ریحا اظہر

             غزل

کچھ اور بن نہ پائی تو گھبرا کے رو پڑے
دل کو تمہاری یاد سے بہلا کے رو پڑے

گلُچیں نے توڑ ڈالی تھیں کلیاں نشاط کی
شبنم گواہ ہے پھول بھی کمُلا کے رو پڑے

ہاتھوں پہ لکھا کاش یہ قسمت کا لکھا ہو
مہندی تمہارے نام کی لگوا کے رو پڑے

اس بیوفا کے پیار نے ایسے ستم کیئے
“باہر کبھی ہنسے بھی تو گھر آکے رو پڑے”

آنکھوں کو جامِ اشک پلاتے رہے تھے ہم
تشنہ لبی میں انکو ہی چھلکا کے روپڑے

آئی نہ دوستوں کی ہمیں راس دوستی
ہم دوستی کے نام پہ دکھیا کے رو پڑے

کچھ ایسا بڑھ گیا تھا شبِ ہجر کا جنوں
ہم خود کو اپنے آپ سے مِلوا کے روپڑے

کب روئے تھے کبھی کہ ہم محفل کی جان تھے
چلمن پرانی یاد کی سِرکا کے رو پڑے

کل چلدیئے تھے چھوڑ کر ریحا  جو اپنا ساتھ
تربت پہ میری کس لیئے چِلّا کے روپڑے

ریحا اظہر


تنہائی تم تو شاہد ہو

تنہائی تُم تو شاہد ہو۔۔۔
میرے بیتے ہوئے کل کی
میرے گزرے ہوئے پل کی،
میری سُنسان راتوں کی،
میری بے چین باتوں کی،
تنہائی تُم تو شاہد ہو۔۔۔۔
میری سنسان راتوں کی
وہ راتیں جو گزاری ہیں
کبھی مرکے
کبھی جی کے۔۔۔
ابھی تک یاد ہے مجھ کو
کبھی تاروں کی چھاؤں میں
اکیلے پیڑ کے نیچے
وہ گھنٹوں بیٹھ کے رونا!
وہ گھنٹوں سوچتے جانا۔۔۔۔
کوئی پل ہو کوئی رُت ہو
اسے بس سوچتے رہنا۔۔۔۔۔!
تمہیں تو یاد ہوگا سب
تمہیں تو یاد ہے نا سب
کہ تم تو ساتھ تھی میرے
تو میری جاں!
کبھی جو ہوسکے تو تم میرا
اک کام کر دینا
کہ جاکے اُنکو دھیرے سے
میرا سب حال کہدینا
خُدارا! جھوٹ نہ کہنا
کہ تُم تو ساتھ تھی ہر دم
میرے گزرے ہوئے پل میں
میرے بیتے ہوئے کل میں
میری سنسان راتوں میں۔۔۔
کہ پیاری تُم تو ساتھی تھی
کہ پیاری تُم تو ساتھی ہو
تنہائی تُم تو شاہد تھی
تنہائی۔۔۔
تُم تو شاہد ہو!!

     ریحا اظہر


                غزل

وہ جو نظریں چرائے بیٹھے ہیں
آگ دل میں لگائے بیٹھے ہیں

ساقیا! آج جام رہنے دے۔۔۔۔۔
خود کو ہم غم پلائے بیٹھے ہیں

درد،آنسو،فراق،تیرے بعد
کیسے بانہیں پھیلائے بیٹھے ہیں

ہجر کی رات اپنے کمرے میں
تیری یادیں سجائے بیٹھے ہیں

آج اِٹھلا کے چل رہی ہے ہوا
وہ چمن میں جو آئے بیٹھے ہیں

شہر میں اب کوئی نہیں ریحا

         بن کے اپنے پرائے بیٹھے ہیں

ریحا اظہر


                 غزل

ہم نے دل میں تمہیں بسانا تھا
“باقی جو بھی تھا سب بہانہ تھا”

ہجر کی رات میرے کمرے میں
تیری یادوں کا اِک خزانہ تھا

آخری سانس تھی محبت کی
ساتھ ویسے بھی چھُوٹ جانا تھا

درد کے بے نشاں جزیروں پر
خواہشوں نے جہاں بسانا تھا

دان کر ہم نے سارا جیون بھی
کھو دیا اسکو جس کو پانا تھا

آگئے تم صنم ! شبِ ہجراں
ورنہ ہم نے تو مر ہی جانا تھا

عشق،چاہت،وفا،خوشی سے سجا
میرا چھوٹا سا آشیانہ تھا

تیرے جانے سے اور کیا ہوتا
میرا کاجل ہی مسکرانا تھا

دِید کی آس تھی نگاہوں کو
آخری وقت آ ہی جانا تھا

ہم نے راہیں اُجال دیں ریحا
بس دیا پیار کا جلانا تھا

ریحا اظہر


                 غزل

خواب آنکھوں میں میری جان ! سما سکتے ہیں
تاج محل ہم بھی محبت کا بنا سکتے ہیں

دل کے ذخموں کو چُھپا رکھتے ہیں دل کے اندر
ورنہ تو ہم بھی بہت شور مچا سکتے ہیں

تھام رکھا ہے دُعاؤں کا عصا ہر لمحہ
“کہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں”

گرد اَٹ جائے اگر دل کے سبھی رشتوں پر
آئینہ خود کو پھر ہم کیسے دِکھا سکتے ہیں

ہجر کی شب ہے،محبت کا کوئی گیت نہیں
ہم تیری یاد کے گھُنگرو تو بجا سکتے ہیں

ابکے پیاسے رہیں ریحا کہ زمانے والے
درد کے جام ہمیں پھر سے پلا سکتے ہیں

ریحا اظہر


                 غزل

منزل ملی نہیں کبھی رستہ ملا نہیں
پھر بھی اے زندگی!ہمیں تجھ سے گلہ نہیں

اوڑھے ہوئے تھی ہجر کی شب ماتمی لباس
کوئی بھی آسماں پہ ستارا دِکھا نہیں

کیا ڈھونڈتا ہے دل میرےان دُھندلکوں کے پار
راہوں میں کوئی اپنے لیئے اب کھڑا نہیں

ترکِ تعلقات نے ایسے ستم کیئے
“اب تو دُعا سلام کا بھی حوصلہ نہیں”

گھر کی ویرانیاں بھی ہواؤں سے جا مِلیں
آہٹ سے ابکی بار کوئی در ہلا نہیں

میں منتظر رہی کوئی جاتے پکارتا
لیکن نگاہِ یار نے کچھ بھی کہا نہیں
ریحا اظہر


نعت بحضور سرورِکائناتﷺ

محمدؐ مُصطفیٰ بدرالدُجا ھے
محمدؐ روشنی ، شمس الوریٰ ھے

شُجاعت اور صداقت کا ھے پیکر
محمدؐ بادشاہ ہر دو سرا ھے

میری ہر سانس میں زکرِ محمدؐ
محمدؐ دِل ھے اور دِل کی صداھے

محمدؐ چاند نبیوں کے جلو میں
محمدؐ تاج فخرالانبیاء ھے

خُدا کے بعد اپنے دل کا مسکن
محمدؐ مُصطفیٰ صلِ علیٰ ھے

خُدا کا پیار ھے پیارا محمدؐ
“محمدؐ پر ھماری جاں فدا ھے”

ریحاؔ اظہر


                غزل

یاد کسی کی ایسی رُوٹھی گلے لگانا بھُول گئی
خوشی اُسی کے دم سے تھی جو در پہ آنا بھُول گئی

سُندرتا کیا خوب تھی موہنی صورت تھی سنگھار سجی
پیتم بچھڑا،بکھرا کاجل،بال بنانا بھُول گئی

نین کٹورے رِم جھِم برسے ہجر کی کالی راتوں میں
اندر ساری یادیں بھیگیں دیپ جلانا بھُول گئی

اپنے ساجن کی یادوں میں سُدھ بُدھ کھوئے بیٹھی تھی
“خط کو چُھپا کر پڑھنے والی راز چھپانا بھُول گئی”

ہاتھ دکھانے جوگی پاس گئی تھی بھاگاں والی نار
جوگی کے سنگ اکھیاں لاگیں ہاتھ دکھانا بھُول گئی

ابکے مست نگاہِ ساقی پیار کی مئے چھلکاتی رہی
نظروں کی میں پیاس بجھاتی ہوش میں آنا بھُول گئی

       ریحا اظہر


چاند آنگن میں میرے آیا تھا
دل میرا کیسا گنگنایا تھا
شام کے ملگجی اندھیروں میں
پیار کا اک دیا جلایا تھا

ریحا اظہر


شہدائے لاھور کے نام…..!!!

ایک سجده کیا اوراَمر ھوگٴے

ایک لمحےمیں پودے شجرھوگٴے
وه جو دھرتی پہ رہتےستاره بنے،
آسماں پربھی دیکھو قمر ھوگٴے
ایک سجده کیا اوراَمر ھوگٴے…..

خُوں شہیدوں کااِک داستاں لکھ گیا
دن جُمعے کا نیا اِک جہاں دے گیا
میرےپیاروں نے جامِ شہادت پیا،
اور عدُو ہر طرف دربدر ھوگٴے…
ایک سجده کیا اوراَمرھوگٴے…..

رو رہی تھی فِضاسارے لاھور کی،
ایک آندھی چلی تھی بڑے زور کی
(بات اِِسمیں بھی مُضمر ھے اِک غورکی)
اوڑھنی دُھوپ لیکر مؤدب رھی،
سایہ دینے کو یکدم ابر ھوگئے…
ایک سجده کیا اوراَمر ھوگٴے…..

گولیوں کی گرج اور تڑا تڑ برس،
قہر بارُود کا الاماں،ہر طرف…..
تاج سر کے چھینے،وِیر رُخصت ھُوے
دُور ماؤں کے لختِ جگر ھوگئے….
ایک سجده کیا اوراَمرھوگٴے…..

جِتنے سارے مُّحب تھے ھُوے جب فِدا
وقتِ رُخصت رھا ہر نظارا گواه
سُوکھتے لَب پیاروں کے ذِکرِ خُدا،
اور ذِکرِمحمدﷺسے تر ھو گئے….
ایک سجده کیا اوراَمر ھوگٴے…..

آزما لے کوئی کتنا کر لے ستم‘
ڈور سے ھیں بندھے اِک خلافت کی ھم
اِک اشارے پہ تن اور من وار دیں،
اب تو بچے بھی اپنے نڈر ھو گئے….
ایک سجده کیا اوراَمرھوگٴے…..
ایک سجدہ کیا اور امر ہوگئے۔۔۔

ریحا


           غزل

“غموں کو ساغر سمجھ کے پینا نہ لب پہ کوئی سوال رکھنا”
میرے اندھیروں کی فکر چھوڑو بس اپنے گھر کا خیال رکھنا

پہنچ تو جاوگے تم کنارے ملے گا ساحل بھی تم کو اک دن
جو بیچ لہروں میں گِھر چکے ہیں تم اُن کا بھی تو خیال رکھنا

وہ پھول سارے بکھر چکے ھیں ھوا کے ھاتھوں خبر ملی ھے
جو زخمی ھاتھوں سے ھم نے چُن کر کہا تھا جن کو سنبھال رکھنا

یہ آرزویئں یہ وصلِ جاناں یہ چاند راتوں میں گنگنانا
یہ سلسلے سب خزاں کی رُت میں بہار کی تُم مثال رکھنا

یہ فاصلوں کا کرم ھے ھم پر جو راستے یوں جُدا جُدا ھیں
نہ سیکھا اُس نے نہ ھم نے جانا سفر میں قُربت بحال رکھنا

جفایئں اپنوں کے گھر سجا کے وفایئں غیروں میں بانٹ ڈالیں
کہاں سے سیکھا ھے تُم نے جاناں عداوتوں میں کمال رکھنا

یہ آگ دوُری کی کب بجھے گی جو تُم نے ہر سُو ھے یوں جلایئ
ھم ہجر راتوں میں جل مریں گے کبھی تو جاناں وصال رکھنا

جو دسترس میں تھا اپنے ریحاؔ تمام اُن کو ھے سونپ ڈالا
کوئی خدارا اب اُن سے کہہ دے میری وفا کا خیال رکھنا

ریحاؔ


ایک باپ کی یقین دہانی

میرے بچو ۔۔۔۔!
مجھے تم ساتھ پاؤ گے

وہ ہو خوشیوں کی ساعت
یا کسی بھی غم کی آہٹ ہو
کوئی انجان واہمہ ہو
لبوں کی مسکراہٹ ہو
دعاوں سے میری،آگے ہی آگے
بڑھتے جاو گے
میرے بچو!
مجھے تم ساتھ پاؤ گے۔۔۔۔

میری جیون کہانی کے
تمہی کردار ہو پیارو
میرے پیارے خدا کا فضل،
اُسکا پیار ہو، پیارو۔۔۔!
جب اُس پیارے خدا کا دین
دل میں تُم بساو گے
میرے بچو!
مجھے تم ساتھ پاؤ گے۔۔۔

تمہیں جیون میں پیارو
دل لگا کے کام کرنے ہیں
بہت سی نیکیوں میں اپنے
روشن نام کرنے ہیں
جب اِن ننھے سے قدموں سے
کوئی رستہ بناو گے
میرے بچو!
مجھے تم ساتھ پاو گے۔۔۔۔

جب پہلی بار مجھ کو میری جاں!
بابا بلایا تھا
تمہیں بانہوں میں بھر کے کسطرح
دل سے لگایا تھا
پرانی یاد کی جب بھی کوئی
چلمن اُٹھاو گے
میں جب نہ بھی رہوں تب بھی
تم اپنے دل میں پاؤ گے۔۔۔۔
میری باتیں جب اپنے
جگر گوشوں کو سناو گے۔۔۔
تو اپنے پاس پاو گے۔۔۔!
میرے بچو!
مجھے تم ہر گھڑی ہر پل
اپنے

ریحا


یہ موسمِ غمِ جاناں اگر بدل جائے
تو دل میرا بھی زرا دیر کو سنبھل جائے

یہ رتجگے مجھے کہتے ہیں،اُس ستمگر کو!
“اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے”

تمام عمر رہے درد کے مکانوں میں
زرا سی دیر کو خوشیوں کا در بھی کھُل جائے

تھمی افلاک کی گردش خدا خدا کرکے
کہیں زمانہ نئی چال پھر نہ چل جائے

نویدِ وصل کی آہٹ کبھی تو ہو ریحا
خدا کرئے شبِ فُرقت کہیں نکل جائے

ریحا اظہر


یاد کسی کی ایسی رُوٹھی گلے لگانا بھُول گئی
خوشی اُسی کے دم سے تھی جو در پہ آنا بھُول گئی

سُندرتا کیا خوب تھی موہنی صورت تھی سنگھار سجی
پیتم بچھڑا،بکھرا کاجل،بال بنانا بھُول گئی

نین کٹورے رِم جھِم برسے ہجر کی کالی راتوں میں
اندر ساری یادیں بھیگیں دیپ جلانا بھُول گئی

اپنے ساجن کی یادوں میں سُدھ بُدھ کھوئے بیٹھی تھی
“خط کو چُھپا کر پڑھنے والی راز چھپانا بھُول گئی”

ہاتھ دکھانے جوگی پاس گئی تھی بھاگاں والی نار
جوگی کے سنگ اکھیاں لاگیں ہاتھ دکھانا بھُول گئی

ابکے مست نگاہِ ساقی پیار کی مئے چھلکاتی رہی
نظروں کی میں پیاس بجھاتی ہوش میں آنا بھُول گئی

ریحا


درد آنکھوں میں سمٹتا جائے گا
“رفتہ رفتہ غم مجھے کھا جائے گا”

آگیا فُرقت کی شب اُس کا خیال
آتے آتے چین بھی آ جائے گا

مسکنِ دل کا کرایہ کچھ نہیں
جس کو رہنا ہو،وہ رہتا جائے گا

کشتیِ موجِ جنوں میں بیٹھ کر
ساحلوں سے ملنے دریا جائے گا

چشمِ تر روتی رہے گی رات بھر
اور کاجل مسکراتا جائے گا

وقتِ آخر ہے، چلے آنا صنم
آکے ملنے میں تیرا کیا جائے گا

حال پوچھا ہے ستمگر نے میرا
کیا کہیں ریحا وہ گھبرا جائے گا

ریحا اظہر


درد آنکھوں میں سمٹتا جائے گا
“رفتہ رفتہ غم مجھے کھا جائے گا”

آگیا فُرقت کی شب اُس کا خیال
آتے آتے چین بھی آ جائے گا

مسکنِ دل کا کرایہ کچھ نہیں
جس کو رہنا ہو،وہ رہتا جائے گا

کشتیِ موجِ جنوں میں بیٹھ کر
ساحلوں سے ملنے دریا جائے گا

چشمِ تر روتی رہے گی رات بھر
اور کاجل مسکراتا جائے گا

وقتِ آخر ہے، چلے آنا صنم
آکے ملنے میں تیرا کیا جائے گا

حال پوچھا ہے ستمگر نے میرا
کیا کہیں ریحا وہ گھبرا جائے گا

ریحا اظہر


شبِ فراق! تجھے کیوں ستا

رہا ہے کوئی

“سُنا ہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی”

جنوُں میں عشق کے، راتوں میں گنگناتے ہوئے
پرانی یاد کی چلمن ہٹا رہا ہے کوئی

دُھواں دُھواں ہیں فضائیں عجب نمی سی ہے
کہ آنسوؤں سے لکھے خط جلا رہا ہے کوئی

تمہارے سارے اندھیرے اُجالنے کیلیئے
دعا میں رات دن آنسو بہا رہا ہے کوئی

خزانے درد کے ہم بھی خرید لیں ریحا
سنا ہے پیار سے قیمت لگا رہا ہے کوئی

ریحا اظہر