ہوتا ہے شب وروز تماشامیرے آگے

” ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے ”
دنیا کیا ہے ؟؟؟ صرف فانی اور لاحاصل مقام ،جہاں شب وروز کے بدلتے اطوار نے وجود لاریب کے دل میں اس کی ہوس پیدا کردی ہے. ہر طرف کی بکھری رعنائی محض عارضی ہے لیکن پھر بھی انسان کیلیے طلب اور کشش کا موجب ہے. یہاں بدلتی رتوں، اور دوپل کے اجالوں اور باطل امید کے قمقموں نے اس کیلیے مقابلے کی دوڑ لگادی ہے. ان تمام جھوٹی اور مصنوعی چیزوں نے ایک تخیلاتی حسین دنیا اس کے رگ و  ریشہ میں سجادی ہے

ان تمام باطل معبودوں کے حصار میں پھنسا انسان لاکھ کوشش کے باوجود نہیں نکل سکتا. اس بے ثبات دنیا کی اندھا دھند تقلید نے انسان کو لاچار اور بے بس کردیا ہے. وہ نہ صرف اپنے معاشرہ اور اہل و عیال کے لئے باعث پریشانی ہے، بلکہ خود اپنے لئے بھی عبث اور بیکار زندگی گزار رہا ہے

حکو مت و تخت و تاج کی دوڑ اور ہوس نے لاکھوں، کڑوڑوں انسانوں کو نگل لیا ہے. پچھلی اقوام میں جب جاہلیت کا دور دورہ تھا، تو کبھی پانی پلانے پہ جھگڑا، کبھی قصاص پہ جنگیں، کبھی گھوڑا بڑھانے اور کبھی زمین اور جھوٹی عزت و انا پہ جھگڑا معمول تھا. جس نے معمولات زندگی کو خراب کر کے وحشت و بربریت کی فضا قائم کر رکھی تھی. عزت ، مال ودولت، گھر اور مکان حتی کہ حشرات الارض اور اراضی بھی محفوظ نہیں تھی

مولانا حالی نے کیا خوب نقشہ کھینچاہے

“کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا ، کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
لب جو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا، کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا”

جاہلیت سے آگے بڑھ کر عقلیت کے دور میں جھانکیں تو سوالوں کے سمندر میں طغیانی پیدا ہوجاتی ہے. کیا ہم دور جاہلیت سے نکل چکےہیں؟؟ کیا ہم جنگ و جدل سے باز آچکے ہیں؟؟ کیا ہوس اور لالچ کے چنگل سے آزاد ہیں؟؟ کیا ہم آگے بڑھنے کیلئے اپنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں؟؟ کیا آج عورت کی عزت وحرمت کی پاسداری ہے؟؟ کیا آج غلامی کی زندگی گزارنے پہ مجبور و بے کس لوگ نہیں موجود؟؟ کیا آج اعضاء کا مثلی نہیں کیا جاتا؟؟ کیا آج معصوم بچے بیچے اور خریدے نہیں جارہے؟؟ کتنے ہی لاتعداد سوالات ہیں جو کہ نام نہاد عقل کے ٹھیکیداروں کی عقل کا جنازہ اٹھاتے ہیں . لیکن ان وراثتی عقل مند اور دانشمند بے تاج بادشاہوں کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی

آج زمانہ جاہلیت سے زیادہ انسان ہوس اور حرص کا شکار شیطان کا پجاری ہے. جھوٹے علم و عقل کے دعویداروں نے جاہلیت سے بھی چار قدم آگے بڑھا لیا ہے. ہلاکو خان، ہٹلر، ہیرو شیما، دو بڑی عالمی جنگیں اور آئے دن شرق و غرب میں پھیلی لڑائی آخر کس لئے ہے؟؟ صرف اور صرف اقتدار کی جنگ ہے. دوسروں کو نیچا دکھانے کی جنگ ہے. اپنی ذات کی جھوٹی تسکین ہے . برما، عراق، ایران، افغانستان، الجزائر ، پاکستان ، ہندوستان، کشمیر اور فلسطین جیسی بےشمار جنگیں ان کی جاہلیت اور بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہیں. لیکن حکمران ہیں کہ بے خبری کی تصویر بنے کھڑے ہیں. آج بھی مذہب کے نام پر مذہب اور دین کے ٹھیکیداروں نے خون سے ہولی کو اپنا مشغلہ بنالیاہے. آج بھی معصوم و بے قصور عوام ڈرون حملوں اور خانہ جنگی کا شکار یے. کہیں قبائل کی جنگیں، کہیں پانی کی تقسیم، کہیں ریاست کی تقسیم ، کہیں اپنے تخت و تاراج کی جنگ اور کہیں مقدس مقامات کی آڑ میں اپنی ہوس پوری کی جارہی ہے

دنیا کے یہ شب وروز ہمارے سامنے ہونے کے با وجود ، آج ہم سب بے بسی کی مورت بنے صرف محو تماشا ہیں. کیونکہ آج بھی ہم اپنی ذات کو بچا رہے ہیں. کیونکہ ہم سب کو اپنی جان اور عزت و آبرو کی فکر ہے. ہم سب آج اپنی چھوٹی خوشیوں کی آس میں اجتماعیت سے دور بھاگتے ہیں. اتفاق اور اتحاد کی کمی نے ہمارے ایمان کو محض کھلونا بنا دیا ہے. نہ ہندو، نہ عیسائی، نہ یہودی ، پارسی اور نہ ہی مسلمان کوئی بھی مکمل کیا معمولی سا بھی اپنے اپنے دین و مذہب کی پیروی نہیں کررہا. ہر کوئی صرف وقت کے بادشاہ کا غلام ہے.

ہندوستان میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا، انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے. امریکہ دنیا پر اپنے دجالی رنگ کا سکہ چمکائے بیٹھا ہے. روس تمام بے پر کی سرکار کا پشت پناہ ہے اور اصل الفساد ہے. سرزمین نبوت پر جاہلیت سے بڑھ کر بادشاہت اور ظلم کاراج ہے. اور نام نہاد اسلامی ملک پاکستان اسلام کو آلہ کار بناکر لاکھوں مسلمانوں کو موت کی آغوش میں بھیج چکا ہے. اسلام تو امن اور سلامتی کا دین ہے لیکن اسلام کے جھوٹے ٹھیکیداروں اور جنتی سرٹیفیکیٹ دینے والوں نے اسلامی تعلیمات کو پامال کردیا ہے. کفر کے فتوے سر عام بک رہے ہیں. جب چاہے کوئی کسی کو کافر بنادے. کسی کی پتلون پر، کسی کی داڑھی پر اور کسی کے خضاب لگانے پر وغیرہ. غرض یہ کہ زمانہ جاہلیت میں ترقی کی منازل طے کررہے ہیں
کبھی سلمان تاثیر کو کافر قرار دے کر ، کبھی صابری کو ، اور کبھی مشال کو کفر کے فتووں میں لپیٹ کر ابدی نیند کی گولی دے دی. اور خود جنت کے وارث بن گئے . حیرت اور افسوس ہے کہ کیا یہی انسانیت ہے؟؟ کیا ان کا ضمیر مر چکا ہے؟؟ کیا یہ شر الفساد نہیں ؟؟ کیا یہی اسلام ہے ؟؟ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی سر بلندی کیلئے ایک آزاد مملکت حاصل کی

کیا اعلی پایہ کے لوگ ہیں کہ جن کو دلوں کا حال بھی معلوم ہے. کتنے معصوم لوگوں کی نیتوں کا حال جان کر وہاں خود کش حملہ کرنے سے جنت کی خوشخبری دیتے ہیں. کیا اسلام میں خود کشی کا انعام جنت ہے؟؟ کیا مظلوم اور نہتے لوگوں کا قتل عام جنت کی رسید ہے؟؟ کیا یہ سب دعویدار جنت تقسیم کرتے ہیں ؟؟ دکھ ہوتا ہے ان کی عقل پر، ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے . لیکن ہماری عوام کو تیل میں لپٹے چمڑے کھانے کے ساتھ ساتھ پیاز بھی کھانے کا مزہ آتا ہے. عوام کی ہی زمین لوٹ کر اسی پہ گھر بنوانے کے وعدے دل کو لبھاتے ہیں. بم دھماکوں میں مرنے والوں کے لواحقین کیلیے اپنی جانوں کی قیمت لاکھ دو لاکھ ہے. بوسیدہ اور ناقص تعمیری کام کی وجہ سے آسمانی آفات میں تباہ ہونے والوں کے لئے جھوٹے وعدے ہی سب کچھ ہیں. کاروکاری میں ماری جانیوالی مظلوم اور بےگناہ عورتوں کی خبروں پر پیسہ کمایا جاتا ہے. موت کے بعد بولنا کہاں کا انصاف ہے. کیوں ضمیر مر گیا ہے . کیوں آج پولیس آفیسر سچ بولنے پہ معطل یا بم دھماکے میں اڑا دیا جاتا ہے
کبھی کسی نے نہیں سوچا کہ لڑائی میں امریکہ کے صدر کے خاندان کو نقصان ہوا، نہ ہی کبھی روس، پاکستان اورہندوستان وغیرہ کہیں پر بھی کسی سیاست دان اور اس کے خاندان کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا. سوائے ان کے جن کو یہ خود آپس میں اقتداد کی جنگ میں اڑا دیں

آج کا بچہ بچہ یہ پیرو جوان اس بات کی زندہ مثال ہے کہ انکا ضمیر مر چکا ہے یا وہ بک چکے ہیں. آج صرف دنیا ایک تماشا بنی ہوئی ہے جس میں ہر کوئی دانستہ اور نادانستہ قصوروار ہے . آج اس فانی اور لاحاصل دنیا میں ناخداؤں کے پیچھے خدا کو بھلا بیٹھے ہیں . زمانہ جاہلیت سے بڑھ کر کفر وشرک میں مبتلا ہیں . توحید کی باریک راہوں پر قدم مارتے انسانیت اور علم وعمل کی روشن مثال بننے کی بجائے جہالت کے مینار کھڑے کر رہے پیں

نتیجۃً لالچ اور حرص وہوس نے صرف بھوک سے بلکتے بچے اور ممتا کو ترستے بچے پیچھے چھوڑے ہیں. یہ آج بے سہارا کھلے آسماں تلے باپ کی شفقت اور محبت کو ترس رہے ہیں اور دور دور تک کوئی پرسان حال نہیں. یہ لاغر اور کمزور اعصاب پر اگلی نسلوں کی باگ دوڑ ہے. سوچنے کی بات ہےکہ کیا اگلی نسل معذور ہوگی؟

کاش کہ آج نفس جاگ جائے اور ضمیر کی آواز بلند ہو اور تخت و تاراج پارہ پارہ ہو کر توحید کا علم لہرایا جائے اور کوئی پتھر کی مورت بن کر محو تماشا نہ رہے. امین

“اب اس قدر بھی یہاں ظلم کو پناہ نہ دو
یہ گھر گرا ہی نہ دے دست – غائبانہ کوئی “

صابر ظفر

ریشہ تھریڈز

Earlene

TRUE PERSON, BLOGGER, WRITER, POET, EXPERT IN PHOTOSHOP AND VIDEO MAKING, GRAPHIC DESIGNER, CREATIVE DESIGNER, BOUTIQUE AND FASHION DESIGNER

Leave a Reply

  • (will not be published)