ماں کی موت یا مدرز ڈے تقریباتـ

                                “ماں کی موت یا مدرذ ڈے تقریبات”

ماں ” اُمٌّ ” سے ہے یعنی ” جڑھ یا اصل” ۔ اپنی یا کسی کی جڑھ کاٹنا یا مٹادینا کیا خود کی ، اور نسل انسانی کی بقا ہے؟؟
پر یہ کیا ہے؟؟ کسی کو ماں کی موت کا دکھ دیا جائے۔ اپنی ماں ہوتے ہوئے بھی، جذبات واحساسات کا خون ۔ کہیں اپنی ماں کو غم کی اندھیر کوٹھری میں دفن کردینا، کہیں درو دیوار کے ساتھ تنہا باتیں کرنے کے لئے چھوڑ دینا، کبھی پاگل خانوں کو ان ممتا سے بھرے وجود سے آباد کردینا، تو کبھی ماں سے دور دیسوں میں جاکر فون تک نہ کرنا کہ ممتا کی آگ ٹھنڈی ہوجائے۔ کہیں ماں کو جاہل، گوار کے طعنے دے کر ممتا کے وقار کو جلا دینا اور اس محسن کےاحسانات کوروند دینا جو اس کو دنیا میں لانے کا سبب بنی۔

کتنے ظالم اورسفاک لوگ ہیں جو اتنی آسانی سے ماں کو موت کی نیند کی سلادیتے ہیں؟؟ بے دردی سے ماؤں کو قتل کرکے کتنے لاوارث اور بلکتے بچے پاؤں میں روند جاتے ہیں۔ کہیں معصوم اور بے سہارا بچوں کو مار کر بے دردی سے ان کے نازک جسموں کو نوچ کر ممتا کی روح تک زخمی کردیتے ہیں۔ کیا ان کو ماں یا ممتا کا کوئی احساس نہیں۔

آج کتنے لوگ جگہ جگہ ماں کا عالمی دن منارہے ہیں۔ کیا ماں کی ممتا ایک دن کی محتاج ہے؟ کیا یہ آج کے بعد اس ماں کو ملیں گے یا اولڈ ہاؤسز میں صرف آج پھول لیکر جانا ہے۔ یا نت نئے کارڈز دینے ہیں۔ یا آج میری ماں، میری ماں اور ” ہیپی مدرز ڈے ” کا نعرہ لگا کر اور تصاویر لگاکر دنیا کو دکھانی ہیں کہ کون سب سے پہلے ٹویٹ یا پوسٹ کرتا ہے۔

اسلام نے تو علی الاعلان یہی نعرہ بلند کیا ہے. اور جنت کی بشارت ہی ماں کے قدموں نیچے ہے۔
حسن کائنات اور سید المرسلینؐ ہمارے آقاومولی فرماتے ہیں کہ” اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُ مَّھَاتِ”۔ یعنی جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔

جنت عارضی خوشی اور رسمی محبت اور رواج کا نام نہیں ہے۔ کہ ایک دن اکٹھے ہوئے اور جنت کی رسم کشائی ہوگئ۔ نہ ہی یہ کوئی عارضی ٹھکانہ ہے کہ کبھی لے لی اور کبھی ترک کرکے آگئے۔

جنت تو ایک دائمی خوشی اور محبت اور خدائی احکامات کے بجا لانے کے بعد اک مستقل ٹھکانہ ہے جہاں خدا کے رحم اور فضل کی نہریں بہتی ہیں۔ جو کہ چھن جانے والی یا ترک کرنے والی نعمت نہیں ہے۔

بالکل ایسے ہی ماں کی محبت اور ممتا پل دو پل کی کہانی نہیں ہے بلکہ عمر بھر کی ٹھنڈک اور سکون کا احساس ہے۔ ماں اک ایسا شجر ہے جو سایہ دار ہے ، دنیا کی دھوپ اور تکان کا احساس اس کے حصار میں ختم ہوجاتا ہے. کیونکہ کمزور سے کمزور ماں بھی اپنی اولاد کے لئے طاقت ور وجود ہے۔ کیونکہ وہ اس نے رحم اور محبت کا حصہ اپنے رب سے پایا ہے۔

لیکن آج کل اس معاشرہ میں بڑھتی مادیت کی جنگ نے احساسات کے سمندر میں سکوت طاری کردیا ہے۔ جنگی اور دہشت گردی کی کاروائیاں اور ذاتی لالچ اور حرص نے ممتا اور ممتا سے جڑے رشتے ناپید کردیئے ہیں ۔ نفسا نفسی کاعالم ہے کہ چند روپوں کی خاطر کوئی کسی کی گود ویران کردیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں قبر کی نظر کردیتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ رشتوں میں جمود طاری ہوگیا یے ۔

کاش کہ اس خوبصورت کائنات میں ، میں ،آپ اورہم سب ماں کی ممتا 365 دن یاد رکھیں اور بجائے یہ دن کے منانے کے ہر ماں کے لئے راحت وآرام کا سبب بنیں. چاہے وہ کسی کی بھی ماں ہو۔اور اپنی جڑھ اور اصل سے تعلق رکھیں تا کہ زمین پر چل سکیں ۔ کیونکہ اگر جڑھ کاٹ دی تو ہم خود ، ہماری شناخت مٹ جائے گی۔

یاد رکھیں کہ جنت میں ماں کے نام سے پکارا جاتا ہے. یہ نہ ہو کہ بن ماں کہلائیں۔

ریشہ تھریڈز
14.5.17

 

 

 

 

Earlene

TRUE PERSON, BLOGGER, WRITER, POET, EXPERT IN PHOTOSHOP AND VIDEO MAKING, GRAPHIC DESIGNER, CREATIVE DESIGNER, BOUTIQUE AND FASHION DESIGNER

Leave a Reply

  • (will not be published)