانے سے دباتے جاؤ

دل کی چوکھٹ پہ یونہی آنے والے
تیر نظراں سے نظر کو چراتے جاؤ

من ہی من میں یونہی تن تڑپاتے ہوئے
کس نے کہا کہ یہ تارے ہلاتے جاؤ

اب نہ پوچھو کہ کیا حال ہے ودود
دل پہ لکھی سطر مٹاتے ہی مٹاتے جاؤ

شعلہ کی اک لپک سے شہر اجڑا ہے
یہ کون میرے دیس میں تڑپا ہے

13.2.17

چشم صنما ہے کہ مقتل بےمروت
وقت محشر بھی خدا یاد نہ رہتا

زلف ایسی کہ خزاں میں صبا آجائے
اس کے لہرانے پہ بے قابو رہتا

شرم سے گال پہ شبنم موتی بنا جائے
جب سے دیکھا اسے پگلا بے کل رہتا

رنگ دھنکا سے دھلا ہے جوبن
شوخ ادا سے بے دھڑک رہتا

عشق آنچل میں اڑا – بدن
مچلے بن مدھم و بے سر رہتا

عشق جاناں میں پگھلتا ہے ودود
مہکا من یونہی بے مہکا رہتا

 

 

ودود

10.2.16

 


 

 

ہم ہیں بستی کے تلملائے لوگ
ہم تو ہیں سپنے سے دکھائے لوگ

کب تلک بھنورے نے خوں نچوڑا ہے
تپ گئے یاد میں رلائے لوگ

بیچ محفل میں تم نے ادھورا کیا
“ہم کو اپنائے ہیں پرائے لوگ”

لب کو بھینچا تو عرش ہلا گئی
تر گئے اشک میں سلائے لوگ

غم کی اندوہ بستی کے نشیمن میں
خال و خد سے سجے سجائے لوگ

ہم کو بھیجا ہے عرش والے نے ودود
اُنس سے بدلے ہیں یہ شیطاں ملائے لوگ

 

ودود

 

12.2.17

 


 

 

وہ پنچھی آزمائے کئی سال ہوگئے
صبر و رضا چرائے کئی سال ہوگئے

رقت ہوئی تو سوچا نہیں ہم نے نگینہ
شمس و قمر رلائے کئی سال ہوگئے

آنکھوں نے چوٹ کھائی تو دیکھنا چھوڑا
“خود سے نظر ملائے کئی سال ہوگئے”

حدت جنوں میں کیوں ا تنا کچھ سہنا پڑا
خود سے ثمر اڑائے کئی سال ہوگئے

شدت سکوں کی آس میں جینا چھوڑ دیا
تب سے خمار اٹھائے کئی سال ہوگئے

نغمہ خزاں نے آسماں میں ہالہ کھینچا
ودود اب تو گنگنائے کئی سال ہوگئے

 

ودود

26.2.17

 


 

 

محبت میں خود کو سنوارا نہیں ہے
“تمہیں پا کہ کھونا گوارا نہیں ہے”

اب تو آجا ؤ اس دل سے جانے والے
کیا اب بھی دل میں کوئی اشارہ نہیں ہے

دہر عشق میں وحشتوں کے بیچ
کہ اپنا تو تم بن گزارا نہیں ہے

محبت میں نفرت کو ہوا دینے والو
کیا تمہیں اب کوئی پیارا نہیں ہے

یوں چالوں سے اپنی ادھورا کرکے
ہاں !! تمہیں بھی اپنا سہارا نہیں ہے

اسی زعم میں یہ نہ بھولو کہ اب سے
خدا کی سزا کا کنارا نہیں ہے

ودود اب صدا عرش کو جا لگے گی کہ
یونہی اب سے کوئی تمہارا نہیں ہے

 

ودود

 

26.2.17