بشری بختیار خان

 

 دل کے موسم

رسئن

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

محترمہ بشری بختیار خان صاحبہ کے خوبصورت کلام کے چند نمونے

             غزل

ایک جام اشک ِ ندامت کا پلایا جائے
اپنا ہی قصہ خود اب رو کے سنایا جائے

میں بھی دیکھوں تو بھلا کیسے مکرتا ہے وہ شخص
اب ذرا اس کو مرے سامنے لایا جائے

میرے ہی دم سے ہوا تجھ کو ترا اپنا شعور
اب تری زد میں مرا ظرف گرایا جائے

ایک وعدہ جو کسی بھول میں کر بیٹھے ہیں
اب زباں پوری کریں وعدہ نبھایا جائے

اپنی قربانی بھی دی جائے زمیں کی خاطر
اپنی شہ رگ سے خود اب خون بہایا جائے

اس کے لہجے میں ہی اب اس کو مخاطب کر کے
اس کی آنکھوں سے اب آنکھوں کو ملایا جائے

خود کو پاگل بھی کیا جائے گا بشریٰ پہلے
اپنے ہی سامنے پھر سنگ اٹھایا جائے

بشری بختیار خان

4.11.16


غزل

ہم نے سیکھا ہے ترے پیار میں سجدہ کرنا
بند کوزے میں کوئی اشک کا دریا کرنا

کسی طوفان کو آنکھوں میں سمو لیتے ہیں
کبھی گلگشت کی رونق کو بھی صحرا کرنا

ہم بھی سر سبز علاقوں کی طرف جائیں گے
تم بھی رستوں پہ کہیں پھول بکھیرا کرنا

بات بے بات یونہی ہنس کے گلے لگتے ہو
اے مری جان ہمیشہ ہی بس ایسا کرنا

چھوڑ کے خود کو چلے آئیں گے تیری خاطر
تم بس اک بار مری جان اشارہ کرنا

اپنی قسمت میں ہی پھیلاؤ رہا ہے اکثر
گرد آلود ہوا بن کے ہی پھیلا کرنا

ہم کسی خوشبوئے مبہم کی طرح پھیلے ہیں
گل شناس آدمی تو ہم کو سمیٹا کرنا

ہم سجائیں گے بہانے سے کوئی محفلِ عشق
اور تم پھول لیے ہاتھوں میں بیٹھا کرنا

بشریٰ اک بھول کے بدلے میں ہوا عشق ہوں میں
یاد رکھ کر بھی مجھے یاد سے بھولا کرنا

 

     بشری بختیار خان


غزل

 

شاعری تو فقط بہانہ تھا
مقصد اس کو ہی سب بتانا تھا

خواب اس کے ہی در پہ چھوڑ آئی
مجھے خود کو بھی تو اٹھانا تھا

پہلے خود کو شکست دینا تھی
پھر مرے سامنے زمانہ تھا

ہم نے سوچا کہ ہم ہی لیں الزام
کسی اک نے تو یہ اٹھانا تھا

اس کی دھڑکن کے ساتھ بہنا تھا
اس کو اپنے گلے لگانا تھا

اب اسے یاد بھی نہیں ہوں میں

حالانکہ وہ مرا دوانہ تھا

 

بشریٰ بختیار خان

 


 

کیوں آج شہر_دل میں تماشا نہیں ہوا
دامن تمھاری یاد میں بھیگا نہیں ہوا

ویسے تو سارے لوگ جھکائے ہوئے تھے سر
لیکن وہ کس کا سر تھا جو نیچا نہیں ہوا

بشری بختیار خان


 

            بابا

 

ہمارے واسطے چھت اور آسماں بابا
تمہارے جیسا بھلا کوئی بھی کہاں بابا

ہمیشہ غصے میں بھی پیار کی جھلک آئی
تو کتنا سخت بھی ہو کے ہے مہرباں بابا

تو راحتوں کا سبب تو ہی زندگی کا سرور
تو منزلوں کے لیے نور کا نشاں بابا

یہ پیار اور یہ عزت یہ شفقت و رتبہ
نثار تجھ پہ میں کردوں گی یہ جہاں بابا

ہمارے سر پہ سلامت رہے ترا سایہ
ہزار سال سلامت ہو تیری چھاں بابا

بشری بختیار خان


 

 

میری پیاری عظیم والدہ 18 نومبر 2008 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں ۔۔۔۔

چھوڑ کر جب سے ماں چلی گئی ہے
اپنے تو سر سے چھاں چلی گئی ہے
ماں بتا تو کہاں چلی گئی ہے
وہ جہاں سے کوئی نہیں آتا
تو بھی کیا اب وہاں چلی گئی ہے ؟

حبس میں تازہ سی ہوا تھی وہ
اپنے بچوں کا آسرا تھی وہ
روشنی سے بھری قبا تھی وہ
دردِ بے رحم کی دوا تھی وہ
اک محبت کی آئینہ تھی وہ
وہ محبت نشاں چلی گئی ہے
ہائے افسوس ماں گی گئی ہے

ہمت و حوصلہ چلی گئی ہے
راحت و با وفا چلی گئی ہے
اب بھلا منزلوں کی کیا پرواہ
وہ جو تھی راستہ چلی گئی ہے
ہاتھ بھی ہم اٹھانا بھول گئے
ماں گئی تو دعا چلی گئی ہے
وہ خدا کی زباں چلی گئی ہے
ہائے افسوس ماں چلی گئی ہے

ہائے افسوس ماں چلی گئی ہے

بشری بختیار خان


 

 

آج کے دنیا اخبار میں میری نظم۔ “”دستک”” شائع ہوئی

 

         دستک

میری آنکھوں کی بھیگی پلکوں پر ،
میرے سپنوں کے تنگ جالوں پر ،
میرے افکار کے نظاروں پر ،
میرے ایمان کے حوالوں پر ،
میرے ہونے کے کچھ ثبوتوں پر ،
میرے جذبوں کی راجدھانی پر ،
میرے ہونٹوں میں سہمے لفظوں پر ،
میری سوچوں کی ساری پرتوں پر ،
ایک دستک ابھی پڑی ہوئی ہے ،
یہ وہ دستک ہے جس کی خاطر میں ،
اپنی آنکھوں کا نور رکھتی ہوں ،
اپنے سپنوں کا حال پوچھتی ہوں ،
اپنے افکار کی شباہت پر ،
ایک سالم نشان رکھتی ہوں ،
اپنے ایمان کے ترازو میں ،
اپنے حصہ کا وزن رکھتی ہوں ،
اپنے جذبوں کہ راجدھانی پر ،
ایک بے ساختہ حکومت ہے ،
اپنے ہونٹوں کے سرخ سرخی پر ،
ایک شوخی حیا کی رکھتی ہوں،
اپنی سوچوں کی ساری پرتوں میں ،
ایک بس اُس کا نام لکھتی ہوں ،
اپنی سوچوں کو خود ہی پڑھتی ہوں ،
میں بس منتظر کسی کے لیے ،
ایک وہ ہاتھ جس کے ہونے سے ،
لمس اپنا ہوا مجھے محسوس ،
ایک آواز جس کے آنے سے ،
میں نے پایا ہے زندگی کا ہوش ،
ایک سرگوشی ِ محبت جو ،
میرے ہونے کی اک ضمانت ہے ،
ایک ایمان جو خدا پر ہے ،
اور خدا ایک طرزِ الفت ہے ،
ایک دستک کہ جس کی خواہش

 

بشری بختیار خان


 

اے مرے چارہ نوا دیکھ مرض کیا ہے مجھے
زہر کا جام پلانے سے بھی تو کچھ نہ ہوا

دیکھ تو شہر کے لوگ اب کی دفعہ چپ کیوں ہیں
میرے یوں شور مچانے سے بھی تو کچھ نہ ہوا

فاصےلے اب بھی تو باقی ہیں جو پہلے تھے کبھی
دل کی دیوار گرانے سے بھی تو کچھ نہ ہوا

بشری بختیار خان


ساقی تو آج جشن کا یوں اہتمام کر
یہ میکدے کی شام ہمارے ہی نام کر

اے عشق ! تیرے واسطے سب کچھ لٹا دیا
اے عشق ! میرے شوق کا کچھ احترام کر

اب بات تو جنوں سے بھی آگے نکل چکی
اب چھوڑ ، دشت ،ان کی گلی میں قیام کر

یہ تو دیار ہجر ہے دیر و حرم نہیں
واعظ تو جا کے اور کہیں رام، رام کر

بشری وہ شخص چھوڑ گیا رہگزار میں
پھر بھی یہ دل بضد ہے کہ اس سے کلام کر

بشری بختیار خان


 

ملے تھے کبھی ایک ایمان ہو کر
بچھڑنا پڑا دشمنِ جان ہو کر

جنہیں اجنبی کہہ کے ہم نے پکارا
وہ مالک بنے دل کے مہمان ہو کر

زمانہ تو خود بین کرتا ہے خود پہ
ہے شرمندہ تاریخِ انسان ہو کر

دھڑکنے لگے سنگ بھی اس سے مل کر
محبت نبھائی ہے بے جان ہو کر

کئی درد اپنے گلے سے لگائے
کسی درد کا ہم نے درمان ہو کر

کٹی عمر دربار کے گنبدوں میں
کوئی منّتِ عہد و پیمان ہو کر

کسی قسم کی اس سے نسبت تو ہو گی
رہیں اس کے پہرے پہ دربان ہو کر

ہمارے لیے بھی چراغاں ہو بشریٰ
امر ہو گئے ہم بھی قربان ہو کر

بشریٰ بختیار خان۔۔۔لندن

18.11.16


 

اہل شعروسخن کے نام

 

اک کمی جیسے خلا میں ہو ستاروں کے بغیر ،
اک کسک جو کسی حسرت کے لیے ہو بے چین ،
اک ضرورت جو ضروری ہو ضرورت کے لیے ،
اک صدا جس کو سماعت بھی کرے خود محسوس ،
اک کمی جس کےلیے مجھ کو ملی بزمِ شعروسخن ،

بزم کہ جس نے دیا مجھ کو شعور ِ دنیا ،
بزم کہ جس سے ملا مجھ کو الگ اپنا مزاج ،
بزم وہ جس سے ہر اک فرد نے قربت پائی ،

یہ کوئی بزم نہیں ، بزم نہ کہیے اس کو ،
خاندانانِ محبت ہے ، محبت کا فریق ،
یہ تو اک کنبہء الفت ہے جہاں ہم سب ،
اپنے انداز سے کرتے ہیں ادب کی خدمت ،

ہم سے جاری ہے زمانوں کےلیے فیضِ لطیف ،
ہم زمانوں کے لیے ثبت کریں عہدِ وفا ،
ہم ہی سورج ہیں ہمی آگ ہمی لوگ ہوا ،

جن کے دم سے ہے یہ رونق یہ سرور اور یہ بزم ،
اہلِ سُر تال ملائیں تو مزہ آتا ہے ،
اُن کی تعریف میں ملتے ہیں زماںوں کے بھی سُر ،
ذکرِ الفت ہو ، محبت ہو ، لطافت ہو سرور ،
ذکرِ ارکانِ سخن ، بزم شعروسخن ، بزمِ شعور ،
ہم سے ہے وابستہ ہے اردو کے مقدر کا جنون ،
ہم ہیں ارکانِ ادب ، ہم ہی تو ہیں اوجِ کمال ،
اور ادب فخر کرے بزم شعروسخن ہی کے طفیل ،
ہم نے اردو کی محبت میں وہ بنیاد رکھی ،
جس پہ اردو بھی کبھی زعم کرے گی ہم پر ،
اپنا فیض اپنا سرور عام کرے گی ہم پر ۔

بشری بختیار خان

19.11.16


غزل

ہمارا درد کئی لوگ بانٹنے آئے
ہمارا درد کہاں لوگ بانٹ پائیں گے

ہم اہل _عشق، ہمیں کون روک پائے گا
ہم اس زمین کو بھی آسماں بنائیں گے

انھیں کہو کہ ہمیں زخم خوب دیتے رہیں
وفا شعار ہیں ہر زخم بھول جائیں گے

ہے خوں کی پیاس ہے تو پھر آو میرا خون پیو
ہم ایسے دوست ہیں جو خون بھی پلائیں گے

ہمارے آنسوؤں میں ڈوب جائے گی دنیا
زمانے والے کبھی جو ہمیں رلائیں گے

تمام شہر پہ اک کیف چھائے گا بشر
کبھی غزل جو کسی بزم میں سنائیں گے!

 

بشری بختیار خان


 

اپنے ہاتھوں سے جب سنوارتے ہیں
ہم تری نذر بھی اتارتے ہیں

اے زمیں ہم تمہاری حرمت پہ
کتنے ہی آسمان وارتے ہیں

موت سے کاری ہوتے ہیں وہ لوگ
جو محبت کی مار مارتے ہیں

 

 

بشری بختیار خان


 

 

               غزل

 

 

عشق کی راہ پر چلے تو سہی
راہ پر ہے اگر ، رہے تو سہی

کیا خبر کون زندہ رہتا ہے
جنگ میں آ کے وہ لڑے تو سہی

ربط کو زندگی عطا کر دی
اس سے بولو کہ اب ملے تو سہی

آنکھ میں کیوں اٹک گیا ہے یہ؟
کیا یہ آنسو ہے ؟ پھر بہے تو سہی

کوئی آیا تھا تیرے رستے میں
میرے مغرور ! دیکھتے تو سہی

کوئی آجاتا چھوڑ کر سب کچھ
ایک آواز مارتے تو سہی

رنگ ہیں چار سو بہت سے رنگ

بشری وہ کوئی ایک چنے تو سہں

بشری بختیار خان


 

               غزل

گرد باقی ہے نقش_ پا نہ رہا
کیوں سلامت وہ قافلہ نہ رہا

اس کو پانے کی آرزو نہ رہی
اس سے ملنے کا حوصلہ نہ رہا

قرب میں اب وہ چاشنی نہ رہی
وصل میں اب وہ ذائقہ نہ رہا

دشت کی کوئی آبرو نہ رہی
قیس کا کوئی ہمنوا نہ رہا

اسکی سوچوں میں اب خلوص نہ تھا
اب وہ اوروں سے ماورا نہ رہا

بشری اب اس پہ اعتبار نہیں
اس پہ جو اعتبار تھا’ نہ رہا !

بشری بختیار خان


کوئی بھی لمحہ کہاں زندگی نگل جائے
اسے کہو کہ ابھی وقت ہے سنبھل جائے

ہر ایک شخص پہ نظریں لگانا پڑتی ہیں
کسے خبر ہے یہاں کون کب بدل جائے

ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چلتے رہیں
اسی طرح ہی مری شامِ زیست ڈھل جائے

تمہارے حسن پہ قربان دشت اور دریا
یہاں پہ سندھ مَرے اور وہاں پہ تھل جائے

اگر اشارہ کریں ہاتھ سے ہم ایسے فقیر
زمین جانبِ افلاک ہی اچھل جائے

مجھے غرور سے ہی رمزِ عاجزانہ ملی
حیات ملتی ہے گر ہاتھ سے یہ پل جائے

یہ موت پھول مسلتی جس سمے بشریٰ
تو موت کی بھی اسی وقت جاں نکل جائے

بشریٰ بختیار خان


 

میں تری آگ میں بس خود کو جلائے ہوئے تھی،
راکھ چھانی تو میرے ہاتھ تری یاد آئی،

زندگی کتنے دلاسوں کا بھرم رکھتی ہے،
ہچکیاں لیتی ہوئی موت کی فریاد آئی،

اے مرے بلبل_ دل میرے خیالوں میں ہی رہ،
اے مرے صید ترے سامنے صیاد آئی،

تجھ کو میں دیکھ ہی لوں، یہ بھی غنیمت ہے مجھے ،
تجھ سے اب مل کے مرے چاند میں بس شاد آئی،

یہ زمانہ بھی کہاں جینے کی مہلت دے گا،
کر کے ہر رشتے سے میں خود کو اب آزاد آئی،

مرے اشعار کا غم کوئی سمجھتا ہی نہیں،
میرے حصے میں بس اک رسمی سی کیوں داد آئی؟

بشری بختیار خان


                             شامِ غریباں

پھر کون سرِ شام کٹا شامِ غریباں
ہے کس نے یہ سر وار دیا شامِ غریباں

پھر ریت پہ اک چاند گرا شام غریباں
گھیرے تھی اسے زرد گھٹا شام غریباں

معصوم سی بچی نے کہا شامِ غریباں
اللہ رے وہ شان ردا شامِ غریباں

اک حشر تھا لہروں میں میں بپا شامِ غریباں
اک کرب جو سینے میں اٹھا شامِ غریباں

افلاک پہ ماتم کی صدا شامِ غریباں
کس نے یہ کیا فرض ادا شامِ غریباں

کس پر ہے اسے ناز بتا شامِ غریباں
ہے دینِ خدا کیسے بچا شامِ غریباں

یزداں کو بھی حیران کیا شامِ غریباں
نیزے پہ جو قرآن پڑھا شامِ غریباں

پھر خوف بھی تو سہم گیا شامِ غریباں
ہر سمت سے جب شور ہوا شامِ غریباں

کب ماند پڑی روشنی اس نور کی بشریٰ
وہ نور تھا، وہ نور رہا شامِ غریباں

بشریٰ بختیار خان