TRUE PERSON, BLOGGER, WRITER, POET, EXPERT IN PHOTOSHOP AND VIDEO MAKING, GRAPHIC DESIGNER, CREATIVE DESIGNER, BOUTIQUE AND FASHION DESIGNER

  • ” گھر ” یا عیدی ” گھر ” ایک بچی کا سوال

    ” گھر ” یا عیدی ” گھر “

    ایک بچی کا سوال

    وہ اندھیری رات اور درد کا طوفان آج بھی نظروں کا طواف کرتا ہے. کیسا جگر تھا؟؟؟ کتنا کرخت لہجہ اور خوفناک نفرت انگلتی زبان تھی ؟؟؟ ماں کی درد بھری فریاد اور سسکیاں اور باپ کا دھتکارنا اور نفرت اور حقارت کی چٹان بن جانا اور پھر ماں اور مجھے نکال دینا. میں روتی رہی اور میرے آنسوؤں کی پرواہ بھی نہیں کی.اس کو میری بازؤں کے حصار نے بھی نہ روکا. میرے آنسوؤں نے بھی نہ پگھلایا. میرے درد بھرے چہرے میں بھی اس کو امید ، طلب اور چاہت نظر نہ آئ.

    میں نے اور ماں نے تنہا زندگی کا سفر شروع کیا. پہلا قدم بے حد مشکل تھا. پہلا سفر آگ پہ چلنے کے مترادف تھا. پر ماں کہتی تھی کہ اب ڈرنے کی ضرورت نہیں جس کا ڈر تھا وہ طوفان آچکا. اب اس طوفان سے مقابلہ کرنا ہے . اس طوفان کو پیچھے اسی پہ دھکیلنا ہے. اب دنیا کے سنگلاخ سفر میں ننگے پیر ہی سفر کرنا ہے اور اسی سنگلاخ زمین کو پیر کا جوتا بنانا ہے. اسی آسمان کو سائباں بنانا ہے کیونکہ یہ کوئی نہیں چھین سکتا . اس سائباں کا خالق اس دنیا کے تخلیق کاروں سے بڑا ہے. یہ زمین کوئی نہیں چھین سکتا کیونکہ اسی زمین میں ہر کسی کو اپنے حصہ کی دو گز ملنی ہے. واااااہ ماں !!!! کیا منطق تھی . میں اس کے بعد نہیں ڈری . میں اس کے بعد مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئ. آج مجھے سب بے پرواہ، ضدی، نڈر اور بہادر کہتے ہیں. اور میرا نام stunt ہے. پر کیا کروں، ماں نے کہا تھا کہ آج کے بعد سب کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور سب سے اپنا حصہ لینا ہے. پر ماں نے کہا تھا کہ نرم خو رہنا ہے اور خدا سے لو لگانی ہے. پر میں کیا کروں میرے اندر تنہائی اور ادھورا پن ہے. میرے اندر سوالات کا طوفان ہے جو مجھے چین لینے نہیں دیتا. وہ لمحے ، وہ پل میرے وجود کو چیرتے ہیں. میرے بچپن کے قاتل، میری سادگی کاخون کرنے والےاور میری خوشیوں کے دشمن آج مجھے پل پل یاد آئے جب مجھے عید پر ” گھر ” کا تحفہ بطور عیدی ملا.

    آہ!!!! یہ کیا کیا بابا؟؟؟؟؟ میں نے تو وہ گھر مانگا تھا جس میں لوگ رہتے ہوں. اپنے رہتے ہوں. میرے بابا اور ماں کا گھر، میرے پیاروں کا گھر جو میری زندگی کا محور ہیں. وہ جو میرے اپنے اور اپنے ہیں.
    پر تم نے بابا کیا دے دیا. اس سے تو میں ایک دن میں تھک گئ. اس کو جوڑتی ہوں. تو ٹوٹا گھر نظر آتا ہے. اس میں اپنا آپ ڈھونڈتی ہوں. تمہیں ڈھونڈتی ہوں. وہ سب نہیں ہے اس میں. اس میں صرف بے جان مورتیں ہیں. کچا گھر ہے جو ہوا سے بھی اڑتا ہے. میرے گزرنے سے بھی گرتا ہے.
    بابا یہ تو گھر نہیں ہے. یہ تو کاغذ ، گتے یا لکڑی کا ماڈل ہے. میری گڑیا تو اس میں مر جائے گی. ہوا سے جب گھر اڑے گا تو وہ ڈر جائے گی. کون اس کو مضبوط بانہوں میں تھامے گا؟؟ کون اس گھر کو پانی میں بھیگنے سے بچائے گا؟؟کون اس دل میں جھانکے گا جو تیرے وجود کے لئے دھڑکتی ہیں ؟؟
    اب کون اس کی حفاظت کرے گا؟؟

    اب عید پہ سب اپنے بابا کے ساتھ عید کی نماز پہ گئے. سب عید پہ کھیلے. سب کے ساتھ ان کے بابا تھے. پر میرے پاس صرف یادیں، یادیں ان پل کی جو میں نے بتائے. تخیلات کی وادی میں، میں نے تمھیں چھوا، تمھاری بانہوں کا جھولا لیا. تمہارے سینہ سے لگ کے سوئی، تمہارے خوابوں میں، تمھارے خیالوں میں، بس تمھیں اور تمھیں ہی دیکھا. تمھیں ہی لب نے پکارا. تمھیں ہی دعا میں مانگا.

    بابا تم کیوں نہیں سمجھتے، مجھے تم چاہئے. تمہارا پیار اور تمہارا ساتھ چاہیے.

    بابا تم آجاؤ، تم کھیلو، تم مجھے جھولاؤ. تمھاری خوشبو، تمھارا لمس اور تمھارا حصار میری تمنا، میرا حاصل اور میری آرزو ہے.

    تم بن تمھاری بیٹی ادھوری ہے بابا!!!!!
    تم بن تمھاری بیٹی ادھوری ہے بابا!!!!!

    ریشہ تھریڈز

    30.06.17

     

  • ہوتا ہے شب وروز تماشامیرے آگے

    ” ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے ”
    دنیا کیا ہے ؟؟؟ صرف فانی اور لاحاصل مقام ،جہاں شب وروز کے بدلتے اطوار نے وجود لاریب کے دل میں اس کی ہوس پیدا کردی ہے. ہر طرف کی بکھری رعنائی محض عارضی ہے لیکن پھر بھی انسان کیلیے طلب اور کشش کا موجب ہے. یہاں بدلتی رتوں، اور دوپل کے اجالوں اور باطل امید کے قمقموں نے اس کیلیے مقابلے کی دوڑ لگادی ہے. ان تمام جھوٹی اور مصنوعی چیزوں نے ایک تخیلاتی حسین دنیا اس کے رگ و  ریشہ میں سجادی ہے

    ان تمام باطل معبودوں کے حصار میں پھنسا انسان لاکھ کوشش کے باوجود نہیں نکل سکتا. اس بے ثبات دنیا کی اندھا دھند تقلید نے انسان کو لاچار اور بے بس کردیا ہے. وہ نہ صرف اپنے معاشرہ اور اہل و عیال کے لئے باعث پریشانی ہے، بلکہ خود اپنے لئے بھی عبث اور بیکار زندگی گزار رہا ہے

    حکو مت و تخت و تاج کی دوڑ اور ہوس نے لاکھوں، کڑوڑوں انسانوں کو نگل لیا ہے. پچھلی اقوام میں جب جاہلیت کا دور دورہ تھا، تو کبھی پانی پلانے پہ جھگڑا، کبھی قصاص پہ جنگیں، کبھی گھوڑا بڑھانے اور کبھی زمین اور جھوٹی عزت و انا پہ جھگڑا معمول تھا. جس نے معمولات زندگی کو خراب کر کے وحشت و بربریت کی فضا قائم کر رکھی تھی. عزت ، مال ودولت، گھر اور مکان حتی کہ حشرات الارض اور اراضی بھی محفوظ نہیں تھی

    مولانا حالی نے کیا خوب نقشہ کھینچاہے

    “کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا ، کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
    لب جو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا، کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا”

    جاہلیت سے آگے بڑھ کر عقلیت کے دور میں جھانکیں تو سوالوں کے سمندر میں طغیانی پیدا ہوجاتی ہے. کیا ہم دور جاہلیت سے نکل چکےہیں؟؟ کیا ہم جنگ و جدل سے باز آچکے ہیں؟؟ کیا ہوس اور لالچ کے چنگل سے آزاد ہیں؟؟ کیا ہم آگے بڑھنے کیلئے اپنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں؟؟ کیا آج عورت کی عزت وحرمت کی پاسداری ہے؟؟ کیا آج غلامی کی زندگی گزارنے پہ مجبور و بے کس لوگ نہیں موجود؟؟ کیا آج اعضاء کا مثلی نہیں کیا جاتا؟؟ کیا آج معصوم بچے بیچے اور خریدے نہیں جارہے؟؟ کتنے ہی لاتعداد سوالات ہیں جو کہ نام نہاد عقل کے ٹھیکیداروں کی عقل کا جنازہ اٹھاتے ہیں . لیکن ان وراثتی عقل مند اور دانشمند بے تاج بادشاہوں کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی

    آج زمانہ جاہلیت سے زیادہ انسان ہوس اور حرص کا شکار شیطان کا پجاری ہے. جھوٹے علم و عقل کے دعویداروں نے جاہلیت سے بھی چار قدم آگے بڑھا لیا ہے. ہلاکو خان، ہٹلر، ہیرو شیما، دو بڑی عالمی جنگیں اور آئے دن شرق و غرب میں پھیلی لڑائی آخر کس لئے ہے؟؟ صرف اور صرف اقتدار کی جنگ ہے. دوسروں کو نیچا دکھانے کی جنگ ہے. اپنی ذات کی جھوٹی تسکین ہے . برما، عراق، ایران، افغانستان، الجزائر ، پاکستان ، ہندوستان، کشمیر اور فلسطین جیسی بےشمار جنگیں ان کی جاہلیت اور بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہیں. لیکن حکمران ہیں کہ بے خبری کی تصویر بنے کھڑے ہیں. آج بھی مذہب کے نام پر مذہب اور دین کے ٹھیکیداروں نے خون سے ہولی کو اپنا مشغلہ بنالیاہے. آج بھی معصوم و بے قصور عوام ڈرون حملوں اور خانہ جنگی کا شکار یے. کہیں قبائل کی جنگیں، کہیں پانی کی تقسیم، کہیں ریاست کی تقسیم ، کہیں اپنے تخت و تاراج کی جنگ اور کہیں مقدس مقامات کی آڑ میں اپنی ہوس پوری کی جارہی ہے

    دنیا کے یہ شب وروز ہمارے سامنے ہونے کے با وجود ، آج ہم سب بے بسی کی مورت بنے صرف محو تماشا ہیں. کیونکہ آج بھی ہم اپنی ذات کو بچا رہے ہیں. کیونکہ ہم سب کو اپنی جان اور عزت و آبرو کی فکر ہے. ہم سب آج اپنی چھوٹی خوشیوں کی آس میں اجتماعیت سے دور بھاگتے ہیں. اتفاق اور اتحاد کی کمی نے ہمارے ایمان کو محض کھلونا بنا دیا ہے. نہ ہندو، نہ عیسائی، نہ یہودی ، پارسی اور نہ ہی مسلمان کوئی بھی مکمل کیا معمولی سا بھی اپنے اپنے دین و مذہب کی پیروی نہیں کررہا. ہر کوئی صرف وقت کے بادشاہ کا غلام ہے.

    ہندوستان میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا، انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے. امریکہ دنیا پر اپنے دجالی رنگ کا سکہ چمکائے بیٹھا ہے. روس تمام بے پر کی سرکار کا پشت پناہ ہے اور اصل الفساد ہے. سرزمین نبوت پر جاہلیت سے بڑھ کر بادشاہت اور ظلم کاراج ہے. اور نام نہاد اسلامی ملک پاکستان اسلام کو آلہ کار بناکر لاکھوں مسلمانوں کو موت کی آغوش میں بھیج چکا ہے. اسلام تو امن اور سلامتی کا دین ہے لیکن اسلام کے جھوٹے ٹھیکیداروں اور جنتی سرٹیفیکیٹ دینے والوں نے اسلامی تعلیمات کو پامال کردیا ہے. کفر کے فتوے سر عام بک رہے ہیں. جب چاہے کوئی کسی کو کافر بنادے. کسی کی پتلون پر، کسی کی داڑھی پر اور کسی کے خضاب لگانے پر وغیرہ. غرض یہ کہ زمانہ جاہلیت میں ترقی کی منازل طے کررہے ہیں
    کبھی سلمان تاثیر کو کافر قرار دے کر ، کبھی صابری کو ، اور کبھی مشال کو کفر کے فتووں میں لپیٹ کر ابدی نیند کی گولی دے دی. اور خود جنت کے وارث بن گئے . حیرت اور افسوس ہے کہ کیا یہی انسانیت ہے؟؟ کیا ان کا ضمیر مر چکا ہے؟؟ کیا یہ شر الفساد نہیں ؟؟ کیا یہی اسلام ہے ؟؟ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی سر بلندی کیلئے ایک آزاد مملکت حاصل کی

    کیا اعلی پایہ کے لوگ ہیں کہ جن کو دلوں کا حال بھی معلوم ہے. کتنے معصوم لوگوں کی نیتوں کا حال جان کر وہاں خود کش حملہ کرنے سے جنت کی خوشخبری دیتے ہیں. کیا اسلام میں خود کشی کا انعام جنت ہے؟؟ کیا مظلوم اور نہتے لوگوں کا قتل عام جنت کی رسید ہے؟؟ کیا یہ سب دعویدار جنت تقسیم کرتے ہیں ؟؟ دکھ ہوتا ہے ان کی عقل پر، ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے . لیکن ہماری عوام کو تیل میں لپٹے چمڑے کھانے کے ساتھ ساتھ پیاز بھی کھانے کا مزہ آتا ہے. عوام کی ہی زمین لوٹ کر اسی پہ گھر بنوانے کے وعدے دل کو لبھاتے ہیں. بم دھماکوں میں مرنے والوں کے لواحقین کیلیے اپنی جانوں کی قیمت لاکھ دو لاکھ ہے. بوسیدہ اور ناقص تعمیری کام کی وجہ سے آسمانی آفات میں تباہ ہونے والوں کے لئے جھوٹے وعدے ہی سب کچھ ہیں. کاروکاری میں ماری جانیوالی مظلوم اور بےگناہ عورتوں کی خبروں پر پیسہ کمایا جاتا ہے. موت کے بعد بولنا کہاں کا انصاف ہے. کیوں ضمیر مر گیا ہے . کیوں آج پولیس آفیسر سچ بولنے پہ معطل یا بم دھماکے میں اڑا دیا جاتا ہے
    کبھی کسی نے نہیں سوچا کہ لڑائی میں امریکہ کے صدر کے خاندان کو نقصان ہوا، نہ ہی کبھی روس، پاکستان اورہندوستان وغیرہ کہیں پر بھی کسی سیاست دان اور اس کے خاندان کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا. سوائے ان کے جن کو یہ خود آپس میں اقتداد کی جنگ میں اڑا دیں

    آج کا بچہ بچہ یہ پیرو جوان اس بات کی زندہ مثال ہے کہ انکا ضمیر مر چکا ہے یا وہ بک چکے ہیں. آج صرف دنیا ایک تماشا بنی ہوئی ہے جس میں ہر کوئی دانستہ اور نادانستہ قصوروار ہے . آج اس فانی اور لاحاصل دنیا میں ناخداؤں کے پیچھے خدا کو بھلا بیٹھے ہیں . زمانہ جاہلیت سے بڑھ کر کفر وشرک میں مبتلا ہیں . توحید کی باریک راہوں پر قدم مارتے انسانیت اور علم وعمل کی روشن مثال بننے کی بجائے جہالت کے مینار کھڑے کر رہے پیں

    نتیجۃً لالچ اور حرص وہوس نے صرف بھوک سے بلکتے بچے اور ممتا کو ترستے بچے پیچھے چھوڑے ہیں. یہ آج بے سہارا کھلے آسماں تلے باپ کی شفقت اور محبت کو ترس رہے ہیں اور دور دور تک کوئی پرسان حال نہیں. یہ لاغر اور کمزور اعصاب پر اگلی نسلوں کی باگ دوڑ ہے. سوچنے کی بات ہےکہ کیا اگلی نسل معذور ہوگی؟

    کاش کہ آج نفس جاگ جائے اور ضمیر کی آواز بلند ہو اور تخت و تاراج پارہ پارہ ہو کر توحید کا علم لہرایا جائے اور کوئی پتھر کی مورت بن کر محو تماشا نہ رہے. امین

    “اب اس قدر بھی یہاں ظلم کو پناہ نہ دو
    یہ گھر گرا ہی نہ دے دست – غائبانہ کوئی “

    صابر ظفر

    ریشہ تھریڈز

  • ماں کی موت یا مدرز ڈے تقریباتـ

                                    “ماں کی موت یا مدرذ ڈے تقریبات”

    ماں ” اُمٌّ ” سے ہے یعنی ” جڑھ یا اصل” ۔ اپنی یا کسی کی جڑھ کاٹنا یا مٹادینا کیا خود کی ، اور نسل انسانی کی بقا ہے؟؟
    پر یہ کیا ہے؟؟ کسی کو ماں کی موت کا دکھ دیا جائے۔ اپنی ماں ہوتے ہوئے بھی، جذبات واحساسات کا خون ۔ کہیں اپنی ماں کو غم کی اندھیر کوٹھری میں دفن کردینا، کہیں درو دیوار کے ساتھ تنہا باتیں کرنے کے لئے چھوڑ دینا، کبھی پاگل خانوں کو ان ممتا سے بھرے وجود سے آباد کردینا، تو کبھی ماں سے دور دیسوں میں جاکر فون تک نہ کرنا کہ ممتا کی آگ ٹھنڈی ہوجائے۔ کہیں ماں کو جاہل، گوار کے طعنے دے کر ممتا کے وقار کو جلا دینا اور اس محسن کےاحسانات کوروند دینا جو اس کو دنیا میں لانے کا سبب بنی۔

    کتنے ظالم اورسفاک لوگ ہیں جو اتنی آسانی سے ماں کو موت کی نیند کی سلادیتے ہیں؟؟ بے دردی سے ماؤں کو قتل کرکے کتنے لاوارث اور بلکتے بچے پاؤں میں روند جاتے ہیں۔ کہیں معصوم اور بے سہارا بچوں کو مار کر بے دردی سے ان کے نازک جسموں کو نوچ کر ممتا کی روح تک زخمی کردیتے ہیں۔ کیا ان کو ماں یا ممتا کا کوئی احساس نہیں۔

    آج کتنے لوگ جگہ جگہ ماں کا عالمی دن منارہے ہیں۔ کیا ماں کی ممتا ایک دن کی محتاج ہے؟ کیا یہ آج کے بعد اس ماں کو ملیں گے یا اولڈ ہاؤسز میں صرف آج پھول لیکر جانا ہے۔ یا نت نئے کارڈز دینے ہیں۔ یا آج میری ماں، میری ماں اور ” ہیپی مدرز ڈے ” کا نعرہ لگا کر اور تصاویر لگاکر دنیا کو دکھانی ہیں کہ کون سب سے پہلے ٹویٹ یا پوسٹ کرتا ہے۔

    اسلام نے تو علی الاعلان یہی نعرہ بلند کیا ہے. اور جنت کی بشارت ہی ماں کے قدموں نیچے ہے۔
    حسن کائنات اور سید المرسلینؐ ہمارے آقاومولی فرماتے ہیں کہ” اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُ مَّھَاتِ”۔ یعنی جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔

    جنت عارضی خوشی اور رسمی محبت اور رواج کا نام نہیں ہے۔ کہ ایک دن اکٹھے ہوئے اور جنت کی رسم کشائی ہوگئ۔ نہ ہی یہ کوئی عارضی ٹھکانہ ہے کہ کبھی لے لی اور کبھی ترک کرکے آگئے۔

    جنت تو ایک دائمی خوشی اور محبت اور خدائی احکامات کے بجا لانے کے بعد اک مستقل ٹھکانہ ہے جہاں خدا کے رحم اور فضل کی نہریں بہتی ہیں۔ جو کہ چھن جانے والی یا ترک کرنے والی نعمت نہیں ہے۔

    بالکل ایسے ہی ماں کی محبت اور ممتا پل دو پل کی کہانی نہیں ہے بلکہ عمر بھر کی ٹھنڈک اور سکون کا احساس ہے۔ ماں اک ایسا شجر ہے جو سایہ دار ہے ، دنیا کی دھوپ اور تکان کا احساس اس کے حصار میں ختم ہوجاتا ہے. کیونکہ کمزور سے کمزور ماں بھی اپنی اولاد کے لئے طاقت ور وجود ہے۔ کیونکہ وہ اس نے رحم اور محبت کا حصہ اپنے رب سے پایا ہے۔

    لیکن آج کل اس معاشرہ میں بڑھتی مادیت کی جنگ نے احساسات کے سمندر میں سکوت طاری کردیا ہے۔ جنگی اور دہشت گردی کی کاروائیاں اور ذاتی لالچ اور حرص نے ممتا اور ممتا سے جڑے رشتے ناپید کردیئے ہیں ۔ نفسا نفسی کاعالم ہے کہ چند روپوں کی خاطر کوئی کسی کی گود ویران کردیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں قبر کی نظر کردیتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ رشتوں میں جمود طاری ہوگیا یے ۔

    کاش کہ اس خوبصورت کائنات میں ، میں ،آپ اورہم سب ماں کی ممتا 365 دن یاد رکھیں اور بجائے یہ دن کے منانے کے ہر ماں کے لئے راحت وآرام کا سبب بنیں. چاہے وہ کسی کی بھی ماں ہو۔اور اپنی جڑھ اور اصل سے تعلق رکھیں تا کہ زمین پر چل سکیں ۔ کیونکہ اگر جڑھ کاٹ دی تو ہم خود ، ہماری شناخت مٹ جائے گی۔

    یاد رکھیں کہ جنت میں ماں کے نام سے پکارا جاتا ہے. یہ نہ ہو کہ بن ماں کہلائیں۔

    ریشہ تھریڈز
    14.5.17

     

     

     

     

  • ROOH M DIL BASA K CHAL, SADAAEY DIL BY WADOOD

    ROOH M DIL BASA K CHAL, SADAAEY DIL BY WADOOD