امۃ القدوس قدسیہ

زندگی تو اس طرح سے ہےگزری جاناں۔

               نہ جی بھر کے سوئے نہ  جی بھر کے جائے

قدسیہ


غزل

 

دلوں میں پیارو محبت ہی کو ہمیشہ بس تم سنبھال رکھنا
میرے اندھیروں کی فکر چھوڑوتم اپنے گھر کا خیال۔ رکھنا

کوئی ہو جھوٹا،کوئی ہوسچا،کوئی منافق ،کوئ ہو مومن
تمہیں کیا اس سے تمہیں کیا پرواہ بس ایماں اپنا سنبھال رکھنا

کبھی یہ سوچا ہے لوگو تم نے کہ کیوں پھیلاتے ہو نفرتوں کو
خدا کی خاطر ہی پیار بانٹو،محبتوں کا سوال رکھنا

شمع بھی تم ہو جگنو بھی تم ہو اندھیروں کی روشنی بھی تم ہو
سبھی کے بچے دعا میں رکھنا اور اپنے بچے سنبھال رکھنا

کسی پے انگلی آٹھانے سے پہلے یہ سوچ لینا سمجھ یہ لینا
نظر خدا کی تو دل پے ہے جی۔! بس اپنے دل کا خیال رکھنا

سنیں جو سب سے غلط ہے اکثر جو دیکھتے ہیں صحیح نہیں ہے
لیس الخبر کا المعاینہ کا بھی تم اکثر دھیان رکھنا

میرے تو دل میں لگن ہے سچی جو سمجھو تو ہوں سفیر چاہت
محبتوں کو پھیلا رہی ہوں کچھ تم بھی دل کو سنوار رکنا

قدسیہ

8.9.16


                                                    غزل

جی چاہے کہ بات اپنی سنائےجاؤں
دل میں جو ہے بس اسکو بتائے جاؤں

میں جواک عرصے سے بند تھا کمرے میں
باہر آؤں اور روشنی میں نہائے جاؤں

زندگی جوکبھی کُھل کے نہ ملی تھی مجھکو
اب ملی ہے تو کیوں نہ میں مسکرائے جاؤں

میرے دامن میں جو کانٹے بھرے تھےسب نے
دل یہ چاہے کہ اب چن چن کے ہٹائے جاؤں

اس کے آنے کی خوشی میں اب کیوں نہ جاناں
ہر رستے میں ڈھیروں پھول کھلائے جاؤں

رب نے جو اسکو بنایا ہے اگر میرے لئے
کیوں نہ پھر سجدۂ شکر بجا لائےجاؤں

قدسیہ


               غزل

 

وہ۔ میری زندگی میں آیا اک سراب کی صورت
پھر میرے ساتھ ساتھ رہا بس ایک خواب کی صورت

آنکھیں۔ اسکی۔ ہیں کہ بھرے ہوئے پے مانے
چھلک رہا ہو پیار۔جیسے شراب کی صورت

وجود اسکا نہیں ارزاں۔ بازار۔ الفت میں
تبھی تو پا نہ سکے اسے ہم بھی۔ کمخواب کی
صورت

تلاش منزل میں اہسے بھٹکے کہ راہ ہی بھول گئے
کہ منزلیں بھی تو تھیں ساتھ اک سراب کی صورت

نہ جانے کون تھا۔ وہ اور کس راہ۔ کا مسافر تھا
کیوں آیا راہ میں۔میرے۔ وہ ایک خواب کی صورت۔

قدسیہ

8.2.16


 

 

اجازت مجھ کو دے دو تم

وطن سے دور مسلم ہوں وطن جاؤں تو کافر ہوں
میں خود کیا ہوں بتانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

بٹا ہوں اتنے فرقوں میں یا تم کافر یا میں کافر
مرے دیں کو بتانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

محمد گر تمہے پیارا ہمارا بھی تو آقا ہے۔ صل اللہ علیہ وسلم
اسی کا دیں پھیلانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

اسی کے نام پر تم اتنے ظالم بنتے جاتے ہو
انہی کو اب مٹانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

بے انصافی کے ڈیرے ہیں حیا ملتی نہ ڈھونڈے سے
ملائیت کو مٹانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

جدھر دیکھو وہاں بت ہیں انسانوں اور پیسوں کے
ان شرکوں کو بچانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

یہ دین تو اتنا پیارا ہے امن ہو یا محبت ہو
یہی سب کچھ بتانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

یہ تم کو درس دیتا ہے صلح و بھائ چارے کا
اسی دیں کو پھیلانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

گو کعبہ میرے دل میں ہے مدینہ بھی مجھے پیارا
خدا کے گھر کو جانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

مجھے بھی سانس لینی ہے مجھے آزاد ہونا ہے
مسلماں خود کو کہلانے کی اجازت مجھ کو دے دو تم

قدسیہ


 

 

              غزل

 

 

کبھی دیکھیں ہیں تم نے آیسے آنسو
کبھی گرتے کبھی مٹتے۔ سے آنسو

جو اپنی آہ کو خود بھی نہ سمجھے
کبھی چھلکے کبھی رکتے سے آنسو

کوئ تو سمجھے اسکے دل کی حالت
ہنسی آنکھوں میں پر گرتے سے آنسو

اے نامہ بر۔! تو دےاسکی خبر بھی
کہ جسکی یاد میںں چبھتے سےآنسو

بڑے انمول پاکیزہ سے ہیں وہ
خدا کے پیار میں بہتے سے آنسو

نہ بھولی میں کبھی وہ آنکھ جاناں
سیاہ تھی رات اور چمکتے سے آنسو

 

قدسیہ


 

 

بھلا کیسے جیئں ہم۔۔۔۔۔۔

وہ سپنے کتنے اچھے تھے تمہارے سنگ جو دیکھے
تھے
وہ راتیں کتنی اچھیں تھیں تمہارے سنگ جو گزری تھیں
اب
نہ تم ہو نہ راتیں ہیں
نہ سپنے ہیں نہ باتیں ہیں
نہ جانے تم کہاں گم ہو
کہ فرصت ہی نہی تم کو
کہ ا کے اتنا ہی کہ دو
پھنسا ہوں ایسے دھندوں میں
کہ تم تک آ نہی پاتا
جو وعدے میںُنے باندھے تھے
وہ پورے کر نہی پاتا
مجھے بس آس کی سولی پے
کیوں تم ٹانگیں جاتے ہو
میری آنکھوں کی نیندوں کو چرا کر کہتے جاتے ہو
نہ ایا میں تو اس میں کیا تمہیں سونا تھا سو جاتی
میں شہروں شہر پھرتا ہوں
کبھی آتا کبھی جاتا
میں ٹھرا ایک بنجارا
میں خود کو بھی نہی پاتا

تو پھر کیوں آس باندھی تھی
تو پھر کیوں ہاتھ تھاما تھا
میں اک پاگل سی سیدھی سی
دیوانی تھی دیوانی ہوں
تم میرے پیار کو سمجھو
تو تم بھی جان جاؤ گے
کہ کتنا مشکل ہوتا ہے
اسی کے بن یوں جی لینا
کہ جسکو دیکھنے کی آس میں
آنکھیں ہوئ پتھر اور
اور روح تو ایسی بے کل ہے
تڑپتی ہے سسکتی ہے
نہی بننے ہیں سپنے اب
نہی کرنی ہیں باتیں اب
بہت مشکل ہے جینا اب
کہ جس کے واسطے جئے تھے ہم
بنا اسکے بھلا کیسے جئیں ہم

قدسیہ


سپرچاندکو جودیکھادیکھتی ہی رہی گئ۔
یہ تو اک جلوہ تھا بس اُس رب ذوالجلال کا۔
اسکودیکھوں اورسوچوں گریہ ُاسکاعکس ہےُ
اسکو بنانے والا خود ہوگا کس جمال کا۔۔۔۔

قدسیہ


 

                 غزل

اس چند روزہ زندگی کو ہنس کے گزار دو
پلٹ کے نہ دیکھ ماضی کو کہ ماضی تلخ یادوں کا

کسی کا پیار یوں دل مین ، چھپا کر کیا کروگےتم
کہیے بنا ہی جاؤ گے تو فائدہ کیا ایسی با توں کا

اسکا لہجہ میٹھا تھا ہمیشہ ہی سب کے لئے
ہم سمجھے کہ یہ انداز ہے اسکی چاہتوں کا

وہ تو اپنے ہی کسی کام سے آیا تھا میرے شہر میں
ہم سمجھے کہ یہ بھی صلہ ہے ہماری ریاضتوں گا

ٹھانی ہے کہ اب اسکو خدا سے مانگ دیکھیں گے
کبھی تو ہم کو بھی ملے گا اک تحفہ عبادتوں کا

 

قدسیہ

31.05.2016


 

اپنا درد دل میں چھپایا نہی کرتے
پر جو دل میں ہو اس سے بھی چھپایا نہی کرتے

یہ زخم ہے ایسا جو کر دیتا ہے پاگل
اس زخم کو مسیحا سے بھی چھپایا نہی کرتے

 

قدسیہ


 

 

غزل

جی چاہے کہ بات اپنی سنائےجاؤں
دل میں جو ہے بس اسکو بتائے جاؤں

میں جواک عرصے سے بند تھا کمرے میں
باہر آؤں اور روشنی میں نہائے جاؤں

زندگی جوکبھی کُھل کے نہ ملی تھی مجھکو
اب ملی ہے تو کیوں نہ میں مسکرائے جاؤں

میرے دامن میں جو کانٹے بھرے تھےسب نے
دل یہ چاہے کہ اب چن چن کے ہٹائے جاؤں

اس کے آنے کی خوشی میں اب کیوں نہ جاناں
ہر رستے میں ڈھیروں پھول کھلائے جاؤں

رب نے جو اسکو بنایا ہے اگر میرے لئے
کیوں نہ پھر سجدۂ شکر بجا لائےجاؤں

قدسیہ


                غزل

بیچ راہ میں چھوڑ کے جانے والے۔۔۔!
عشق کے سارے اصول توڑ کے جانے والے

کب مینے کہا تھا ک محبت کر ومجھ سے
تم ہی تو تھے ہر وقت مجھ کو بلانے والے

امید کی شمعیں جلائیں اور پھر گُل کر دیں
بے وفا کہہ کے پکاروں او شمعیں بجھانے والے؟

ایسا پٹخا ہے آُٹھنے کی سکت بھی نہ رہی..!
ہنسا ہنسا کے مجھے روز رلانے والے۔۔۔۔!

ہر لفظ و ہر تحریر جھوٹی ہے تمہاری۔۔…!
کہتے کچھ ہو آواپنی غلط تصویر بنانے والے!

چھوڑنے کے آداب بھی کیا اب مجھ کو بتانے ہوں گے
چھپ کے چوروں کی طرح لُوٹ کے جانے والے

ہم تو پہلے ہی بہت دُکھی تھے اب کرچی کرچی
الزام تو دیتے کوئی یوں چپ چاپ ہی جانے والے

سوچتی ہوں کہ تمہیں مار ہی ڈالوں تو اچھا ہے
میں بھی کب زندہ ہوں آو مجھے مار کے جانے والے

قدسیہ


                 غزل

 

‎محبتوں سے کرو دلوں کی شمعیں روشن
‎وقت سے پہلے نہ مارو کبھی خدا کے لئے

‎یہ زندگی تو خدا کی دی ایک نعمت ہے۔۔!
‎خوشی کے رنگ بھرواس میں تم خدا کے لئے

‎خدا نے پیدا کیا انساں کو محبتوں کے لئے
‎نفرتیں تو نہ پھیلاؤ کبھی خدا کے لئے۔۔۔۔

‎بناؤ دنیا کو تم امن کا ہی گہوارہ۔۔۔
‎کرو نہ قتل انساں کا تم خدا کے لئے۔۔

‎یہ دنیا تو صرف چار دن کا میلہ ہے۔۔۔
‎عاقبت ہی سنوارو بس اب خدا کے لئے

 

 

قدسیہ

 


زندگی اور موت۔۔۔۔

 

 

زندگی کی خوبصورتی کو ۔۔۔
بچے کی آنکھ سے دیکھو تو۔۔
مٹی میں رُ ل کے دیکھو تو۔۔
تن پے کپڑا ہو نہ ہو۔۔۔۔۔
رہنے کو سایہ ہو نہ ہو۔۔۔
پیٹ کی پوجا کی نہ ہو۔۔
یا علم کی حسرت بھی نہ ہو۔۔
بس لمحہ اک خوشی کا ہو۔۔۔
کوئی دکھ نہ ہو کوئ رنج نہ ہو۔۔۔

جب عالیشان محل بھی ہوں
ہر روز جشن بھی ہوتے ہوں
جب جیب بھی نوٹوں سے پُر ہو
اور صدقہ دیتے دکھ بھی ہو۔۔۔
اس لمحہ دکھ بھی ساتھ ہی ہیں
اور جیون بھاری لگتا ہو۔۔۔۔

تو مدد کرو ان بچوں کی۔۔
خوشیاں بانٹو ‘ خوشیاں پا لو
یہ جیون سب کا سانجھا ہے۔۔۔
کچھ دے کے سکھ کو ہاتھ میں لو۔۔۔
اور
رب کو بھی راضی کر لو۔۔۔
اور موت کو بھی خوبصورت کر لو۔۔۔

قدسیہ


 

شب تنہائی میں ہرروز رلانے والے
دل جلے دل کو پھر جلانے والے

کیا ہوئےوعدے وہ قسمیں وہ بھرم ۔۔!
کیوں مجھے چھوڑ ا چھوڑ کے جانے والے

آزمانا تھا مجھے تو پہلے ہی بتا دیتے۔۔۔!
یہ تھا ظرف تمہاراسبق پڑھانے والے۔۔!

منزل کی خلش اب تو کبھی دل میں نہ تھی
یہ تم ہی تھے نئ راہ دکھانے والے۔۔!

سوچا تھا کہ تمہیں رب سے مانگ کے دیکھیں گے۔
دعاؤں کو ییچ راہ میں چھوڑ کیے جانے والے۔

الزام بے وفائی پھر بھی نہ دیں گے تمہیں
تم وفا کیا جانو خود سے وفا بھی نہ نبھانے والے۔!

اے خدا !عشق مجازی بھرا دل کیوں بنایا تونے۔؟
عشق حقیقی ہی کیا کافی نہ تھا دنیا بنانے والے۔۔؟

یہ جان عجب آٹکی ہی رہتی ہے کبھی ادھر اور اُدھر
بنادے مری بگڑی بھی او سبھی کی بنانے والے۔۔!

 

 

قدسیہ

 

 


 

خدا کسی کو کبھی ایسا ہمسفر نہ دے
کہ بیچ راہ میں وہ راستہ بد ل۔ جائے

کہاں وہ سپردگی تھی کہ ہم یہ کہتے تھے
کہ اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

ہمیں سے اب اتنی نفرتیں ہیں تمہیں
کبھی توپیار سے بولو کہ دل پگھل جائے

غموں کی دھول ہے منزل نظر نہی آتی
رحم کی اک نگاہ مولا کہ راہ مل جائے

عجیب رت ہے زمانے کی نا شناسی کی
گناہ کے بوجھ سے یہ زمیں دہل جائے

 

 

قدسیہ

 

 

 


 

 

 

 بابا اور دسمبر

 

دسمبر جب بھی آتا ہے
کچھ یادیں ساتھ وہ لاتا ہے
جو سرد بھی ہیں اور گرم بھی ہیں
تلخ بھی ہے اور نرم بھی ہے
میرا بابل مجھ سے چُھوٹا تھا
پیارا ساتھ جو مجھ سے رو ٹھا تھا
میرے بچپن کی سب یادیں جو ۔۔
پردیس میں میرے ساتھ تھیں جو
میرا بابا گھر جب آتا تھا
میرا خاص لفافہ لاتا تھا۔۔
ایک چیجی اس میں ہوتی تھی
ساتھ نصیحت ہوتی تھی
مل بانٹ کے اسکو کھانا تم
ہمیشہ پیار بڑھانا تم
پھر با جماعت نمازیں تھیں
درس بھی تھے حدیثیں تھیں
کھیلیں بھی تھیں کھانے بھی تھے
آور رنگ برنگ فسانے بھی تھے
عید کا اپنا ہی رنگ تھا
مہندی کی خوشبو کے سنگ تھا
مہندی کی مُٹھی ہوتی تھی
جو بطخ کی چھاپ بناتی تھی
اور تو سب کچھ بھول گیا
اب اور مجھے کچھ یاد نہی
پردیس میں اک دن خبر ملی
وہ بابل دنیا چھوڑ گیا
میں خود بچوں کی بابل تھی۔۔۔
انہیں چھوڑ کے وطن کو جا نہ سکی
بابا کو اپنے چھو نہ سکی
ممتا سے لپٹ کے رو نہ سکی۔۔۔
بس رب سے دعائیں کرتی ہوں
کبھی روتی ہوں کبھی ہنستی ہوں
آج جہاں بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں
بابل کی دعا کی وجہ سے ہوں
اے رب تو رحم کر اس پے
جیسے کیا اس نے مجھ پے
آمین
اب جب بھی دسمبر آتا ہے
سب یادیں ساتھ وہ لاتا ہے
جو سرد بھی ہیں اور گرم بھی ہیں
جو خنک بھی ہیں اور نرم بھی ہیں

 

 

قدسیہ

7.12 .2016

 


 

‎میرے اتھرو میریاں اکھاں تینوں کیہ
‎میرا منہ تے میریاں گلاں تینوں کیہ

میں کش کہواں یا چپ رواں
‎یا لکھدی جاواں
‎صدقے جاواں یا نہ جا واں
‎تینوں کیہ

‎میرا درد نا جانے کوئی کنو آکھاں
‎کسے نوں دساں یا دل وچ رکھاں تینوں کیہ

‎اتھے سارے لوک نے مطلب دے
‎فیر وی سب نوں چنگا ں لکھاں تینوں کیہ

‎میری آنکھاں دے وچ اتھرو تیری کارن
‎تیرے تے الزام نہ رکھاں تینوں کیہ

‎عشق بیماری توں ای لائی اےکی کراں
‎نیند نہ آوے کھلییاں آکھاں
‎تینوں کیہ

‎چار چپیرے خشبو تیری وکھری رہندی
‎خوش ہونی اں سوچ کے سوچاں تینوں کیہ

‎لوکی سارے چنگے کوئی نہ پیڑاایتھے
‎نصیب نو آپنے کھوٹے آکھاں تینوں کیہ

‎ہن کتاباں پڑھ پڑھ دل بہلانی آں
‎دن وی اوکھا رات وی اوکھی کٹاں تینوں کیہ

قدسیہ


 

مرتا بھی تمہاری خاطر ہوں
زندہ بھی تمہاری خاطر ہوں
اک تم سے ملنے کی چاہ میں

سانسوں کو تھامے بیٹھا ہوں

قدسیہ


تیری سیرت سے پیار ہے مجھکو
تیری صورت کو میں نے کیا کرنا

مجھ کو سمجھا ہی نہی تونے
تجھ کو پا کے پھر میں نے کیا کرنا

تم مرے دل میں ہی تو رہتے ہو
در بدر ہو کے میں نے کیا کرنا

عشق کی کوئ انتہا ہی نہی
اک جگہ رک کے میں نے کیا کرنا

تم تو نظروں میں بس گۓ جاناں
دیکھ کر کے بھی میں نے کیا کرنا

قدسیہ


اکثر شب تنہائی میں
کیوں نکل آتے ہیں آنسو میرے
جس میں شامل ہیں کچھ محرومیاں
کچھ یادیں اور کچھ تلخیاں
باپ کی یاد اور ممتا کا لمس
بھائی کی شفقت اور بہن کی محبت
دوستوں کی شرارتیں
اور
اپنے وہ قہقہے
اور اب دور تک ایک ایسی گہری تنہائی کہ
یاد ہی نہی کب دل کھول کے ہنسی تھی میں
کب دل صرف پھولوں کی تمنا کرتا تھا۔۔۔
کب دل صرف گاتا اور گنگناتا تھا
اب چاہوں بھی تو دل کھول کے ہنس نہ سکوں
کہ جسکی تمنا تھی خدا کے بعد
وہ بھی گم ہے دنیا کے جھمیلوں میں
اے خدا ۔۔
زندگی تیری امانت ہےورنہ
چھوڑ کے آجاتی بس پاس ترے
اب منتظر ہوں ۔۔
کب تو یہ امانت واپس لے لے۔۔
اور میں آزاد ہو جاؤں اس وقت کی قید سے
کہ اب کسی چیز کی تمنا ہی نہیں
اب کسی کی آرزو ہی نہیں

تیرے کہنے پے گزاری ہے زندگی میں نے
ورنہ تو اسکی بھی خواہش نہ کی تھی میں نے

قدسیہ

9.12.2016


 

ہر سمت بس مسلماں پس رہے ہیں

سر گر رہیے ہیں۔ شہر جل رہے ہیں

کسی کی سزا پے کوئ پٹ رہا ہے
جس طرف دیکھو سب لٹ رہیے ہیں

نہی ہے کوئ بھی محفوظ اب تو
انساں ہی انساں کو قتل کر رہے ہیں۔

نہی ہے کسی کو محبت کسی سے
نفرت کے تپش میں سب سڑ رہے ہیں

ایماں نے ثریا پے ڈیرے ہیں ڈالے
شیطان کے پیچھے سب چل رہے ہیں

مہدی کو کافر کہتے ہیں۔ سارے
تبھی تو عذابوں کو سہ رہے ہیں

نوح کی کشتی میں کوئ نہ بیٹھے
گدھے کھا رہیے ہیں گدھے بن رہے ہیں

خدایا انہیں نور بصیرت عطا کر
کہ دوزخ کی آگ مین سب جل رہیے ہیں

 

قدسیہ

30.6.2016

 


 

 

اک چاند تھا من کے اندر اور ایک تھا آسمان پے
کبھی دل مین جھانکوں تو کبھی دیکھوں آسمان پے

چھو لیا ہے روح کی گہرائ کو من کے چاند نے
باہر کے چاند کی تو صرف ہے خوشبو آسمان پے

ڈھانپ لیا ہے چاند کو کچھ اوارہ سے بادل نے
پھر بھی اسکی روشنی ہےچار سو آسمان پے

سوچوں تنہائ میں کس چاند کی پوجا کروں ؟
اسکی جو روح میں اتر گیا یا اسکی جو آسمان پے

قدسیہ

 


 

میں نےجاتے سمے مڑ کے نہ دیکھا اسکو
جس نے جاتے سمےاک بارنہ پوچھا مجھکو

زندگی کھینچ کے مجھکو جہاں بھی لائی
یاد ماضی۔ کی مجھکو وہاں بھی آئی

زیست جس نے بھی گزاری ہو بہت مشکل سے۔۔۔۔۔۔
کیوں اجازت نہیں اسکوکہ کرےوہ بھی محبت دل سے؟

سانس لینے کی اجازت بھی نہی دیتےاُسے۔۔۔
جس کےدل میں ہو محبت ہی محبت سب کے لیئے

جو ہے مظلوم یہاں اسکی کوئی سنتا ہی نہی
وہ بھی صابر ہے کہ غم اپنے بتاتا ہی نہی۔۔

تو مرے ساتھ رہا جب بھی کوئ مشکل آئی۔۔۔
ہر دعا کام میرے مرشد کی ہر ہر پل آئی۔۔۔۔

ہم نے تو صبرو توکل سے گزاری باری۔۔۔
دعا ہےاولاد بھی پوری کرے یونہی باری

امین

 

قدسیہ

 

7.1.2016

 


 

 

جی یہ چاہے کہ بات اپنی سنائے جاؤں
دل میں جو ہے بس اسی کو بتائے جاؤں

میں جو اک عرصے سے بند تھا کمرے میں
باہر آؤں اور روشنی میں نہائے جاؤں

زندگی جو نہ کبھی کُھل کے ملی تھی مجھ کو
اب ملی ہے تو کیوں نہ میں مسکرائے جاؤں

میرے دامن میں جو کانٹے بھرے تھے سب نے
دل یہ چاہے کہ اب چن چن کے ہٹائے جاؤں

اس کے آنے کی خوشی میں اب کیوں نہ جاناں
ہر رستے میں ڈھیروں پھول کھلائے جاؤں

رب نے جو اسکو بنایا ہے اگر میرے لیئے
کیوں نہ پھر سجدہ شکر بجا لائے جاؤں

 

قدسیہ


 

جلسہ سالانہ گھانا مبارک ہو۔۔۔۔
اسلام احمدیت زندہ باد
پھیلا رہے ہو جتنے تم نفرتوں کے سائے۔۔
بڑھتے ہی جا رہے ہیں یہ برکتوں کے سائے

 

قدسیہ

 

12.1.2017


زخم ہیں اس قدر دل ناتوان پر
کونسی چوٹ کب لگی یہ
یادہی نہیں

خوشیوں کا وقت آیا ُکب آکے گزر گیا
کیاذائقہ تھا اسکا یہ یاد ہی نہیں

جھوٹ و فریب دھوکہ ہی اب چھا گیا یہاں
کرنی ہے کبھی نیکی بھی یہ یاد ہی نہیں

بیوی اور بچے باس سب ہی یاد ہیں تمہیں
ماں باپ بھی ہیں راہ میں یہ یاد ہی نہیں

ماں باپ بھی مصروف ہیں دنیا کی دوڑ میں
بچے کدھر کہاں ہیں یہ یاد ہی نہیں

اس عارضی سی دنیا سے چمٹے ہیں اسطرح
چھن جائے گی یہ دنیا بھی یہ
یاد ہی نہیں

سارے جہان کی خوشیوں پے بس میرا ہی حق تو ہے
دینا ہے کچھ کسی کو بھی یہ یاد ہی نہیں

لوگ کیا کہیں گے سب سوچتے ہیں یہ
کہتا ہے کیا خدا تمہیں یہ یاد ہی نہیں۔۔۔۔

قدسیہ

1.2.2017

 


 

 

 

اج اپنی بیٹی کے گھرسو کے اُٹھی۔۔ تو لبوں پر ایک شعر دعا بن کے آگیا۔ جس پے پوری دعا بن گئی۔۔
اپ سب بھی شامل ہو جائیں اس دعا میں۔
امین

خدایا خود وسیلہ بن بہت ہی رات چھائی ہے
غموں کی اس گھڑی میں پھر تیری ہی یاد آئی ہے

سلیقہ ہی نہی آتا عبادت کیسے کرتے ہیں
محبت ہے تری دل میں جو تیرے در پے لائی ہے

جب اپنے عملوں کو دیکھوں تو کچھ اچھا نہی ان میں
بس اک تیری محبت ہی میری ساری کمائی ہے

نہیں ہیں کچھ کرم میرےکہ تجھ سے کچھ بھی میں مانگوں
مگر تیرے کرم ایسے کہ خود سے شرم آئی ہے

میری راہوں کے کانٹوں کو یوں چن چُن کے نکالا ہے
میرے کتنے ہی زخموں پر مرہم تونے لگائی ہے

میرے بچوں کی خوشیاں بھی دکھا دے مجھ کو اے مولی
میری یہ اک دعا مجھ کو تیرے در پے ہی لائی ہے

بچانا اُنکو ہر غم سے اور شیطان کے شر سے
رہیں وہ بس تیرے در پے دعا دل میں یہ آئی ہے

بھرا ہے دل میں جو میرے شرم سے کہ نہی پاتی
یہ اک عاجز سی بندی پھر یہی کہنے تو آئی ہے

دیا ہے تونے کتنا ہی کہے بن میرے اے مولی
جواب میں مانگتی ہوں دے بہت ہی پیارے اےمولی

امین

 

قدسیہ

 

29.1.2017

 

 


 

یہ راتیں جتنی کالی ہیں یہ سپنے اتنے جھوٹے ہیں
یہ باتیں تو دلاسے ہیں یہ لمحے سارےجھوٹے ہیں

تمہارے قرب کی خاطر کیا اتنا سفر ہم نے
سرابوں کا سفر تھا وہ وہ ٹھکانے سارے جھوٹے ہیں

تمہیں تکنا۔ تمہیں پانا۔ اور پا کے پھر سے کھو دینا
تمہارے خیالوں میں رہنا۔ یہ سپنےسارے جھوٹے ہیں

وہ کیسا پیارا منظر تھا شمعیں روشن تھیں آنکھوں میں
وہ نظریں اب نہی ملتی سمےتو سارے جھوٹے ہیں

تمہیں اپنا بنانے کی وہ اک خواہش تھی مدھم سی
ہوئے ہم بے وجہ رسوا۔ تعلق سارے جھوٹے ہیں

تمہارے قرب کو چھوڑیں تمہارا ساتھ کیا کرنا
تمہاری روح بس سچی وہ قرب سارے جھوٹے ہیں

تمہاری دوستی نے تو دئے ہیں زخم میٹھے سے
تو پھر کیسے یہ کہ دیں ہم کہ زخم سارے جھو ٹے ہیں

خدا سے لو لگانی ہے اسی کے پاس جانا ہے
وہی تو اہک سچا ہے۔ زمانے سارے جھوٹے ہیں

یہ دنیا ساری فانی ہے۔ سبھی نے لوٹ جانا ہے
نہ کر اسکی طلب جاناںُ۔ فسانے سارے جھو ٹے ہیں

قدسیہ

 

 


تم گر کبھی آؤ میرے شہر میں
میری راہ میں میرے سحر میں
میری آنکھ ہو تیری۔ منتظر
تیری انکھ ہو میری کھوج میں
مین چلا چلوں اسی راہ پے
جہاں ہو فقط تیری ہی مہک
وہ مہک مجھے بس لے چلے
جہاں ہو فقط تیری ہی چہک
تو میری تلاش میں گم رہے
ساتھ یادیں ہوں میری ہمسفر
مین تیری مہک کے ساتھ ساتھ
تجھے ڈھونڈتی رہوں کو بکو
تو ملے تو گر پڑوں پاؤں میں
کروں ایک سجدہ خدا کو میں
اور ایک سجدہ تجھے کروں
آگر اذن مجھکو خدا کرے،،،امین
نہی پیار کی کوئ انتہا
یہ ازل سے ہے ابد تلک
کہ خدا ہے پیار اور پاک تر
جو ہو دل میں وہ تو ملے دو جہاں
امین

قدسیہ

 

 


 

تمہاری ساری یادیں مینےان بکسوں میں بند کردیں
مگر پھر بھی ستاتی ہیں در دل بند نہی ہوتا

ارواح محبت کا مِلن کیا ہوتا ہے۔۔۔
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔۔۔

ہم جسے چاہتے رہتے ہیں بھلے ساری عمر
وہ نہی ملتا نہی ملتا یہی ہوتا ہے

کچھ بھی مشکل نہی دنیا میں اگر ‘وہ’ چاہے
اسکو راضی کرو ‘کن’ کہہ دے تو ہو جاتا ہے

کچھ بھی پانا ہو بس امید ‘اسی’ پر رکھو
جو پیار عقیدت سے کرو پھر وہ بھی مل جاتا ہے

قدسیہ

 


سوچا یہ تھاکہ یاد سے کترا کے جائیں گے
پھر کیا کہ تیری یاد نے پاگل سا کردیا

قدسیہ

 


‎میں کیا جانوں دکھ کی قیمت
‎مجھ کو سارے مفت ملے ہیں۔

‎پھر بھی ان سے پیار ہے مجھ کو
‎اپنوں سے یہ گفٹ ملے ہیں

‎فضل بھی اور آحسان بھی اسکے
‎مجھ کو سارے بہت ملے ہیں

‎میں کیوں اس سے شکوہ کروں گا
‎دکھ بھی مجھے گر بہت ملے ہیں

‎اس میںُ بھی اسکا پیار ہے شامل
‎بہت خوب اور بروقت ملے ہیں

‎عشق کی آگ میں جل کر جاناں
‎عاشق بھی ہم کو سخت ملے ہیں

قدسیہ


پیاراربوہ

 

پسر مسیح نے سینچا تھا اپنی دعاؤں سے جسے
پہلے سے بھی ہوگیا حسیں۔ اے شہر ربوہ

کچی گلیاں کچے راستے اور بہت ہی مٹی دھول
پھر بھی بہت
ہی پیاری تھی یہ زمیں اے شہر ربوہ

ملکوں ملک کی خاک چھانی پرملا نہ سکوں
صبحیں تیری یاد آتی رہیں اے شہر ربوہ۔۔۔

میرے کتنے پیاروں کو تونے لیا آغوش میں
امدفن ان کا بن گیا زیر زمیں۔ اے شہر۔ ربوہ

جلد واپس لا خلیفہ کو میرے پیارے خدا۔۔!
کیلیں آنکھیں اسکو ترسیں ۔!
اے شہر ربوہ
ہم نے تو تیری یاد کو دل میں بسا لیا
یاد رکھنا ہم کو بھی دل میں
اے شہر ربوہ

قدسیہ


اپنے اندر جہاں سمیٹ بیٹھا ہوں
پھر کیوں جانے تنہا تنہا رہتا ہوں
پیاس ایسی کہ بجھ نہی سکتی
غم کی کڑواہٹ ہی چکھتا رہتا ہوں

قدسیہ


چُپ نہ رہتے بیان ہوجاتے
تجھ سے گر بدگُمان ہوجاتے

ضبظِ غم نے بچا لیا ورنہ
ہم کوئی داستان ہوجاتے

تُو نے دیکھا نہیں پلٹ کے ہمیں
ورنہ ہم مہربان ہو جاتے

تیرے قصّے میں ہم بھلا خُود سے
کس لیے بدگُمان ہوجاتے

تیرے دل کی زمین ہی نہ مِلی
ورنہ ہم آسمان ہو جاتے


ہم سے نہ پوچھو ہمارے دکھ کا عالم
کرچیاں اتنی ہیں کہ چن نہ پاؤ۔ گے

قدسیہ

 


تو میری پسند میری سوچ مرےخیال میں ہے۔۔۔۔
آئینہ دیکھ اور بتا کہ کیا تو ہی میری سوچوں میں ہے۔۔۔

 


زمانے کو بے وفائ کی عادت سی ہو گئ
اک یہی تو غم ہے جو ہم نے اب سہنا نہی۔۔

 


کسی کی آہ کو دنیا کیا سمجھے بدنام کرے تو کیا کرے
وہ قتل بھی کرتے رہتے ہیں ہم قتل بھی ہوتے رہتے ہیں

 


چہروں کے تاثرات سے دھوکہ نہ کھائیے
ہر موڑ پے اک نیا چہرہ بنا لیتے ہیں لوگ

 


وہ ایک شخص جو روح میں بس کیا تھا کبھی
وہ شامل رہا میری دعاؤں۔ میں لفظ لفظ بن کر

مین سوچتی تھی کہ۔ نہ جانے وہ کیسا ہوگا
کیا نظر ملا پاؤں گی اس سےجب وہ سامنے ہوگا

اپنے محبوب کے سحر کے قصے سنتی ہوں جب غیر کے لفظوں مین
دل مچل جاتا ہے اور روح بھی ہو جاتی ہے بے کل سی

خوش بھی ہوں کہ تجھے چاہتے ہیں لوگ مجھ سے بھی زیادہ
کہ تو ہے با کمال ایسی کے چاہے تجھے جگ۔ سارا مجھ سے بھی زیادہ

مجھے تو بس انتظار ہے اس ایک دن کا جاناں
وہ کیسا دن ہوگا کہ جب وہ ہوگا میرے روبرو جاناں

شائد مین اسکے سحر سے نکل نہ پاؤں کبھی
وہ میری روح میرا پیار میری جان ہے جاناں

قدسیہ

 


خدایا!! تو ہم کو تقوی۔ عطا۔ کر۔!!
عبادت میں ہم کو تو لذت عطا۔ کر۔!!
خلیفہ۔ کی ہم کو اطاعت عطا۔ کر۔۔!!
ہمیں اسکی آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر

خدایا تو ہم کو تقوی عطاکر۔۔!!

ہمیں تو دعاؤں کی توفیق دے دے۔۔!!
گناہوں سے بچنے کی توفیق دے دے!
تکبر سے بچنے کی توفیق۔ دے دے۔۔!
ہمین بس تو اتنی سی ہمت عطا کر۔۔!

خدایا تو ہم کو تقوی عطا کر۔۔!

ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔۔!!
امانت کے حق ادا ہم کریں گے۔۔!!!!
شیطان کے ساتھ جنگ ہم کریں گے۔!
ہمین بسس تو اتنی ہی طاقت عطا کر۔۔

خدایا! تو ہم کو تقوی عطا کر۔!!

ہمیں بس۔ چلا تو اپنی۔ طرف ہی۔۔!!
اورآئے گا پھر تو ہماری طرف ہی۔۔!!
نظر تیری ہو بس ہماری طرف ہی۔۔!
ہمیں بس تو اتنی سعادت عطا کر۔۔۔!!

خدایا تو ہم کو تقوی عطا کر۔۔۔!!! امین

قدسیہ

 


جو خوشی زندگی کا حاصل ہو
وہ خوشی بھی دکھا دے ہمی کوئ
ہم منتظر ہیں اسکے ساحل پے
سمندر دکھا دے ہمین بھی کوئ!!

 


مزدور ڈے

یہ دن جو ہے مزدوروں کو
لاچاروں اور مجبوریوں کا

اس دن بھی اس کو چین کہاں
سکون کہان ارام کہاں

یہ دن جو دنیا مناتی ہے
ان کے نام پے ہی کھاتی ہے

کچھ منصوبے اور باتیں ہیں
کچھ ماضی کی بس یادیں ہیں

انکو دہرائے جاتے ہیں
مزدور تو مرتے رہتے ہیں

اج تو سب کو چھٹی ہے
کیا کھانے کی بھی چھٹی ہے؟

اے کاش کے ہم سب اج کے دن
کچھ کرتے عمل بھی انکے لئے

اور کھانے بناتے ان کے لئے
فنڈ ریسنگ کرتے ان کے لئے

دیتے خوشی کچھ ان کو بھی
کم ہوتی دکھن کچھ ان کی بھی

دنیا کے مالک جو کہلاتے ہیں
اور محلوں میں رہتے ہیں

پیتے ہیں خوں مزدوروں کا
لاچاروں اور غریبوں کا

وہ ان کے حصے کاپیسہ
اپنے ہی گھر لے جاتے ہیں

اپنے ہی گلوں کے طوق ہیں یہ
جو دوزخ کی ایندھن بنتے ہیں

اے کاش تم سوچو انکا بھی
اور جنت کا نمونہ بن جاؤ

غریب کے گھر کو بھر دو تم
اور جنت مین گھر بنا لو تم

دنیا کے گھروں کو کیا کرنا
فانی ہیں فنا کا کیا کرنا

قدسیہ

 


ہم ہوں گم تھے اپنی ہی تو ذات میں
پھر نہ جانے تم ملے کب راہ مین

دل یہ سمجھا بس یہی ہے تھام لو
اک یہی تو مل گیا ہے چاہ میں

رات دن کرتے رہے سیوا۔ تیری۔
جیسے بس تم بس گئے ہو ساہ میں

پھر نہ جانے تم کہاں گم ہو گئے
شائد کہ تھے تم اور ہی پناہ گاہ میں

دل بھی ٹوٹا مان بھی اور ذات بھی
مشکلوں سے آئے پھر ہم جا ہ۔ میں

اے خدا ۔! کوئ شناسا نہ بنے
جسنے جانا چھوڑ کے ہو راہ میں

بس تو اپنا پیار دل میں ڈال دے
میں مروں اب تیری ہی اک چاہ میں

 

قدسیہ

 


کاش کہ ٹوٹ کے ہم نے بھی نہ چاہا ہوتا
تو نہ یوں ٹوٹ کے پھر ہم بھی نہ بکھرے ہوتے

 


بارش تو تھم گئی ہے بہت دیر ہو گئی۔۔۔۔
ٹوٹا ہے اب مکاں کوئ جوڑتا نہی

اب نہ تو کوئی دوست ہے اور نہ ہی کوئ آس۔۔۔
کس سے کریں ہم بات کوئ بولتا نہی۔۔۔۔

 


نصیب اپنے ہی کھوٹے رہے ہمیشہ سے
انمول تو تب ہوتے گر ساتھ تمہارے ہوتے

 


تمہی کی چاھ میں جینا تمہی کی چاہ میں مرنا
یہی کمال ہے اپنا۔ کوئ سمجھے ہا نہ سمجھے

 


وہ جاگے ہمارے لئے ھماری قسمت ہے
ہوا کے دوش پہ یہ مژدہ بھی اک غنیمت ہے

 


 

خدایا۔! خلیفہ کو پر نور رکھیو۔۔
مسرور کو تو  مسرور رکھیو!

وہ ہم کو ہے پیارا تو ہم اسکے پیارے
یہی سلسلہ بس تو مقبول رکھیو!

ہمین انکی آنکھوں کی ٹھنڈک ہی رکھیو!
ہمیشہ اسی کے اثر مین ہی رکھیو!!

محبت ہماری تو اس کے لئے ہے
ہمیں بھی تو اسکی دعا میں ہی رکھیو!
امین

قدسیہ


 

جب تک دکھاؤ گےتم یہ سبز سبز باغ
ہم بھی کریں گے سیر تمہارے ہی ساتھ ساتھ

چلنا ہے ہم کو دریا کے سنگ سنگ ہی۔۔
ملتے نہی ہیں دونوں کنارے بھی ساتھ ساتھ

تم جب ملے تو زندگی کی شام ہو گئ۔۔۔
مر کے رہیں گے اب تو تمہارے ہی ساتھ ساتھ

شام غم کو روکا کہ مت آئے ہمارے۔ پاس۔۔۔۔
پر عادت تھی اسکو رہنےکی ہمارے ہی ساتھ ساتھ

رب کی قسم کہ۔ کوئی بھی اپنا نہ بن سکا
خوشیوں کی آس میں پالے شرارے ہی ساتھ ساتھ

قدسیہ
21.1.2017


چوڑیاں جب کھنکھتی ہیں تو یاد پیا کی آتی ہے
ہاتھ میں جب بھی ہوتی ہیں تو یاد پیا کی آتی ہے

نصیب ہو ہر بچی کی زندگی میں یہ کھنک
یہ رنگ دھنک ساتھ رہیں تو یاد پیا کی آتی ہے

قدسیہ

21.1.2017


کتنی شامیں گزر گئیں اک دستک کے انتظار میں
نہ کوئی اپنا نہ بے گانہ یہاں کوئی آتا ہی نہیں

ہم آبیٹھے ہیں دورکے دیس جہاں چاندتوخوب نکلتا ہے
پر روشنی اسکی بھی کم ہے کہ اندھیرا غم کا جاتا ہی نہیں

قدسیہ
14.2.2017


جس کو اپنا کہا ملا ہے مجھے۔۔۔
خواہشوں کی اب تمنا نہیں۔۔۔۔۔۔

محفل حسن جاں تو ساتھ ہے اب
اُڑتے بادلوں کا۔ آشیانہ ۔ نہیں۔۔۔

میری دنیا تو اب ملی ہے مجھے
ہے نیا سب۔ کچھ پرانا نہیں….

خامشی کو میری زباں مل گئی۔۔۔۔
اب آنکھوں سے کچھ بھی کہنا نہیں

میرے دل میں چھپی ہے مری داستاں
اب کسی کو بھی مینے سنانا نہیں۔۔۔

جس وفا کی تمنا تھی مل ہی گئی۔۔۔
یہ سچ ہے کوئی تازیانہ نہیں۔۔۔۔۔۔

میرے دوستو ۔اب نہ مارو مجھے..
میں عاشق ہوں کوئی دیوانہ نہیں۔۔

قدسیہ
14.2.2017


سر اقبال سے معذرت کے ساتھ پیش کرتی ہوں ۔

قرآن کو پڑھنا نہیں جیون میں اک بار
حکم خدا ہے کہ اسے روز پڑھا کر

اقرار ہے خود سے کہ تو ہے سچا مسلماں
فرمان محمد بھی شب و روز پڑھا کر۔۔

اُسی فرمان میں لکھا ہے کہ مہدی کو بھی مانو
امام وقت کے کلام کو بھی پرسوز پڑھا کر

قدسیہ

19.2.2017


ہوگا کسی پےکیااحسان محبت
ہم تو ہیں اسیرعاشقان محبت

دکھاؤ تم بھی اب شان محبت
ہماری توہےبس اک پہچان محبت

سب نے ہی دکھائے کمالات محبت
ہم ہی کے پاس تھےنہ آلات محبت

مانگا تھااک لمحہ سکون محبت
عمربھررہےپھربےسکون محبت

اسنے نے بھی آخرکردیا آظہار محبت
جو خود تھا کبھی سرتاپہ پیار محبت

قدسیہ
9.3.2017


بھلا کیسے گزاریں گے ہم تیری یاد کا موسم
خدایا اب کبھی آئے نہ اُسکے بعد کا موسم

بہت تکلیف دیتی ہیں ہمیں یہ ہجر کی گھڑیاں
رہے بس اب ہمیشہ ہی دلوں کے ساتھ کا موسم

ہم اسکی یاد میں اکثر ہی بے آواز روتے ہیں
تمنا ہے کہ آجائےخوشی کے ساز کا موسم

زرا سی لو محبت کی ابھی بھی ٹمٹماتی ہے
چنگاری کوئی گر بھڑکے توآئے پیار کا موسم

قدسیہ
12.3.2017


اس کے لیئے۔۔۔۔۔۔۔🌹😍🌹

دل کی دہلیز پے یادوں کو سجا کر رکھوں
تیرے چہرے کو خیالوں میں بسا کر رکھوں

تو سمجھتا ہے تجھے بھول گئ ہوں شائد
میں یہ چاہوں کہ تجھے اپنا بنا کے رکھوں

تو مجھے جان سے پیارا ہے میرے جان جگر
میں تیرا پیارہی بس دل میں چھپا کررکھوں
قدسیہ
11.5.2017