TRUE PERSON, BLOGGER, WRITER, POET, EXPERT IN PHOTOSHOP AND VIDEO MAKING, GRAPHIC DESIGNER, CREATIVE DESIGNER, BOUTIQUE AND FASHION DESIGNER

  • 😥😥😥😥 بول کہ لب آزاد ہیں تیرے 😥😥😥😥😥

    😥😥😥😥 بول کہ لب آزاد ہیں تیرے 😥😥😥😥😥

    ایمر جینسی، ایمرجینسی کا شور لگاتے ہوئے محلہ کا لڑکا نمرہ کو ہسپتال کے ایمر جینسی روم کی طرف دھکیل رہا تھا. لڑکے کی ماں نے نمرہ کو سنبھالاتو وہ جلدی سے ڈاکٹر صاحبہ کو بلالیا. ڈاکٹر نےاستفسار سے پوچھا کہ نمرہ کیا ہوا؟؟ تم تو اتنی نازک اور خوبصورت تھیں. تم توخود ایک قابل لیکچرر تھیں. حوصلہ کرو، ہمت کرو، وغیرہ وغیرہ. پھر ڈاکٹر نے کچھ معائنہ کے بعد انجیکشنز دئے تو وہ پرسکون سو گئی.
    ہوش آنے پہ ڈاکٹر علیزہ اس کے پاس تھی. ڈاکٹر کو دیکھتے ہی اس کو پتہ چلا کہ یہ تو اس کی اپنی دوست تھی. علیزہ کو دیکھتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی. علیزہ نے اسے گلہ لگالیا. ایسے جیسے برسوں بعد کوئی اپنا مل گیا. سرد جذبات میں ہلچل مچ گئ. برفیلے آنسو بہنے لگے، گویا گلیشیر پھٹ گیا. مصنوعی مسکراہٹ کے تلے دبی زبان کلیجہ اگلنے لگی.

    کس قدر حسین نمرہ کی زندگی مصنوعیت اور بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئ. بظاہر حسین دنیا کے چمکتے ہیرے احسن سے شادی کے بعد پتہ چلا کہ یہ ہیرے تو محض پتھر ہیں. جن پہ شرافت کی قلعی نے ان کے ظلم کو چھپا رکھا ہے. نمرہ کی شادی کے بعد اس کی زندگی رک گئ. گھر میں محض کام والی کی حیثیت رہ گئ، دن بھر کام کے بعد میاں کی ڈانٹ ڈپٹ اور لعن طعن نے کلیجہ چھلنی کردیا. روز باپ کی غربت کا طعنہ اس کی قابلیت اور علم کے مقابل پہ آجاتا. اس کی قابلیت کی دھجیاں اڑائی جاتیں . جیسے وہ کچھ بولنے لگتی، لعن طعن اور ذہنی اذیت اس کے لبوں پہ قفل لگاجاتے.معاشری کے سامنے حسین ہنس مکھ مورت بننا اس کی عادت بن گیا. لیکن یہ ہنسی دیکھنے والوں کو کھوکھلی لگتی. کبھی میک اپ سے ، کبھی رات بھر جاگنے ، طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے بہانے اور چوٹ لگ جانے وغیرہ کے بہانوں سے دل کے زخم چھپا لیتی.

    آج تو حد ہوگئ جب اس کو اس کے شوہر نے بھری محفل میں ذلیل ورسواکردیا. اس کو گل پڑی مصیبت کہہ کر منوں مٹی تلے ڈال دیا. اس کے سادہ لوح خاندان کو ذلیل کیا. اس کے باپ کو رسواکیا. وہ اس قدر رسوائی برداشت نہ کرپائی. سب مہمانوں کے چلے جانے کے بعد سب کچھ سمیٹتے سمیٹتے اس کے اعصاب جواب دے گئے اور وہ غش کھا کر گئی. ہوش میں آنے کے بعد اپنی دوست علیزہ جے سامنے صدیوں کی پڑی برف جھاڑ کر لاوا ابل دیا.

    آج دل کہہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر سب سے کہہ دے کہ یہ دنیا جھوٹی ہے. شرافت کے لبادہ میں بھیڑیا ہیں. بے حس رشتوں کی زنجیر سے آزاد ہوکر کھلی فضا میں سانس لے.
    دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد وہ پھر سے سوگئ. لیکن اب وہ بہت پرسکون تھی. اور ایک فاتحانہ مسکراہٹ لبوں پہ تیر رہی تھی.

    ریشہ تھریڈز

  • نظر میں حسن پیدا کر سنورجائے گا ویرانہ بھی ر جائے گا ویرانہ بھی

     

     

    گلاس آدھا خالی ہے!!! کسی کو خالی نظر آتا ہے. کسی کو آدھا بھرا. یہ اپنا اپنا زاویہ نظر ہے. بالکل ایسے ہی جیسے یہ دنیا کسی انسان کو خدا کے حسن کی بہترین تصویر اور دو عالم کی خوبصورت تخلیق نظر آتی ہے اور کسی کے لئے یہ ایک بدصورت عذاب سے کم نہیں. حسن کائنات کی ایک معروف مثال صنف نازک ہے جو کسی کے لئے صنم ، جان من، لخت جگر اور شہزادی ہے اور وہی عورت کسی کے لئے چڑیل، کم عقل اور نحوست یا سر پڑی مصیبت ہے .

    فرق کہاں ہے؟؟ انسان کی سوچ میں ، نظر میں یا مفعول جس کے بارے میں سوچا گیا؟؟ یا وہ تغیرات جو ہر ایک کے ساتھ الگ منسلک ہیں. زندگی کے جو رخ اور زاویہ ان پر کھلتے ہیں اسی کی تشریح ان کی سوچ کرتی ہے جو الفاظ کا لبادہ اوڑھ کر ظاہر آتی ہے.

    کسی پہ زندگی کی مہربانیاں، اور کسی پہ وقت کی طغیانیاں.
    کہیں کوئی اونچے محلات میں اور کہیں کوئی کھلے آسماں تلے
    کسی کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں اور کسی کے دستر خوان میں جگہ نہیں کہ مزید رکھا جاسکے. کوئی اپنے پیاروں کے ساتھ رشتوں کی ڈور میں اور کہیں کچھے دھاگے

    مختلف حالات انسان کے دل ودماغ پہ اثر ڈالتے ہیں . یہی چیز انسان پر حسن نظر یا بد نظر بن کر ابھرتی ہے کیونکہ وہ وہی سوچتا ہے جو بیتی ہے.

    زمانے تغیرات اور وقت کی شرارتوں میں کوئی ایسا مطمئن نظر آتا یے جو یہ کہتا ہے کہ میرے رب دی سوہنی اوچی کائنات. جس کو جھونپڑی جنت لگتی ہے. جس کو ہر لمحہ اپنا رب دکھتا ہے جو کسی بھی چنگیز لمحے کو اپنے رب کے توکل سے جیت لیتا یے. اور صابر وشاکر یہی سوچتا ہے کہ یہ خدا کی آزمائش تھی. نفس مطمئنہ ہی حسن نظر رکھتا ہے کیونکہ وہ تاریک دشت میں بھی جگنو دیکھ لیتا یے. اس پہ اندھیرے کا خوف نہیں جگنو کی خوشی ہوتی ہے.

    پس یہی حسن نظر پے جو حضرت بلال رض کو حبشی سے مؤذن رسول بنا گیا. یہی حسن نظر خدیجہ رض کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور قرب عطاکرگیا. یہی حسن نظر نے غاروں میں خدا دکھادیا اور جبرائیل قاصد اللہ بنا .

    ایسا حسن نظر ہونا چاہیے کہ انسان مٹی سے سونا چن سکے.

    دل کی آنکھ سے دیکھو تو یہ دنیا بڑی حسین ہے اور اگر دماغی توجیہات پہ چلے تو زرخیز بھی بنجر ہوجائیگی.

    23.07.17

  • رنگ حنا

                 رنگ حنا

     

    “حنا” کانام سنتے ہی ہر لڑکی کی آنکھوں میں جگنو کھل اٹھتے ہیں. لہلہاتی چلمن ، گنگناتا کنگن اور ہلتے لب اس کی ذات کو رنگ دیتے ہیں. وہ لجاتی اور شرماتی اپنے آپ میں ہی کھجلی اور شرم محسوس کرتی ہے. کبھی خود سے ہنسنا، شرمانا اور کبھی خیالوں کی وادی میں چھلانگیں مارنا اس کی عادت بن جاتے ہیں
    لیکن ساتھ ہی یہ رنگ کبھی بھی اداس سمندر کی عمیق تر گہرائیوں میں لے جاتا ہے. جہاں اسے اپنا آنگن ، اپنی گڑیاں، اپنی سہیلیاں ہم جولیاں اور سب سے پیارا وجود ماں باپ سے دوری کا غم اداسی دے جاتا ہے. یہ اداسی اس کی خوشی میں ٹھہراؤ پیدا کردیتی ہے. وہ رنگوں میں اپنے رنگ اور اپنے پیارے تلاش کرتی ہے. لیکن ہمیشہ کھو جاتی ہے

    پھر اس پر اس کے “پیا “کا” رنگ ” چڑھتا ہے. جو اسے سب سے حسین لگتا ہے. مہندی کی تھال سے ” پیانام ” کی مہندی اس کے چہرے کو گلابی کردیتی ہے. اس کے دل کے تار چھیڑ دیتی ہے. اور وہ دل میں سپنے لئے اپنے ” پیا دیس” چلی جاتی ہے. جہاں پیا کی خوشبو اور اسکا ساتھ اس کی زندگی کی خوبصورتی بن جاتا ہے

    مگر کیا کریں؟؟ مہندی یا حنا کا رنگ دائمی نہیں. اس میں پھیکا پن اور مٹ جانے کا اثر بھی ہے. بس یہی اثر زندگی کے رنگوں میں بھی سرایت کرجاتا ہے. وقت کے ساتھ ” پیا” کے نام کی مہندی اترنے لگتی ہے. اور اس کی خوشبو بھی ماند پڑ جاتی ہے. اور آہستہ آہستہ وہ زندگی کے رنگ میں ڈھل جاتی ہے اور “رنگ حنا” مٹ جاتا ہے
    20.07.17