جمیلہ ارشد سحر


 خدا کی ذات ہوتی ہے

 

خدا کی ذات ہوتی ہے

کہیں جب گُھپ اندھیرا ہو

یا جب آہوں نے گھیرا ہو

کسی جنگل، کسی پربت

کسی بستی میں ڈیرا ہو

تو دل کے ساتھ ہوتی ہے

خدا کی ذات ہوتی ہے

کہ دُکھ جب حد سے بڑھ جائے

جب ہر سُو رات چھا جائے

کوئی دامن ،کوئی آنچل

کوئی جگنو نہ مل پائے

تو غم میں ساتھ ہوتی ہے

خدا کی ذات ہوتی ہے

کہ جب اُس دل کے دامن میں

نہ پھول، اور نہ ہی کلیاں ہوں

 نہ آنکھوں میں کوئی سپنا

اور سُونی دل کی گلیاں ہوں

تو دل کے ساتھ ہوتی ہے

خدا کی ذات ہوتی ہے

بہاریں ہوں، خزائیں ہوں

خوشی ہو یا گھٹائیں ہوں

جو دل،دامن اور آنگن کو

ہر اک خیر سے بھر دے

وہی دن رات ہوتی ہے

خدا, کی ذات ہوتی ہے

نگاہیں جب بدل جائیں

ادائیں جب مکر جائیں

جو دلداری نبھائے تب

جو بے حد پاس ہوتی ہے

خدا کی ذات ہوتی ہے

خدا کی ذات ہوتی ہے

 

 

جمیلہ ارشد سحر

 

 

 


 

 

 

 

               غزل

 

 

کبھی ڈور کو ڈھیلا چھوڑے،کبھی باندھے کرے     اسیر

بولو چاہت کچا دھاگا، یا پھر لوہے کی زنجیر

یہ نہ مانے،یہ نہ سمجھے، کرلوچاہے لاکھ بہانے

ہاریں دل کی سب تدبیریں، جیتے بس تقدیر

آس کاپنچھی پر پھیلائے، یا پھر دور افق اڑ جائے

یہ تو بس میں تیرے خاکی، توکر کوئی تدبیر

موقع پاتے جو اڑ جائے روح پنجرے میں رکھا  خاکی

اسکی ہوگئی ہستی دیکھورب کی راہ میں لیک    تسخیر

بانٹ لو ،آجاؤ دل کی گلیاں، اس کے حصے کرلو

یہ انڈیا، یہ دیس میرا،یہ بے بس کشمیر

جانے والے کو روکنا کیسا؟اس نے کب رک جانا ہے

رو کر دل کو ہلکا کرلو، کہں ہو جانا نہ دلگیر

!ذات پات کے جھگڑے چھوڑو اے مٹی کے انسان

صدیوں سے تخریب ہوئی ہے،اب کرلو تعمیر

یہ دل نکلا ناقص عاشق غم کو بالکل سمجھ نہ پایا

جو پردےمیں رکھنا تھا، کردی اس کی تشہیر

اتر، دکھن، پورب، پچھم، تیری ذات ہے مولی

میں کملی، میں بےبس، میری ہستی لیر ولیر

 

 

 

 

 

جمیلہ ارشد سحر

 

 

 


 

 

میں اکثر سوچتی ہوں

 

 

 

میں اکثرسوچتی ہوں….

بدلتےوقت کی رفتار کااب کیا تقاضاہے؟

مجھےاورساتھیوں کووقت نےاب کیاسکھاناہے؟

کہ اب سازمحبت نے نیا کیاگیت گاناہے؟

ہمیں اس سال میں کھونا ہے کس کو،کس کوپاناہے؟

کہ اب جب ہاتھ کی ریکھائیں ماتم کناں ہیں تو…..

کس دھارے کے رخ بہنا ہے اب کس دیس جانا ہے؟

میں اکثرسوچتی ہوں ….

کہ سنہرے پانیوں کی دلکشی سے ہم اگرنکلیں

توپھرکس نیلگوں ساحل پہ خودکوآزمانا ہے؟

یہ دھرتی مرثیہ خواں ہے کسی بیوہ کی صورت میں

کہ جس کو سارے بیٹوں نے ترکے میں بیچ کھانا ہے

زمانے میں اگر نکلیں ہم درد کا تاوان بھرنے کو

ہمیں کنگال رہنا ہے کہ یہ سکہ پرانا ہے

میں اکثر سوچتی ہوں…

کہ آج اس بزم میں موقع ملا ہے خود نمائ کا

میرے یارو!میرے پیارو!مجھے بس تم سے کہنا ہے

برائ گرکرتے کوئ تمھیں بے زاررہنا ہے

گناہ کے کام میں تم کو یونہی بے کاررہنا ہے

زمانے میں جھکا کر سر کو طرح داررہنا ہے

وطن کی زیست کی خاطر تمھیں ہمواررہنا ہے

کرو اقرارتم یہ آج،تمھیں اقرار کرنا ہے

کہ جگ چاہے کرے کچھ بھی تمھیں بس پیار کرنا ہے

مٹا کر نفرتیں ساری دلوں کو یار کرنا ہے

تمھیں بس پیار کرنا ہے،تمھیں بس پیار کرنا ہے

میں اکثر سوچتی ہوں….

 

 

جمیلہ ارشد سحر

 

 

 

 

 


 

 

 

               غزل

 

اس عشق کے ہاتھوں لا چاربہت ہیں
ہم یوں بھی محبت کے سزاواربہت ہیں

اے عشق!ہمیں دار پہ تو شوق سے لے چل
ہم جرم محبت کے گنہگار بہت ہیں

رکھنا ہے ہمیں دل میں توپھراپنے ہی رکھ لے
یوں بیچ نہ دنیاکو کہ خودداربہت ہیں

ہربات کو لفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی
ویسے بھی صنم تیرے حیادار بہت ہیں

گر مجھ سے محبت ہے تو میرےرنگ میں رنگ جا
ورنہ تیرے گاہک سربازار بہت ہیں

اب کوئ زلیخا نہیں محفل کو سجاتی
“یوسف کے لیے مصر کے بازار بہت ہیں”

کچھ دل نہ مانے کہ اٹھیں بزم سے یارو!
کچھ ان کے بھی ہم سے اصرار بہت ہیں

رک جا اے سحر!راہ محبت نہیں آساں
رستے تیری منزل کے دشوار بہت ہیں

 

 

جمیلہ ارشد سحر

 

 

 

 

 


غزل

وہ گذرے کل کا سارا سفر اچھا نہیں لگتا
مجھے ماضی کا یہ خود پہ اثر اچھا نہیں لگتا

کسی کی آہ کا موجب کسی کے دل دکھانے کا
بہت مہنگا ہو لیکن وہ ہنر اچھا نہیں لگتا

یہ ساون کی بھی دیکھو تو ہمیشہ اپنی مرضی ہے
برس کر بھی جو پیاسا ہو ابر اچھا نہیں لگتا

محبت اک حقیقت ہے یا پھر استعارہ ہے
یہ سچی صاف سیدھی ہو،بھنور اچھا نہیں لگتا

بڑے لوگوں کی شفقت ساے کی صورت سے ملتی ہے
برہنہ پیڑ یا تنہا شجر اچھا نہیں لگتا

دعاے نیم شبی ھی اثررکھتی ہے میرے یارو!
جو کھلتا غیر کی جانب ہے دراچھا نہیں لگتا

دلوں میں نفرتیں ماتھے پہ شکنوں کا بنا جال
مکاں جتنا بھی سج جاے مگر اچھا نہیں لگتا

 

جمیلہ ارشد سحر

 

 

 


           

 

غزل

 

 

وہ دشمن جاں ہے توبھلا کیوں نہیں دیتے
اتنا ہی برا ہے تو سزا کیوں نہیں دیتے

اک عمر مسلسل سے لگی راہ پہ نظریں….
تم جاگتی آنکھوں کو سلا کیوں نہیں دیتے

جو تم سے محبت کے گنہگار ہوے ہیں
ان اہل محبت کو سزا کیوں نہیں دیتے

برسوں سے وفا ڈھونڈنے میں جو تھکنے لگے ہیں
تم ان کی اذیت کو گھٹا کیوں نہیں دیتے

گم گشتہ مسافر ہیں رہ عشق میں بھٹکے
تم ان کو محبت سے صدا کیوں نہیں دیتے

جو رہنا ہے تم بن تو چلو مان لیا لیکن
پھر جینا ہے کیسے؟یہ سیکھا کیوں نہیں دیتے

جن تشنہ لبوں کو میسر نہیں مے عشق
ساقی انہیں محفل سے اٹھا کیوں نہیں دیتے

یہ زخم تو کاری ہے مگر تم بھی تو مسیحا ہو
تم زخم عداوت کو شفا کیوں نہیں دیتے

جو تم سے جدا ہو کر بھی دھڑکتا ہے میرا دل
ظالم اسے مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتے

سحر!مشکل سہی سودا مگر ایسا بھی کیا ڈرنا
ہم چاہنے والوں کو دعا کیوں نہیں دیتے

 

جمیلہ ارشد سحر

 

 

 


 

صبغتہ اللہ ) اللہ کا رنگ)

محبت ابتداء ٹہری اوراس کی انتہا ہے عشق

مجازی رنگ سے نکلو حقیقی رنگ میں رنگ جاو

کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا سنور جاے گا لیکن من

یہ ایسا خوبصورت رنگ اسی کہ رنگ میں رنگ جاو

جمیلہ ارشد سحر

 

 


 

آزاد نظم

میرےدل کہ دریچے بند ہیں
پھر بھی
ہوا یہ دستکیں دے کرگزرتی ہے
کہ محبت روح کا موسم ہے
جسے دل میں جگانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی
یہ خود ہی جگمگاتی ہے
اک انگارہ سی بن کر
لہو میں گردشیں کرتی ہی جاتی ہے
خزاں چھائ ہو یا
ابر بہار برستا ہو
فروزاں دل کےاوطاق
پررہتی ہے سدا یہ
زمانے کی گھٹاسے
آندھیوں سے بے خوف رہتی ہے
چراغ زندگی بن کرلہوکے ساتھ چلتی ہے
محبت مان کی صورت
دلوں میں وسعتیں تو
لہجوں میں وفائیں گھول دیتی ہے
کرو چاہے گریز کتنا
یہ اپنی کر کہ رہتی ہے
تو بالآخر یہ لازم ہے
ہمیں اقرار کرنا ہے
محبت موسوں کی حکمران ٹہری۔

 


تجدید وفا

روٹھ گے جب جذبے دل سے
بکھر گئ جب من کی ہنسی
بچھڑ گیا جب پیڑ سے پتہ
لوٹ لیا جب دل کا سکوں
اب کس جذبے کی بات کرو گے
کون سے لب شمشاد کرو گے
کس ٹہنی کو آباد کرو گے
اب دل سکوں نہ لوٹاو تم
اب آس نہ پھر سے بندھاوتم
اب ساگرلہریں ساکت ہیں
اب کوئ شگوفہ باقی نہیں
اب امید بہار نہیں موسم سے
اب ریزہ ریزہ ہوتی ہستی
اور خواب بھی ٹوٹے بکھرے ہیں
اور کانچ سا نازک دل میرا
اب کرچی کرچی ٹوٹا ہے
اب خود ہی بولو کس سے کہیں ہم
پیارمیں کس نے لوٹا ہے۔۔۔!
ہمیں پیار میں کس نے لوٹا ہے۔۔۔!


کاش ہم بچے ہی رہتے اور کبھی نہ ٹوٹنے والے کھلونوں سے کھیلتے”

عجیب دن تھے عجیب راتیں
نہ ختم ہوتی تھیں اپنی باتیں
نہ نیند آنکھوں سے دور جاتی
اور خواب جیسے یقین ہوں سب
وہ پیارے رشتے وہ سارے ناطے
وہ خوشبوں جیسے سارے بندھن
وہ پھول ساعت وہ شام راحت
نہ رنج کوئ نہ تھی شقاوت
ہر ایک دل پر سکون دل تھا
ہر ایک آنکھ میں خوشی تھی
تمام منظر حسین ودلکش
تمام رستے گلاب رستے
ترنگ نئ تھی امنگ نئ تھی
بہار کا پیرھن پہن کر
ہر ایک کلی جیسے گل بنی تھی
محبتوں کی وہ سب عطا تھی
چاہتوں کی ہی تو متاع تھی۔۔۔
عجیب دن ہیں عجیب راتیں
نہ کہنے سننے کی کوئ باتیں
یہ رتجگے ہیں یہ جاں گسل ہیں
یہ خواب ہیں جو بکھر گے ہیں
حقیقتوں میں عجیب تر ہیں
وہ سارے رشتے وہ سارے ناطے
وہ بوجھ بھاری وہ بیڑیاں ہیں
نہ پھول لمحہ ہے کوئ باقی
نہ چاہتوں کا کوئ سہارا
بھری ہیں شامیں غم والم سے
ہر ایک دل کو ہے بے قراری
ہر ایک آنکھ میں نمی ہے
تمام منظر اجڑ گے ہیں
ویران یادوں کے کھنڈر ہیں
تمام موسم بہار کا پیرھن اتارے
شکستہ بنجرزمین پر تنہا کھڑے ہیں
نہ رنگ ہے نہ بہار کوئ
دلوں کو ہے انتظار کوئ۔۔۔۔

 


غزل

میری چاہتوں کے حصار نے میری خواہشوں کی بہار نے
میری انا میرے پندار نے تیراانتظار کیا ضرور

اس انتظار کی آگ میں ہمیں وہم کتنے جلا گے
میرے پر یقین دل نے پر تیرا اعتبار کیا ضرور

کئ خواہشیں میری ایسی تھیں جنہیں پانے کو دل مچل گیا
پر ہر آن تیری چاہ کو صنم اختیار کیا ضرور

چاہےآنکھ میری سلگ اٹھی چاہے دل میرا ہوا راکھ بھی
میں نے چاہتوں کے دیار کو پھر بھی اشکبار کیا ضرور

تو جو بےوفا تو قبول ہے،تو جو بے مہر تیرا اختیار
دل نا سمجھ نے مگر صنم بس تجھی سے پیار کیا ضرور

یوں تو شمع میں نے جلائ تھی سر شام خواہش جان میں
اے سحر!تو دے گواہیاں میں نے انتظار کیا ضرور

میری خاک سے تو نہ شکوہ کر یہ اڑی ہے اپنی قضا کے بعد
تیرے عشق کے حصار پر میں نے انحصار کیا ضرور


غزل

بہت مشکل سنبھلنا ہے مگر یہ بھی ضروری ہے
میں گر کر جو پڑی رہتی تو مرنا بھی ضروری تھا

یہ کیسی الجھنوں میں گھر گئ ہےزندگی اپنی
جو چھوڑا وہ ضروری تھاکہ یہ کرنا ضروری ہے

یہ ہستی کاجو چکر ہے خدایا ختم اسے کر دے
نہ میں باقی رہےتو معاملہ اچھا ضروری ہے

یہ رستےالجھےالجھے ہیں کبھی سیدھے کبھی پر خم
کہ ان پر عین کی صورت میں بہہ جانا ضروری ہے

بشر ہوں اک تقاضا مالک ارض وسما سے ہے
مجھے جو زندگی دی تو حساب اس کا ضروری ہے؟

غفوروکبریا ہستی میرا خالق میرا مالک
یہ بخشے جانے کا مجھ پر احساں بھی ضروری ہے

خدا سے لو لگانی ہے،خدا سے ذات پانی ہے
کہ آنکھوں میں چپھے پانی کا  بہہ جانا ضروری ہے

 


 

غزل

 

عشق میں رسوا ہوے تو اور بھی جانے گے
“مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گے”

اک قدم آگے رکھوں،آگے بڑھوں،پیچھے ہٹوں
فیصلے اپنے ہی ذہن و دل کو الجھانے گے

وہ گلی وہ چشم نم،بھولنا ممکن نہیں
آج بھی سمجھا نہ دل کیوں پھر سے پچھتانے گے

ہم تیرے تھے،ہم تیرے ہیں،بنا لے تو اپنا ہمیں
ٹوٹے دل کے ساتھ تجھ کو پھر سے سمجھانے گے

ہم بہت مجبور ہیں اس دل کے ہاتھوں سے سحر!
آج بھی اس غیر کو ہم پھر سے اپنانے گے

جمیلہ ارشد سحر

 


غزل

 

دل کے سارے موسم پر حکمرانی ہے تری
بے قرار ہو کر یہ اختیار کہتا ہے

چھوڑ کر چلاگیا جوراستوں میں چاہت کے
لوٹ کر وہ آےگاانتظار کہتا ہے

جلد ہی غلط فہمی ختم ہونے والی ہے
دھٹرکنوں میں رچااعتبار کہتا ہے

صبر ہی تو لازم ہےعشق کے مسافر کو
پر یہ جان لیوا ہے جانثار کہتا ہے

لوٹ کر چلے آو میری دنیا میں پھر سے تم
جانے والے تم سے یہ میرا پیار کہتا ہے

جمیلہ ارشد سحر

 


موسم آے خوشیاں والے کر،کر پاندے پیلاں
من دا موسم اوہو باقی کڑی کڑی اے سوچاں

دن دے چانن وچ لگدے نیں خوشبوواں دے میلے
کتھے جاندی رات حیاتی کڑی کڑی اے سوچاں

آس،امید تے اتھرو دے کے ویلے ایس ٹپاے
کی پایا اے کل حیاتی کڑی کڑی اے سوچاں

سوچن بیٹھی سو رب دی کوئ کمی نہ پانواں
ہورے فیر کیوں نیند گواچی کڑی کڑی اے سوچاں

دن سدراں دے چانواں والے،خوشیاں لاے ڈیرے
راتیں کیوں نہیں نیندر آندی کڑی کڑی اے سوچاں

قول قرار تے کر آنی آں کر کے فیر مکر جانی آں
او دی ذات کیوں قول دی پکی کڑی کڑی اے سوچاں

لکھاں واری قسماں کھا کے رو رو گل منوائ
کیوں اپنی واری شرم نہ آئ کڑی کڑی اے سوچاں

اپنی کرنی تے ایس جگ وچ ماسا حیا نہ آے
“کی اصلیت تیری خاکی کڑی کڑی اے سوچاں”

جمیلہ ارشد سحر

 


 غزل
اب کہاں درد کے صحراوں سے واپس لوٹوں۔۔۔
“جب مجھے تیری ضرورت تھی کہاں تھا اس وقت”
اب تو سب حوصلے یخ ہیں اور ہمت لرزاں
جب زور بازو کی حکومت تھی کہاں تھا اس وقت
اب بے وفائ کی ہے دھند کیا ڈھونڈتے ہو۔۔۔!
درج جب دل پہ عبارت تھی کہاں تھا اس وقت
اب تو احسان ہے اس عمر کی کم عمری کا۔۔۔!
جب کبھی زیست مصیبت تھی کہاں تھا اس وقت
اب تو نمناک ہیں خوشیاں،یہ ہنسی اور یہ پل
جب انھیں تیری ضرورت تھی کہاں تھا اس وقت
اب رگوں میں بھی لہو جم جم کر پگھلتا ہے سحر
جب تیرے دم سے حرارت تھی کہاں تھا اس وقت


جمیلہ ارشد سحر

 


یاداں دے نے دیوے بلدے میرے چار چوفیرے
اکھاں رورو تھک گئ آں تے رات نے اتھرو کیرے
میری ذات تے جم کے رہ گئ اس نقطے تے سجناں
چھڈ کے کیویں جا سکدا اے جیڑا ماردا سی نت پھیرے
میرا دل تے بنجر دھرتی،آس دی بدلی سک چلی اے
مولا میرے مینہ ورسا دےدور ہوں سب ہنیرے
بک بک روندیاں اکھاں میریاں دل وی ڈب ڈب جاوے
میرے تے کج ترس وی کھاہن سوہنے مالک میرے
میں کملی تے کلی ڈھولا،نالےماری روگاں دی۔۔۔
محرماں تو تے جانداایں فیر کیوں نہیں ماردا پھیرے
دنیا ظالم روح کھچ لیندی مار ک سو سو طعنے
میریا سوہنیا ربا کر دے چانن چار چوفیرے
مینوں خاکی جسم توں دے کےڈاڈھی کھیچل پائ
آجا محرم دلاں دیا میرے کر آسان نبیڑے
میری حیاتی دے خانےتے ڈاھڈےگھپ ہنیرے
ربا کرماں والیا کردے نوراں والے سویرے
آمین
جمیلہ ارشد سحر